35Aکی تفصیلی رپورٹ ایک سال سے سپریم کورٹ میں داخل نہیں کرائی گئی
فائل آج بھی سکریٹریٹ میں لاءسکریٹری کے میز پر پڑی، 1953سے آج تک سازشوں کا سلسلہ جاری: عمر عبداللہ
بڈگام ، 9 اگست نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ سابقہ اتحادی جماعتوں پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان آج بھی ملی بھگت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر حکومت کی طرف سے آج تک دفعہ 35 اے سے متعلق تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں داخل نہیں کی گئی ہے اور 60صفحات پر مشتمل مذکورہ تفصیلی رپورٹ آج بھی سول سکریٹریٹ میں لاءسکریٹری کے میز پر ایک سال سے پڑی ہوئی ہے۔جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دفعہ 35 اے کے خاتمے کے لئے پی ڈی پی اور بی جے پی میں برابر اشتراک تھی اور پی ڈی پی والے باہری دنیا کو زبانی جمع خرچ سے گمراہ کررہے تھے جبکہ عملی طور پر اس قانون کے دفاع کیلئے برائے نام اقدامات اُٹھائے جارہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی حکومت کا فرض بنتا تھا کہ وہ اس تفصیلی جواب کو سپریم کورٹ میں داخل کرتے لیکن ان کو کرسی پیاری تھی اور اس جماعت کے لیڈران بھاجپا کو ناراض کرنے کی غلطی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ عمر عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کو یہاں پارٹی ضلع دفتر مجاہد منزل میں حلقہ انتخاب چاڈورہ کے پارٹی عہدیداران اور کارکنان کے ایک روزہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈر عبدالرحیم راتھر، ترجمانِ اعلیٰ آغا سید روح اللہ مہدی ، وسطی زون صدر علی محمد ڈار(ایم ایل سی) ، پارٹی لیڈران تنویر صادق اور منظور احمد وانی بھی موجود تھے۔ عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ محبوبہ مفتی آج مگر مچھ کے آنسو بہاتی پھر رہی ہے اور کہتی ہیں کہ بھاجپا نے انہیں 3سال زہر پلایا، اگر واقعی آپ کو بھاجپا زہر پلا رہی تھی تو آپ نے کرسی کیوں نہیں چھوڑی؟ آپ سے تو کرسی چھینی گئی۔محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ بھاجپا این آئی اے اور سی بی آئی کے ذریعے اُن کی پارٹی کو توڑنے کی کوشش کررہی ہے، اگر واقعی یہ حقیقت ہے تو خدارا بتائے آپ کے ممبران نے آج راجیہ سبھا میں بی جے پی کے خلاف ووٹ کیوں نہیں ڈالا؟اور غیر حاضر رہ کر بھاجپا کی درپردہ مدد کیوں کی؟سچ تو یہی ہے کہ آپ کی آج بھی بھاجپا کے ساتھ ملی بھگت ہے نہیں تو آپ نے ہماری طرح سپریم کورٹ میں جاکر دفعہ 35 اے کے دفاع کے لئے وکیل کیا ہوتا یا پھر آپ کی جماعت کے قابل وکیل دفاع کے لئے آگے آگئے ہوتے۔جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خلاف ہورہی سازشوں پر زبردست تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ’ہم کافی عرصے سے ایسی سازشوں کا مقابلہ کرتے آئے ہیں، جن کے ذریعے نیشنل کانفرنس کو اس سرزمین سے ختم کرنے کی کوششیں کی گئیں،مختلف اوقات میں ان سازشوں کے الگ الگ طریقے تھے،بالکل آج ہی کے دن 1953میں شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کو غیر قانونی ، غیر جمہوری اور غیر آئینی طور گرفتار کیا گیا، سازشوں کا سلسلہ تب سے لیکر آج تک جاری ہے،بیچ بیچ میں ہم نے ئ84بھی دیکھا، ہم نے ئ87اورء90بھی دیکھا ، ہم نے 2002دیکھا، دشمنوں کا مدعا و مقصد یہی رہا کہ جتنا زیادہ نیشنل کانفرنس کمزور ہو ،اتنا ہی وہ جموںوکشمیر کی آئین پوزیشن کو بدلنے میں کامیابی ملے گی۔آج اگر دفعہ 35 اے کے خلاف اُنگلیاں اُٹھائی جارہی ہیں، اگر اس دفعہ کو آئین سے مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے،اگر 370کیخلاف سازشیں کی جارہی ہیں، یہ اس بات کا نتیجہ ہے کہ نیشنل کانفرنس کو کمزور کیا گیا۔آج اگر ہماری حکومت ہوتی، آج اگریہاں مخلوط حکومتوں کا دور نہ ہوتا تو اِ ن کو ہم یہاں تک بھی پہنچنے نہیں دیتے جہاں پر یہ عدالت کے ذریعے 35اے پر حملہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘۔ دفعہ 35 اے کیخلاف چلائے جارہے مبینہ پروپیگنڈا پر زبردست برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا ’خدارا ہمیں بتایئے ہمارے قانون پر ہی کیوں نظر ہے، کیونکہ یہاں مسلمانوں اکثریت ہے؟ اسلئے ہمارے قانون آپ کے گلے سے نہیں اُتر تے۔جہاں پر آپ جموں وکشمیر کے 35 اے کی بات کرتے ہو وہاں ہماچل کے قانون کی بات کیوں نہیں ہوتی، وہاں سکم کی بات کیوں نہیں ہوتی، وہاں انڈومان کی بات کیوں نہیں کی جاتی ،وہاں لکشدیپ کی بات کیوں نہیں ہوتی، کئی ایسی ریاستیں ہیں جہاں مقامی باشندوں کے علاوہ کوئی بھی زمین خرید نہیں سکتا،لیکن ان کیخلاف کبھی کوئی سپریم کورٹ نہیں گیا،اگر آپ کو قانون بدلنے ہیں تو پہلے اُن ریاستوں کے بدل دیجئے،ہم اپنا خیال خود رکھ سکتے ہیں‘۔این سی نائب صدر نے کہا کہ دشمنوں کی ایک اور چال دیکھئے ، باقی دنیا کو یہ باور کرایا جارہا ہے کہ دفعہ 35 اے کا صرف کشمیری کا فائدہ ہے، صرف کشمیر کا مسلمان دفعہ 35 اے چاہتا ہے ، جموں کا ہندو اور لداخ کا بودھ اس کیخلاف ہے، حالانکہ دفعہ 35 اے کو اگر ہم گہرائی دے دیکھیں ، اُس کو کشمیر کے مسلمان کو بچانے کے لئے نہیں لایا گیا بلکہ مہاراجہ نے اُس وقت جموں کے لوگوں کو بچانے کے لئے سٹیٹ سبجیکٹ کا قانون لایا، کیونکہ جموں کے پڑھے لکھے لوگوں کو لگتا تھا کہ ہماری نوکریاں ریاست کے باہر کے لوگ لے جائیں گے، جموں کے زمینوں کے مالکوں کو ڈر تھا کہ پنجاب کے رئیس لوگ آکر زمینوں پر قبضے کریں گے اور انہوں نے مہاراج کو اُس وقت تیار کیا اور یہ قانون بنوایا۔ 1947کے بعد پھر اس قانون کو آئین میں شامل کیا گیا۔ عمر عبداللہ نے کہا ’جو لوگ کہتے ہیں کہ دفعہ 35 اے کے ہٹنے سے جموں اور لداخ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، میں اُن سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں نہیں پڑے گا جناب؟کشمیر آنے سے پہلے تو غیر ریاستی جموں پر قبضہ کر جائیں گے۔ سری نگر تک پہنچنے کے لئے انہیں کٹھوعہ، سانبہ اور جموں سے گزرنا ہوگا، دفعہ 35 اے کے ہٹنے سے کشمیر کو خطرہ بعد میں ہے، جموں کو خطرہ پہلے ہوگا، نوکریوں پر غیر ریاستی پہلے وہاں ہاتھ ڈالنا شروع کریں گے، زمینیں پہلے وہاں خریدی جائیں گی۔ لداخ میں، جہاں ریاست کے دیگر اضلاع کے لوگ بھی ہوٹل نہیں لگاتے ہیں، دفعہ 35 اے کے ہٹنے سے جب ممبئی کے رئیس لوگ لداخ میں ہوٹل بنائیں تب اُن کو کون بچائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ دفعہ 35 اے نے آج تک جموں کے ڈوگروں اور لداخ کے بودھوں کو بچا کے رکھا ہے‘۔عمر عبداللہ نے کہا کہ دفعہ 35 اے کا دفاع ریاست کے ہر باشندے کا فرض بنتا ہے، اس قانون کی کمزوری میں ریاست کی کمزوری ہے، اس دفعہ سے ہمارے لداخ، جموں اور کشمیر کے بچوں کا مستقبل جڑا ہوا ہے۔ الیکشن کے لئے حالات کو غیر موزون قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا کہ کچھ لوگ ایسا تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ نیشنل کانفرنس الیکشن کے لئے بے چین ہیں، ایسا بالکل نہیں، ہم لوگوں کو مروانے کے لئے الیکشن نہیں لڑانا چاہتے، ہمیں پتا ہے کہ موجود حالات میں الیکشن ممکن نہیں، ہم گورنر صاحب سے اس بات کا مطالبہ کررہے ہیں کہ حالات کو 2014کے جیسا بنایا جائے پھر الیکشن کرائے جائیں۔ ہم کنونشنوں کا انعقاد اسمبلی، پنچایت یا بلدیاتی الیکشن کے لئے نہیں انعقاد کررہے ہیں۔ ہم پارٹی کی مضبوطی کیلئے کام کررہے ہیں اور موجودہ حالات میں لوگوں کے مسائل و مشکلات کی جانکاری حاصل کرکے انہیں اُجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس موقعے پر صدرِ ضلع بڈگام حاجی عبدالاحدڈار، یوتھ صدر محمد اشرف لون، ضلع صدر وومنز ونگ روبینہ چودھری، نذیر احمد گوگا بھی موجو دتھے۔ تقریب کے دوران پی ڈی پی اور کانگریس کے متعدد عہدیداران نے نیشنل کانفرنس شمولیت اختیار کی۔
Comments are closed.