گؤ رکھشا کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا رجحان تشویشناک وزیر اعظم ہند کے بیان پر عمل آوری وقت کی اہم ضرورت: ڈاکٹر کمال 

سرینگر// گؤ رکھشا کے نام پر معصوموں کو قتل کرنے کے رجحان میں دن بہ دن ہوتے اضافے کو تشویشناک اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال نے کہا کہ اگرچہ وزیر اعظم نریندر مودی نے گائے کا بہانہ بنا کر قتل کرنے کی کارروائیوں کو ناجائز قرار دیا تاہم اُن کے اس بیان کے چند گھنٹوں کے بعد ہی جھارکھنڈ میں ایک اور مسلم نوجوانوں کو اسی الزام میں موت کے گھاٹ اُتار دیاگیا۔انہوں نے کہا کہموجودہ حالات میں ملک میں ایسے واقعات پیش آرہے ہیں، جس میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہاہے اور اُن کو بڑی بے دردی سے زیر چوب قتل کیا جارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں اگرچہ ان واقعات کے بارے میں وزیر اعظم کا بیان حوصلہ افزا ہے لیکن شائد انہوں نے آگے آنے میں دیر کردی ہے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ اگر وزیر اعظم نے وقت پر ایسے انسانیت سوز واقعات کی مذمت کی ہوتی اور ان واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات اُٹھائے ہوتے تو آج حالات بے قابو نہ ہوئے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کے مطابق 2014سے لیکر 2017تک قریباً 63واقعات رونما ہوئے ہیں، جن میں نامنہاد گوو رکھشوں نے مسلمانوں کو نشانہ بناکر اُن کا قتل کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات میں 28لوگ مارے گئے ، جن میں مسلمانوں کی تعداد24ہے جبکہ بری طرح زخمی کئے گئے 128افراد میں بھی بیشتر مسلمان ہی ہیں۔ اعداد شمار پر نظر دوڑانے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ جس جس ریاست میں بھاجپا کی حکومت ہے وہاں ایسے واقعات زیادہ رونما ہوئے ہیں۔ڈاکٹر کمال نے کہا کہ ایسے واقعات پر فوری طور پر روک لگانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات ہندوستان کی سالمیت، آزادی اور جمہوریت کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ ہندوستان کے تمام امن پسند اور سیکولر طاقتیں متحدہ ہوکر فرقہ پرستی کیخلاف صف آراء ہونگے اور اس ناسور کو جڑ سے اُکھاڑ دیں گے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ پی ڈی پی کی مہربانیوں سے ریاست بھی ایسے واقعات کی لپیٹ میں آگئی ہے اور جموں میں اس کی بدترین مثالیں بھی دیکھنے کو ملیں۔

Comments are closed.