عیدالاضحی کی آمد: وادی بھر میں قربانی کے جانوروں کی منڈیاں سج گئیں

شوکت ساحل

دنیا کے دیگر حصوں کے ساتھ ساتھ کشمیر وادی میں عیدالاضحی کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں اور قربانی کی غرض سےوادی لائے جانے والے جانوروں کی منڈیاں جگہ جگہ سج گئی ہیں۔

عید گاہ سرینگر سمیت اندرون شہر میں چھوٹی موٹی منڈیاں لگائی گئی ہیں .یہاں عیدالاضحی پر دی جانی والی قربانی کے سلسلے میں خریداروں کی بڑی تعداد اتوار کو خریداری کرتی ہوئی نظر آئی .بدھ کو عیدالاضحی مذہبی جوش وخروش اور عیقدت واحترام کے ساتھ منائی جائیگی .

اب جبکہ عیدالاضحی یعنی عید قربان انتہائی عقیدت واحترام کیساتھ 22 اگست کومنائی جارہی ہے توسنتِ ابراہیمی کی پیروی کے خواہشمندلوگ بھیڑبکریوں اوردوسرے حلال جانوروں کی خریداری میں مصروف ہیں تاکہ ان جانوروں کی قربانی عیدالاضحی کے موقعہ پرانجام دے سکیں ۔

لیکن محکمہ خواراک ،رسدات وعوامی تقسیم کاری کی جانب سے قربانی کے جانوروں الخصوص مقامی ودرآمدی بھیڑبکریوں کی مقرریامشتہرکردہ قیمتوں کاکہیں کوئی پاس ولحاظ نہیں کیاجارہاہے ،جسکے نتیجے میں غریب اورمتوسط گھرانے سنت ابراہیمی پرعمل کرنے میں مشکلات کاسامناکررہے ہیں ۔

محکمہ خوراک،رسدات وعوامی تقسیم کاری کے ڈپٹی ڈائریکٹرسپلائزمحمد اسلم بھی مانتے ہیں کہ قربانی کے جانوروں کی خریدوفروخت میں توازن نہیں ہے،اوروہ اسے قربانی کے جانوروں کا کاروبارکرنے والو ں اور خریداروں کی من مانی یاعوامی جانکاری میں کمی کیساتھ جوڑکردیکھتے ہیں ۔

عیدقربان محض3روزبعدمنائی جائیگی تودنیاکے دوسرے خطوں وعلاقوں کی طرح ہی کشمیروادی میں بھی لوگ قربانی کیلئے مخصوص حلال جانوروں کی خریداری میں جُٹ گئے ہیں ۔

قربانی دینے کے خواہشمندلوگ بھیڑبکریاں ،بیل اوراونٹ خریدرہے ہیں لیکن ان سبھی جانوروں کی خریدوفروخت میں قیمتوں کاکوئی خیال نہیں رکھاجارہاہے،جسکے نتیجے میں بہت سارے غریب اورمتوسط گھرانے سنت ابراہیمی پرعمل کرنے میں دشواریوں کاسامناکررہے ہیں ۔

ایسے کئی لوگوں نے بتایاکہ جب وہ کسی قصاب ،کوٹھداروں ،بکروالوں اوردوسرے طبقوں کے پاس بھیڑبکریاں خریدنے کیلئے پہنچ جاتے ہیں تووہاں ایسے دام بتائے جاتے ہیں جوہماری مقدورسے کہیں زیادہ ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ قربانی کیلئے مقصودجانوروں خاص کرزندہ بھیڑبکریوں کیلئے حکام نے جوریٹ مقرراورمشتہرکی ہے ،اُس پرکوئی عمل کرنے کوتیارہی نہیں بلکہ ہم سے اضافی دام طلب کئے جاتے ہیں ۔

قابل ذکرہے کہ محکمہ خوراک،رسدات وعوامی تقسیم کاری کے ڈپٹی ڈائریکٹرسپلائزمحمد اسلم نے 13اگست کوقربانی کیلئے درکاربھیڑبکری کی جوریٹ لسٹ مشتہرکردی ،اُسکی رﺅسے زندہ بھیڑ(دلی)کی فی کلوگرام قیمت210روپے،زندہ بھیڑ(Merino)کی فی کلوگرام قیمت210روپے،بھیڑ(بکروال)کی قیمت فی کلو200روپے اورمقامی زندہ بھیڑکی قیمت فی کلوگرام200روپے مقررکی گئی ہے جبکہ بکری فی کلوکی قیمت190روپے فی کلومقررہے ۔

شہرسری نگراوروادی کے دوسرے علاقوں کے لوگوں نے محکمہ ھٰذاکے جاری کردہ ریٹ لسٹ کورسم خانہ پوری سے تعبیرکرتے ہوئے سوال کیاکہ اگرسرکارنے کوئی قیمت مقررکی ہے توسرکاری افسراسکاخیال کیوں نہیں کرتے ،اورکیوں یہ ذمہ دارلوگ جان کربھی بھیڑبکریوں کے اضافی قیمت اداکردیتے ہیں ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کشمیر میں سرکاری سطح پر قربانی کے جانوروں کی‌ منڈیاں قائم نہیں ہوتیں اور قربانی کے خواہشمندوں کو نجی سطح پر قائم کی جارہی قربانی کے جانوروں کی منڈیوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے.

قربانی کے عام خواہشمندلوگ مانتے ہیں کہ بھیڑبکریوں کے دام بے لگام ہونے کی کئی وجوہات ہیں ،جن میں سرمایہ داروں،بڑے تاجروں اورلاکھوں روپے تنخواہیں لینے والے افسروں کامنہ مانگادام اداکرنابھی ایک وجہ ہے جبکہ اسے بڑی وجہ یہ ہے کہ ریٹ لسٹ پرعمل درآمدکرانے میں محکمہ خوراک،رسدات وعوامی تقسیم کاری اوردوسرے متعلقہ محکمے کوئی کارروائی ہی نہیں کرتے ہیں ۔

قربانی کے چھوٹے جانوروں کی خریدوفروخت میں جاری بے ضابطگیوں کے بارے میں محکمہ خوراک،رسدات وعوامی تقسیم کاری کے ڈپٹی ڈائریکٹرسپلائزمحمداسلم کا کہنا تھا کہ ہم نے قربانی کیلئے زندہ بھیڑبکریوں کی ریٹ مقررکردی ہے اوریہ نرخنامہ مقامی اخبارات میں بھی قبل ازوقت مشتہرکروایاگیاہے تاکہ لوگ جان لیں کہ اُنھیں قربانی کیلئے یہ چھوٹے جانورخریدتے وقت کیا قیمت ادا کرنی ہے۔

انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے کچھ لوگ اضافی دام اداکردیتے ہیں ،اوراسی وجہ سے قیمتوں میں اعتدال یاتوازن نہیں رہ پاتاہے۔

محمداسلم کامزیدکہناتھاکہ ایک ذمہ دارشہری کبھی کسی چیزیاسامان کی اضافی قیمت ادانہیں کرتاہے ،اوریہ کچھ شہریوں کی غیرذمہ داری ہی ہوتی ہے جواشیائے خوردونوش کی قیمتیں اعتدال رنہیں رہتی ہیں ۔

محکمہ خوراک،رسدات وعوامی تقسیم کاری کے ڈپٹی ڈائریکٹرکاکہناتھاکہ قیمتوں اورمعیارپرنظررکھنے والے تین سرکاری محکموں نے خصوصی چیکنگ اسکارڈتشکیل دئیے ہیں جوبازاروں میں جاکردیکھتے ہیں کہ کہیں کسی چیزکے اضافی دام وصول تونہیں کئے جاتے ہیں ۔

انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ اگرسری نگریاکسی دوسرے علاقہ میں قربانی کیلئے مقصودبھیڑبکریوں کے اضافی دام وصول کئے جاتے ہیں یاکہ ان جانوروںکاکاروبارکرنے والے کوئی من مانی کررہے ہیں تواُن کے بارے میں متعلقہ محکموں یاپولیس کواطلاع فراہم کی جائے تاکہ قربانی کے جانوروں یاعیدکے موقعہ پرفروخت کی جانے والی دیگرغذائی اجناس کے کاروبارمیں بے ایمانی کے مرتکب تاجروں اوردوسرے طبقوں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔

ادھر وادی بھر کے عید گاہوں اور قصبوں کے مرکزی بازاروں میں چھوٹی بڑی قربانیوں کے جانوروں کی منڈیا سج گئی ہیں ،اتوار کو یہاں خرید وفروخت کا سلسلہ صبح سے ہی شروع ہوا.تاہم عید گاہ سرینگر وادی کشمیر کی سب سے بڑی منڈی تصور کی جاتی ہے .

قر بانی کے جانوروں کی مںڈیوں میں بھیڑ،بکرے ،دمے اور اونٹ بھی فروخت کئے جاتے ہیں .اونٹ بیرون ریاستوں سے کشمیر لائے گئے جو اس قربانی کے جاناروں کی منڈیوں کی زینت بنے ہوئے ہیں .

گوکہ سرکار نے قربانی کے جانوروں کی قیمتیں مقرر کی ہیں ،تاہم بائرس اور سیلرس میں قیمتوں پر گرم گفتاری کا عمل ہرجگہ دیکھنے کو مل رہا ہے ،کیونکہ بھیڑ کی قیمت ان منڈیوں میں 5 ہزار سے 12 ہزار تک لگائی جارہی ہے .
جہاں بازاروں میں قربانی کے جانوروں کی منڈیوں میں بھیڑ بھاڑ نظر آرہی ہے ،وہیں بیکری کی دکانوں پر بھی لمبی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملتی ہیں ،کیونکہ کشمیر عید کے تہواروں پر بیکریاں خریدنا ایک روایت بن چکا ہے .

عید جیسے تہواروں پر وادی کشمیر میں معروف بیکری دکاندر کروڑوں روپے کا کاروبار کرتے ہیں .عید کے موقعہ پر نئے کپڑے ،جوتے اور کراکری خریدنا بھی کشمیریوں کی شاپنگ فہرست کی ترجیحات میں رہتا ہے .

عید الفطرکی نسبت عیدالاضحی کے موقعے پر گوشت کی دکانوں پر کم بھیڑ دیکھنے کو ملتی ہے ،کیونکہ عید قربان کا گوشت ہمسایوں ،رشتہ داروں اور دوستوں میں تبرک کے بطور تقسیم کیا جاتا ہے .

گزشتہ دس روز کے دوران کشمیر میں وادی میں ایسے لوگ بھی نظرآرہے ہیں ،جو یتیموں اور بیوائوں کے لئے چندہ جمع کر تے ہیں ،تاکہ عید کی خوشیوں میں یہ بھی شامل ہوسکے.

Comments are closed.