سیاسی لیڈروں کومذاکرات کیلئے مدعوکروﺅنگا
عوامی سطح پرگفت وشنیدہی جموں وکشمیرمیں اعلیٰ سطح سیاسی مذاکرات کی بنیاد
اگرکسی کومیرے پاس آنے میں ہچکچاہٹ ہوتومیں اُسکے پاس خودجاﺅنگا:ریاستی گورنر
سری نگر:53سال کی طویل مدت کے بعدمرکزکی جانب سے کسی سیاسی شخصیت کوجموں کشمیرکاگورنرمقررکیاگیا۔خیال رہے 1947میں تقسیم ریاست کے بعدجموں وکشمیرمیں ڈوگرہ مہاراج ہری سنگھ کے فرزندیوراج ڈاکٹرکرن سنگھ نے راج گدی سنبھالی اورپھروہ 17نومبر1952سے30مارچ 1965تک صدرِریاست یاجموں وکشمیرکے صدررہے،تاہم صدرریاست کاعہدہ ختم کئے جانے کے بعدجن 12شخصیات کودلی سے گورنربناکریہاں بھیجاگیا،اُن میں سے کوئی سیاسی لیڈرنہیں تھا۔
تاہم اب جاکریہ طویل سلسلہ ٹوٹ گیااورسابق مرکزی وزیروسابق ممبرپارلیمنٹ ستیہ پال ملک کوریاست کا13واں گورنرتعینات کیاگیاہے۔توایسی اُمیدکی جارہی ہے کہ اب جموں وکشمیرکی صورتحال اوراس ریاست سے جڑے مسائل کوسیاسی طورپرسلجھانے کی سنجیدہ پہل کی جائیگی۔کشمیر نیوزنیٹ ورک مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق 23،اگست کواین این ووہراکی جگہ ریاستی گورنرکاچارج لے چکے 71سالہستیہ پال ملک نے سوموارکونئی دہلی میں صدرہندرام ناتھ کووینداوروزیراعظم ہندنریندرمودی کیساتھ الگ الگ ملاقاتوں کے بعداسبات کاواضح اشارہ دیاہے کہ وہ ریاست میں سیاسی پہل کی شروعات کرنے کے خواہشمندہیں ۔
صدراوروزیراعظم کیساتھ ملاقاتوں کے بعدجموں وکشمیرکے13ویں گورنرستیہ پال ملک نے انگریزی اخبار’ہندﺅ‘کودئیے انٹرویومیں یہ اشارہ دیاہے کہ وہ مختلف سطحوں پربات چیت،گفت وشنیداورمذاکرات کاعمل شروع کرناچاہتے ہیں ۔گورنرستیہ پال ملک نے کہاہے کہعوامی سطح پرگفت وشنیدہی جموں وکشمیرمیں اعلیٰ سطح مذاکرات کی بنیادفراہم کرسکتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ جب عام لوگوں سے بات چیت ہوگی تومذاکراتی عمل کی ایک بنیادفراہم ہوگی کیونکہ عوام سے بات کرناہی مذاکرات کی اصل وکارگربنیادہے۔گورنرستیہ پال ملک کاکہناتھاکہ نچلی یاعوامی سطح پرگفت وشنیداوربات چیت کے بعدہی ہم اعلیٰ سطحی سیاسی مذاکرات کرسکتے ہیں ۔
ستیہ پال ملک کاکہناتھاکہ ”میں سیاسی لیڈروں کوبات چیت کیلئے مدعوکروﺅنگااورجن سیاسی لیڈروں کومیرے پاس آنے میں کوئی ہچکچاہٹ ہوگی ،میں خوداُنکے پاس جاﺅنگا۔گورنرکاکہناتھاکہ کوئی پروٹوکال اُنھیں یہ عمل شروع کرنے سے نہیں روک سکتا۔انہوں نے کہاکہ میرامشن ریاستی عوام تک پہنچناہے تاکہ میں اُنکی تکالیف اورمشکلات کوسنو ں اورپھرمجھے سے جتنابن پائے میں اُنکے فائدہ اورمفادات کیلئے کرﺅں“۔ستیہ پال ملک کامزیدکہناتھاکہ ’میں ایک سیاستدان ہوں جو گورنر کے طور پر مقرر کیا گیا ہوں، لیکن میں جموں اور کشمیر میں سیاست سازی کے لئے نہیں ہوں‘۔
اس دوران بھاجپاکے قومی جنرل سیکرٹری رام مادھونے کہاہے کہ ستیہ پال ملک پیشے اورتعلیمی قابلیت کے اعتبارسے ایک وکیل ہیں اورایک سیاستدان کے بطوراُنکے پاس پارلیمانی امورکاچاردہائیوں پرمحیط تجربہ بھی ہے۔رام مادھوکے بقول ستیہ پال ملک سابق وزیراعظم وی پی سنگھ کی کابینہ میں کابینی وزیررہے،اورتب پارلیمانی امورات اورسیاحت کی وزارتوں کاقلمدان اُنکے پاس تھا۔بھاجپالیڈرکے مطابق ستیہ پال ملک جموں وکشمیرمیں بطورگورنرایک موزون ترین شخصیت ہیں ۔رام مادھوکے بقول ستیہ پال ملک مذاکراتی عمل شروع کرانے کیلئے موثرمذاکراتکارثابت ہونگے۔
Comments are closed.