مختلف ایجنسیاں تحریک آزادی اور قائدین کے خلاف بے بنیاد ہوا کھڑی کررہے ہیں،مولانا محمد عبداللہ طاری 

شبیر احمد شاہ کی مسلسل نظر بندی کے لئے حکام کی شدید مذمت

فریڈم پارٹی کے سیکریٹری جنرل مولانا محمد عبداللہ طاری نے پارٹی سربراہ شبیر احمد شاہ کی مسلسل نظر بندی کے لئے ریاستی حکام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار کے نشے میں ان لوگوں نے سبھی حدود پار کرلئے ہیں ۔ محبوس سربراہ شبیر احمد شاہ کی مسلسل نظر بندی کے لئے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ سال 7 2011میں جیل سے رہا ہونے کے بعد اب تک تین سال نومہینے نظر بند رہے اور نظر بندی کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے اور اس دوران انہیں252 نمازجمعہ اور 13عیدین پڑھنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ مولاناکے بیان کے مطابق شبیر احمد شاہ جنھوں نے آج تک زندگی کے 31سال جیل میں گزارے اور ریاست کے کٹھ پتلی حکام انہیں قید و بند میں رکھ کر انتقام گیری کا نشانہ بنارہے ہیں اور ان کی رہائش گاہ کو ایک سب جیل میں تبدیل کیا گیا ہے ۔مولانا طاری نے حکمران ٹولے کی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شخصی آزادی اور خیالات کی جنگ کے دعوؤں اورغبارے سے ساری ہوا نکل چکی ہے ۔انھوں نے کٹھ پتلی انتظامیہ میں شامل ساجھے داروں سے پوچھا کہ وہ اس بات کا جواب دیں کہ وہ بنیادی حقوق کو سلب کرکے کس جمہوریت کے چیمپین ہونے کا دعویٰ کررہے ہیں اور کیا وہ اس سوال کا جواب دے سکتے ہیں کہ تقریر و تحریر کی آزادی انھوں نے صرف اپنے لئے کیوں مخصوص رکھی ہے ۔مولانا نے اسے حکام کی بزدلی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اپنے لئے نقل و حرکت کی سہولیات کو برقرار رکھے لیکن سیاسی سطح پر ہمارا مقابلہ کرنے کی تاب نہ لائیں وہ بزدل ہی کہلائے جاسکنے کے قابل ہیں۔مولانا محمد عبداللہ طاری نے ریاستی حکام سے استفسار کیا کہ وہ یہ بتائیں کہ اظہار آزادی کے سارے حقوق کیا صرف صاحب اقتدار لوگوں کے لئے محفوظ ہیں اور کب تک ہماری حق پر مبنی آواز کو بجبر دبانے اور گلہ گھوٹنے کی یہ ظالمانہ روش جاری رہے گی۔
مولانا نے شبیر احمد شاہ کی مسلسل اسیری پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایام اسیری کے دوران ان کے کئی قریبی رشتہ دار انتقال کرگئے لیکن انہیں ان کے آخری رسومات میں حصہ لینے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔
مولانا طاری نے EDانفورسمنٹ اور ڈیپارٹمنٹ اور NIA کی جانب سے مذاحمتی قیادت کے خلاف سمن جاری کرنے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کاروائیوں کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ قیادت کو مرعوب اور تحریک آزادی کو بدنام کیا جائے ۔مولانا نے اس طرح کی کاروائیوں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے عوام کے جزبات کی ترجمانی کا فریضہ اپنی آخری سانس تک انجام دیں گے اور کسی خوف اور دھمکی کی پرواہ نہیں کریں گے ۔
ادھر مولانا نے آٹھ جولائی شہید برہان وانی کی برسی کے پیش نظر ریاست کے قریہ قریہ باالخصوص اسلام آباد مشوپیان ،کلگام ،پلوامہ میں شبانہ چھاپوں میں سیاسی اراکین کے گھروں پر چھاپے ڈال کر قائدین یااراکین کو گرفتار کیا گیا ہے اور اس دوران مکینوں کو ہراساں کرکے اسباب خانہ کی توڑ پھوڑ کی جارہی ہے اور اس طرح فریڈم پارٹی سے وابستہ کئی اراکین کو گرفتار کیا گیا ہے۔انھوں نے سال گزشتہ کے عوامی انتفادہ کے دوران شہداء اور شہدائے کشمیر کے بارے میں واضح اعلان کیا کہ اپنے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ہمارے ہیرو ہیں اور ان کے مشن کو تاحصول کامیابی جاری رکھنے کا عہد دہراتے ہیں۔

Comments are closed.