عمران خان نے وزیر اعظم پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

اسلام آباد: پاکستان کے 22ویں نومنتخب وزیر اعظم عمران خان اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے۔عمران خان نے تقریب حلف برداری کے لیے خصوصی طور پر سیاہ رنگ کی شیروانی زیب تن کی ہوئی تھی۔

حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی، جہاں صدر مملکت ممنون حسین، عمران خان سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔یاد رہے کہ عمران خان کی تقریب حلف برداری کے باعث صدر ممنون حسین نے تین روزہ غیر ملکی دورہ پہلے ہی منسوخ کردیا تھا۔

عمران خان تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے 10 بجکر 5 منٹ پر بنی گالہ سے ایوان صدر پہنچے، جس کے بعد 9.30 بجے شروع ہونے والی حلف برداری کی تقریب کا آغاز 40 منٹ کی تاخیر سے ہوا۔

تقریب کے شروع میں قومی ترانے کی دھن بجائی گئی اور تمام شرکاء بصد احترام کھڑے ہوئے، جس کے بعد تلاوت کلام پاک سے تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

تلاوت کلام پاک کے بعد صدر مملکت ممنون حسین نے وزیر اعظم عمران خان سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔حلف برداری کے بعد ایوان تالیوں سے گونج اٹھا اور مہمانوں سے عمران خان کو وزیر اعظم بننے پر مبارک باد پیش کی۔

تقریب حلف برداری میں سابق نگراں وزیر اعظم جسٹس(ر) ناصر الملک، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان، غیر ملکی سفیر، 1992 میں عمران خان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے والے سابق کھلاڑی، فلم اسٹارز اور بھارت سے آئے مہمان سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو بھی شریک ہوئے۔

خیال رہے کہ عمران خان کی جانب سے وزیر اعظم کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے سابق بھارتی کرکٹر کپل دیو، سنیل گواسکر اور نوجوت سنگھ سندھو کو پاکستان آنے کی دعوت دی تھی، تاہم دو کرکٹر نے آنے سے معذرت کرلی تھی لیکن نوجوت سنگھ سدھو واہگہ بارڈر کے ذریعے 17اگست کو پاکستان آئے تھے۔

مہمانوں کی آمد
تقریب حلف برداری میں بڑی تعداد میں مہمان شریک ہوئے، اس سلسلے میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ ایوان صدر کی فضائی نگرانی بھی کی گئی تھی۔

عمران خان کی اہلیہ بشریٰ مانیکا بنی گالہ سے 4 گاڑیوں کے قافلے میں ایوان صدر پہنچی، اس دوران بنی گالہ سے ایوان صدر تک راستے میں سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے۔ایوان صدر میں شرکت کے لیے آنے مہمانوں اور اراکین اسمبلی نے سرکاری میڈیا سے گفتگو بھی کی۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میرا مطمع نظر تبدیلی تھا میں نے طویل سیاست کی اور اس نتیجے پر پہنچا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی) لوگوں کی توقعات پر پورا نہیں اتری اور لوگوں کو تحریک انصاف میں ایک امید نظر آئی۔

انہوں نے کہا لوگوں کو عمران خان کی نظر میں ایک امید نظر آئی اور تحریک اںصاف جو ایک نئی جماعت تھی اور میرا خیال تھا کہ ان کے ساتھ کھڑا ہوکر تبدیلی کے قافلے میں ایک ادنیٰ رکن بن جاؤں۔

پی ٹی آئی رہنما اسد عمر کا کہنا تھا کہ عمران خان مشکل فیصلے کرنے والے دلیر آدمی ہیں، وہ اپنی ذات کے لیے نہیں قوم کے لیے سوچتے ہیں اور کمزور طبقے کا خیال رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا جو فیصلے ہوں گے اور جس طرح کی پالیساں بنائی جائیں گی اس میں عمران خان کی دل کی آواز نظر آئے گی.سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے پارلیمنٹ ہاؤس میں سرکاری میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو لوگوں سے امیدیں ہیں۔

انہوں نے اپنے شاعرانہ انداز میں کہا کہ عمران خان وہ شخصیت ہیں جو ہمیشہ تاریخ رقم کرتے ہیں۔وزیرِاعظم کی حلف برداری کی تقریب میں مدعو کرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس تقریب میں شریک ہونا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔

سابق بھارتی کرکٹر نے کہا کہ عمران خان کی جو حکومت آئی ہے وہ پاکستان کی تقدیر بدل دے گی۔سابق پاکستانی کرکٹر وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ انتخابات کے بعد سب کے چہروں پر خوشی اور سکون ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ مستقبل میں ہمارا ملک ایک صحیح سمت میں ہوں گا اور آج ہم ایک تاریخ ساز دن کا حصہ بن رہے ہیں۔

عمران خان وزیر اعظم منتخب
خیال رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں عمران خان واضح اکثریت سے پاکستان کے 22ویں وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے۔

17 اگست کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قائد ایوان کے لیے ہونے والی رائے دہی کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عمران خان نے 176 اراکین کی حمایت حاصل کی۔

انہوں نے بتایا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو رائے دہی میں 96 ووٹ ملے۔

عمران خان کو پی ٹی آئی اراکین کے 151، ایم کیو ایم کے 7، مسلم لیگ (ق) کے 3، جی ڈی اے کے 3، بی این پی کے 4، بی اے پی کے 5، جمہوری وطن پارٹی اور عوامی مسلم لیگ کا ایک، ایک جبکہ 2 آزاد اراکین کے ووٹ ملے تھے جبکہ قانون کے تحت اسپیکر نے رائے دہی کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔

قومی اسمبلی کے قائد ایوان کے نتائج کے اعلان کے بعد مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے عمران خان کی نشست کے سامنے احتجاج کیا اور ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے لگائے تھے جبکہ تحریک انصاف کے ارکان نے بھی جوابی نعرے بازی کی تھی۔

Comments are closed.