مین سٹریم جماعتیں وزیر اعظم کے سامنے مستحکم طریقے سے اپنی پوزیشن واضح کریں
سرینگر: سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوزنے کہا ہے کہ کشمیر کے لوگوں نے آئین ہند کی دفعہ 35اے کی حفاظت کے لئے بے مثال یکجہتی کا ظاہر کیا ہے۔
ان کا کہناتھا کہ یہ ایک خوشی کی بات ہے کہ جموں اور لداخ میں بھی بعض طبقوں کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ آئین ہند کی دفعہ35اے کو کسی بھی صورت میں ریاستی عوام کی مرضی کے خلاف منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ریاست میں مین سٹریم جماعتوں نے ابھی تک پریس میں اس بارے میں اپنے خیالات ظاہر کرنے پر ہی اکتفا کیا ہے۔ مگر اس کے تحفظ کےلئے کوئی کارگر حکمت عملی نہیں اپنائی ہے۔ ان کا کہناتھاکہ اس سلسلے میں میرا مشورہ مین اسٹریم جماعتوں کےلئے یہ ہوگا کہ وہ اپنی پوزیشن کو براہ راست وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے سامنے ایک میمورنڈم کی صورت میں رکھیں تاکہ حکومت ہند کو آئین ہند کی دفعہ 35اے کے بارے میں مضمرات سے پوری آگاہی ہو جائے اور یہ بھی پتہ چلے کہ اگر کشمیر کے لوگوں کو اس سلسلے میں کسی آزمائش میں ڈالا جائے گا تو اُس کے نتائج تباہ کن ہوں گے!۔
انہوں نے کہا کہ مین اسٹریم جماعتیں وزیر اعظم کو براہ راست یہ بات بھی بتا سکتے ہیں کہ اس بارے میں حکومت ہند سے کم از کم یہ توقع ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے پاس دفعہ 35اے کے بارے میں اپنا ارادہ ظاہر کرے گی۔ دور سے تماشائی بن کر سپریم کورٹ کے پاس اپنا ارادہ ظاہر نہ کرتے ہوئے حکومت ہند غلط اقدام کر رہی ہے ۔ ان کا کہناتھا کہ فی الحال یہ خوش آئند بات ہے کہ ریاستی حکومت نے دفعہ35اے کے بارے میں صحیح راستہ اختیار کیا ہے۔“
Comments are closed.