دفعہ 35 اے کے دفاع کےلئے فیصلہ کن قانونی جنگ کی تیاریاں
آرٹیکل35Aکے مخالفین اورطرفدارعرضی دہندگان کی قانونی مشاورت
سری نگر:سپریم کورٹ آف انڈیامیں آئین ہندکی خصوصی دفعہ35Aکادفاع کرنے کیلئے ریاستی سرکار،پی ڈی پی ،نیشنل کانفرنس ،سیول سوسائٹی ،کشمیربارایسی ایشن کے ساتھ ساتھ صدارتی حکمنامہ کے ذریعے 1954سے لاگواس اہم آئینی دفعہ کی منسوخی کیلئے کوشاں کم سے کم چارعرضی دہندگان کے قانونی صلاحکاروں نے بھی مشاورت تیزکردی ہے ۔
معلوم ہواکہ نیشنل کانفرنس نے اپنی دائرکردہ مداخلتی درخواست کی پیروی کیلئے سابق سولسٹرجنرل آف انڈیااورسرکردہ قانون داں ایڈووکیٹ سب گوپال ھرامنیم کی خدمات حاصل کرلیں ۔ نیشنل کانفرنس کے صدرڈاکٹرفاروق عبداللہ نے نئی دہلی میں سابق سولسٹرجنرل آف انڈیاایڈووکیٹ گوپال سبھرامنیم کیساتھ اہم ملاقات کی ،اورملاقات کے دوران ڈاکٹرفاروق نے ایڈوکیٹ سبھرامنیم کواسبات کیلئے راضی کرلیاکہ وہ سپریم کورٹ میں نیشنل کانفرنس کی جانب سے دفعہ35-Aکے حوالے سے دائرکردہ مداخلتی درخواست کی پیروی کریں گے ۔
این سی ترجمان نے اس اہم پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ ہمیں قانونی جنگ لڑنے کیلئے ایک ماہراورسینئرقانون داں کی ضرورت تھی ،اسی لئے ایڈووکیٹ گوپال سبھرامنیم کیساتھ ڈاکٹرفاروق نے ملاقات کی اورطویل تبادلہ خیال بھی کیا۔ترجمان نے کہاکہ سابق سولسٹرجنرل نے اسبات پررضامندی ظاہرکردی کہ وہ عدالت عظمیٰ میں نیشنل کانفرنس کی دائرکردہ مداخلتی درخواست یاIntervention Pleaکی پیروی کریں گے ۔
این سی ترجمان نے بتایاکہ ایڈووکیٹ سبھرامنیم صرف سابق سولسٹرجنرل آف انڈیاہی نہیں رہے ہیں بلکہ وہ بارکونسل آف انڈیاکے سابق صدربھی ہیں ،اوراُنھیں آئینی معاملات پرکافی دسترس حاصل ہے۔اس دوران این سی ترجمان نے پارٹی صدر کے حوالے سے کہاکہ ڈاکٹرفاروق نے واضح کیاکہ اُنکی جماعت دفعہ35Aکاکامیابی کیساتھ دفاع کرنے کیلے پُرعزم ہے۔انہوں نے کہاکہ نیشنل کانفرنس جموں وکشمیرکوحاصل خصوصی آئینی پوزیشن اورریاستی عوام کوحاصل خصوصی شہریت وآئینی حیثیت کادفاع کرنے کیلئے بھرپورجدوجہدجاری رکھے گی۔
اس دورا ن معلوم ہواکہ ریاستی سرکارکے مقررکردہ قانونی صلاحکارایڈووکیٹ شعیب عالم نے بھی اپنی ٹیم میں شامل وکلاءکیساتھ دفعہ35Aے مختلف پہلوﺅں اورنکات پرتبادلہ خیال جاری رکھاہے تاکہ دفعہ35Aکیخلاف وی دی سٹیزن سمیت کم سے کم چارمختلف پارٹیوں کی جانب سے دائرعرضیوں کاقانونی اورآئینی داﺅپیچ سے مقابلہ کیاجاسکے ۔بتایاجاتاہے کہ ریاست کے نئے گورنرست پال ملک نے گرچہ ابھی تک کھل کراس نازک آئینی معاملے پرکوئی رائے زنی نہیں کی ہے تاہم انہوں نے یہ حساس معاملہ کچھ مشیروں اورریاستی انتظامیہ کے کچھ اعلیٰ حکام کیساتھ زیرغورلایا۔خیال رہے دفعہ35Aکیخلاف دائرچارعرضیوں کے مقابلے میں 11مداخلتی دراخواستیں سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ہیں اورعدالت عظمی کاسہ رکنی بینچ ممکنہ طورپررواں ماہ کی 31تاریخ کوجموں وکشمیرسے جڑے اس اہم وتاریخی آئینی معاملے کی سماعت کررہاہے ۔اُدھرپی ڈی پی نے سپریم کورٹ میں دفعہ35Aکادفاع کرنے کیلئے سینئرلیڈراورنامورقانون داں ایڈووکیٹ مظفرحسین بیگ کی سربراہی میں ایک لیگل یاقانونی سیل قائم کی ہے ۔پی ڈی پی کے ایک لیڈرنے بتایاکہ پارٹی صدرنے اس حساس معاملے پرمظفرحسین بیگ کیساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہاکہ دفعہ35Aکادفاع کرناہماری اخلاقی ذمہ داری ہے اورہمیں اپنی یہ ذمہ داری ریاست اورریاستی عوام کی بھلائی کیلئے انجام دیناہوگی۔پی ڈی پی لیڈرکے بقول مظفرحسین بیگ نے حالیہ کئی دنوں کے دوران دفعہ35Aکیخلاف دائرعرضیوں کاجائزہ لینے کیساتھ ساتھ ماضی میں کم سے کم دومرتبہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی آئینی بیچ کی جانب سے ایسی ہی عرضیوں کوخارج کئے جانے سے متعلق فیصلوں کابھی جائزہ لیاتاکہ اسبات کااندازہ لگایاجاسکے کہ ماضی میں نامنظورکی گئی درخواستوں اورزیرسماعت عرضیوں میں کیافرق یامماثلت ہے۔اس دوران کشمیربارایسوسی ایشن کی ٹیم بھی دفعہ35Aکیخلاف دائرعرضیوں کاجائزہ لینے میں مصروف عمل ے تاکہ سپریم کورٹ میں دائرعرضیوں کاقانونی اورآئینی طورپربہتراندازمیں مقابلہ اورتوڑکیاجاسکے ۔
کشمیربارایسوسی ایشن کے ایک سینئرممبرنے بتایاکہ سینئرقانون داں ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم اورایڈووکیٹ ظفراحمدشاہ نے دفعہ35Aسے جڑے آئینی پہلوﺅں اوراس منفردقانون کے تاریخی پہلوﺅں کابھی جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ بقول مذکورہ بارممبردفعہ35Aکوئی نیاقانون یاآرٹیکل نہیں ہے بلکہ اس کی ایک تاریخ ہے کیونکہ یہ قانون ڈوگرہ مہاراج نے 1927میں پہلی مرتبہ لاگوکیاتھااورپھرسال1932میں اسی قانون کومزیدسخت بنایاگیا۔انہوں نے کہاکہ صدرہندنے مرکزی کابینہ کی سفار ش پرسال1954میں دفعہ35Aکوجس شکل میں لاگوکرنے کے احکامات صادرکئے ہیں ،یہ اُسی شکل میں ہے جوسال1932میں ڈوگرہ مہاراج نے بنایاتھا۔
دریں اثناءمعلوم ہواکہ وی دی سٹیزن نامی ایک غیرسرکاری انجمن سمیت دیگرعرضی دہندگان کے مقررکردہ قانونی صلاحکاروں نے بھی اپنے طورپردفعہ35Aکے اطلاق کے آئینی وقانونی پہلوﺅں کے بارے میں مشاورت تیزکردی ہے۔خیال رہے 31اگست کوہونے والی سماعت کے دوران اسبات کاامکان ہے کہ اُس روزچیف جسٹس آف انڈیاجسٹس دیپک مشراکی سربراہی والاسہ رکنی بینچ پہلے سبھی عرضی دہندگان ،ریاستی سرکار،موجودہ سولسٹرجنرل آف انڈیااورمداخلتی درخواسیں جمع کرنے والی کم سے کم 11پارٹیوں کے قانونی صلاحکاروں کے دلائل کوایک ایک کرکے سنے گاجسکے بعدعدالت عظمیٰ کاسہ رکنی بینچ اسبات کافیصلہ لے سکتاہے کہ آیایہ معاملہ آئینی بینچ کے سپردکیاجائے کہ نہیں ،یاکہ دفعہ35Aکیخلاف دائرعرضیوں کویہی تین رکنی بینچ نپٹائے۔
Comments are closed.