حزب سپریمو کو امریکہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دینے کے خلاف وادی کے اطراف واکناف میں احتجاجی جلوس برآمد
اننت ناگ، ترال ، پلوامہ ، سوپور میں فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں، ٹیر گیس اور پاوا شلنگ سے لوگوں کو تکلیف دہ صورتحال کاسامنا کرناپڑا
سرینگر؍30؍جون؍ حزب سپریمو کو دہشت گرد قرار دینے کے خلاف مزاحمتی قیادت کی جانب سے نماز جمعہ کے بعد احتجاج کرنے کی کال کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر چہ انتظامیہ نے سیکورٹی کے غیر معمولی اقدامات اٹھائے تھے تاہم اس کے باوجود بھی شمال و جنوب میں لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاج کیا جس دوران فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے۔ انتظامیہ نے شہر خاص کے پانچ پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیا تھا تاہم سہ پہر کے بعد صفا کدل میں فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ سخت ترین بندشیں عائد کرنے کے نتیجے میں جامع مسجد میں مسلسل دوسرے جمعہ کو بھی نماز جمعہ ادانہ کی جا سکی۔ جے کے این ایس کے مطابق حزب سپریمو سید صلاح الدین کو امریکہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دینے کے خلاف مزاحمتی قیادت کی جانب سے نماز جمعہ کے بعد پُر امن احتجاج کرنے کی کال پر لبیک کہتے ہوئے وادی کے اطراف واکناف میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی جلوس برآمد ہوئے ۔ نمائندے کے مطابق خانقاہ فیض پناہ ترال میں نماز جمعہ کے بعد لوگوں کی کثیر تعداد نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے اس دوران نوجوانوں کی ایک ٹولی نے پاس ہی موجود فورسز کیمپ پر پتھراو کیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز نے بھی پوزیشن سنبھال کر تشدد پر اُتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے بے تحاشہ ٹیر گیس شلنگ کی جس کے نتیجے میں ترال اور اُس کے ملحقہ علاقوں میں افرا تفری کا ماحول پھیل گیا اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے۔ نمائندے کے مطابق فورسز اور مظاہرین کے درمیان کافی دیر تک تصادم آرائیوں کا سلسلہ جاری رہا ۔ ذرائع کے مطابق پتھراو کے دوران کئی افراد کو معمولی چوٹیں بھی آئیں۔ مرن چوک پلوامہ اور راجپورہ علاقوں میں بھی نماز جمعہ کے بعدمظاہرین نے حزب سپریمو صلاح الدین کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاجی جلوس نکالا ۔ نمائندے کے مطابق یہاں پر بھی مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے طاقت کا استعمال کیا ۔ اننت ناگ قصبہ میں اُس وقت سنسنی اور خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا جب نماز جمعہ کے بعد لوگوں کی کثیر تعداد نے احتجاجی مظاہرئے کئے اس دوران تحصیل بازار اور ریشی بازار علاقوں میں پہلے سے تعینات فورسز نے مظاہرین کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی جس پر احتجاج کرنے والے مشتعل ہوئے اور پتھراو کیا ۔ نمائندے کے مطابق فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پاوا شلنگ بھی کی جس کے نتیجے میں اننت ناگ قصبہ میں آناً فاناً کاروباری ادارے ٹھپ ہو کررہ گئے ۔ شمالی کشمیر سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد سوپور سے نوجوانوں کی کثیر تعداد نے حزب سپریمو کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے جلوس نکالا تاہم فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور ٹیر گیس شلنگ کی ۔ نمائندے کے مطابق فورسز اور مظاہرین کے درمیان کافی دیر تک تصادم ہوا جس کی وجہ سے سوپور اور اُس کے ملحقہ علاقوں میں سنسنی کا ماحول پھیل گیا اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے۔ دریں اثنا شہر خاص میں امکانی احتجاجی مظاہروں کو ٹالنے کیلئے انتظامیہ نے پانچ پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں سخت ترین کرفیو نافذ کیا تھا۔ نمائندے کے مطابق صبح سویرے فورسز گاڑیوں پر لگے لاوڈ سپیکروں پر اعلانات کئے گئے کہ لوگ گھروں سے باہر آنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ نمائندے کے مطابق فورسز اہلکاروں نے نوہٹہ اور گوجوارہ میں کئی افراد کی ہڈی پسلی ایک کردی۔ کرفیو کے باعث جامع مسجد میں ایک دفعہ پھر نماز جمعہ ادا نہ کی جس کی ۔ مقامی لوگوں کے مطابق پولیس وفورسز نے کسی کو بھی جامع مسجد کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جبکہ تاریخ مسجد کے اردگرد کھار دار تار بھی نصب کرکے لوگوں کے چلنے پھرنے پر مکمل پابندی عائد کردی گئی تھی ۔
Comments are closed.