ویڈیو: لوگ ذہنی اور فکری طور ہر طرح کے احتجاج کیلئے تیار رہیں :میرواعظ

سرینگرمیرواعظ عمر فاروق نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)کی جانب سے سرکردہ مزاحمتی قائدین سید علی گیلانی اور محمد یاسین ملک کو نوٹس بھیجے جانے اور پرانے فرضی کیسوںکو پھر سے زندہ کرکے ان کیسوں کے بل پر قیادت کو نشانہ بنانے کی کوششوںکو یہاں کے مزاحمتی قائدین اور عوام کو مرعوب کرنے کے اوچھے ہتھکنڈے قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان ہتھکنڈوںکا مقصد مزاحمتی قائدین کو خوفزدہ اور مرعوب کرنا ہے تاہم اس طرح کے حربوں سے ہم نہ ماضی میں مرعوب ہوئے ہیں اور نہ اب کے ان ہتھکنڈوںکو بروئے کار لاکر ہم کو ڈرایا دھمکایا جاسکتا ہے۔

مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ پہلے گزشتہ سال بھارتی تحقیقاتی ایجنسی NIA کی جانب سے متعدد حریت پسند قائدین اور کارکنوںکو فرضی کیسوں میں پھنسا کر گرفتار کرکے مقید کردیا گیا اور اب ED کے ذریعے یہاں کی مزاحمتی قیادت کو بار بار نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

میرواعظ نے کشمیر کے متعدد علاقوں خاص کر جنوبی کشمیر میں لوگوںکو زد کوب کرنے ، گھروں میں توڑ پھوڑ اور لوگوں کے ساتھ ساتھ تحریک پسند قیادت کے گھر وں پر چھاپے اور گرفتاریوں کے سلسلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مختلف حیلے بہانوں سے حریت پسند عوام کو طاقت کے ذریعہ دبانے کا عمل جاری ہے تاہم میرواعظ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ہماری جدوجہد کا منتہیٰ مقصد رواں تحریک کو منطقی انجام تک لیجانا ہے اور ہم ہر صورت میں تحریک آزادی کو انجام تک پہنچا کر ہی دم لیں گے ۔

میرواعظ نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے 26 اور27 اگست کی ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کو ہر سطح پر کامیاب بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان ایام میں تمام کاروباری اور ہر طرح کی سرگرمیاں بند رہیں گی اور جموںوکشمیر کے تمام حصوں میںمکمل احتجاجی ہڑتال رہیگی اور اگر 27 اگست کو بھارت کی سپریم کورٹ کی جانب سے 35A کے حوالے سے ایسا کوئی فیصلہ آتا ہے جو کشمیری عوام کے مفادات کے منافی ہو تو اسی دن سے ہمہ گیر احتجاجی تحریک چھیڑ دی جائیگی اور عوام کے تمام طبقوں کو چاہئے کہ وہ ذہنی اور فکری طور ہر طرح کے احتجاج کیلئے تیار رہیں۔
میرواعظ نے عوام کو اپنے اپنے علاقوںمیں علاقائی اور مقامی سطح پر مساجد کمیٹیوں اور محلہ کمیٹیاں قائم کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ احتجاجی تحریک کے طول پکڑنے کی صورت میں متفقہ حکمت عملی کے تحت عوام کے سامنے احتجاجی پروگرام رکھا جائیگا۔

میرواعظ نے عید الاضحی کی تقریب کو سادگی سے منانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عید کی خوشیوں میں ہمیں معاشرے کے غریب ، نادار ، محتاج اور خاص طور پر رواں تحریک آزادی کے دوران متاثرہ کنبوں کو بھی شامل کرنا چاہئے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ عید الاضحی کی نماز مرکزی عیدگاہ سرینگر میں ٹھیک9:00 بجے ادا کی جائیگی جبکہ اس سے قبل 8:00 بجے سے وعظ و تبلیغ کی مجلس آراستہ کی جائیگی ۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مقامی مساجد اور پارکوں کے بجائے عید نماز کو عیدگاہ میں ادا کرنے کو یقینی بنائیں اور حسب سابق پوستہائے قربانی اپنی ملی اور مستحق ادارہ انجمن نصرة الاسلام کو پیش کرکے اجر دارین حاصل کریں۔

اس دوران مرکزی جامع مسجد سرینگر کے باہر نماز جمعہ کے بعد مشترکہ مزاحمتی قیادت کے احتجاجی پروگرام کی پیروی میں متعدد حریت کارکنوں اور عوام کی بڑی تعداد نے دفعہ35A کے حق میں ، جیلوں میں قیدیوں کی حالت زار اور مزاحمتی قیادت کو سرکاری سطح پر مرعوب کرنے اور ڈرانے ، دھمکانے کے حربوں کیخلاف صدائے احتجاج بلند کیا ۔

Comments are closed.