طے شدہ احتجاجی پروگراموں کا سلسلہ جاری رہے گا:مشترکہ مزاحمتی قیادت

سرینگر:: مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے اپنے ایک مشترکہ بیان میںبھارت کے سپریم کورٹ میں جموںوکشمیر کے اسٹیٹ سنجیکٹ قانون کے حوالے سے 31 اگست کو ہو رہی سماعت کے ضمن میں 30 اور31 اگست کو قیادت کی جانب سے دی گئی ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کے پروگرام کو دہراتے ہوئے کشمیری عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ انتہائی نظم اور ضبط کے ساتھ قیادت کی جانب سے دیئے گئے احتجاجی پروگرام پر من وعن عمل آوری کو یقینی بنائیں اور پوری دنیا پر واضح کریں کہ وہ اپنے مفادات کیخلاف ہو رہی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، تاہم اس دوران مختلف تجارتی و سماجی انجمنوں اور اداروں اور تنظیموں کی جانب سے طے شدہ احتجاجی پروگراموں کا سلسلہ جاری رہیگا۔

قائدین نے واضح کیا کہ State subject law کا چونکہ ہمارے سیاسی مستقبل سے براہ راست تعلق ہے لہٰذا اس قانون کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہونگے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر 31 اگست کو ہونے والی سماعت کے نتیجے میں ایسا کوئی فیصلہ سامنے آتا ہے جو یہاں کے عوام کے مجموعی مفادات کے منافی ہوتو عوام ایک ہمہ گیر اور منظم احتجاجی تحریک کیلئے تیار رہیں ۔

انہوں نے کہا کہ آج جبکہ بھارت کی چند ٹی وی چینلوں سے یہ خبر نشر کی گئی کہ بھارت کے سپریم کورٹ میں35 A کے حوالے سے سماعت ہو رہی ہے تو اس خبر کے پھیلتے ہی جس طرح کشمیر کے طول و عرض میں لوگ آناً فاناً سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے لگے وہ بھارت کے ارباب اقتدار کیلئے چشم کشا (Eye opener) اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کشمیری عوام اس مسئلہ کے حوالے سے کس قدر حساس ہےں اور یہ کہ وہ اپنے مفادات کیخلاف کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کیلئے من حیث القوم کوئی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے ۔

انہوںنے واضح کیا کہ کشمیر میں استعماری حربوں سے عبارت اسرائیلی طرز کی کسی بھی پالیس کو عملانے کی اجازت نہیں دی جائیگی اور نہ کشمیر کو دوسرا فلسطین بنانے کی مذموم پالیسیاں کامیاب ہونے دی جائیں گی۔

ٍٍ سید علی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے اسلام آباد، کولگام ، شوپیاں ، ترال ، گاندربل اور وادی کے دوسرے علاقوںمیں نہتے مظاہرین کیخلاف طاقت اور تشدد کے استعمال جس کے نتیجے میںدرجنوں افراد زخمی ہوئے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پر امن عوامی احتجاج کو طاقت اور تشدد کے بل پر کچلنا حکمرانوں کی پالیسی بن گئی ہے اور حکمرانوں نے تمام جمہوری اور اخلاقی قدروں کو بالائے طاق رکھ کر اپنی فورسز کو لوگوں کو ہر طرح کے مظالم ڈھانے کی چھوٹ دے رکھی ہے تاہم طاقت اور قوت کے بل پر عوامی تحریکوںکو دبانے کا یہ عمل نہ تو ماضی میں کامیاب ہو سکا ہے اور نہ آئندہ اس طرح کے غیر جمہوری اور غیر انسانی ہتھکنڈوں سے یہاں کے عوام کی جائز آواز کو دبایا جاسکتا ہے۔

Comments are closed.