دغا بازی کا آغاز 9 اگست1953 سے شروع ہوا :ر بیگم خالدہ شاہ

جموں و کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ آئینی اور اقتصادی رشتے

سری نگر::عوامی نیشنل کانفرنس کی صدر بیگم خالدہ شاہ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ آئینی اور اقتصادی رشتوں کی دغا بازی کا آغاز 9 اگست1953 سے شروع ہوا ۔

موصولہ بیان کے مطابق عوامی نیشنل کانفرنس کی صدر بیگم خالدہ شاہ نے ایک بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ آئینی اور اقتصادی رشتوں کی دغا بازی کا آغاز 9 اگست1953 سے شروع ہوا جب مہاراجہ ہری سنگھ کے فرزند ڈاکٹر کرن سنگھ نے شیخ محمد عبداللہ کی حکومت کو ختم کرانے کیلئے جو کاروائی کی اس کا کیا کوئی آئینی،اخلاقی یا قانونی جواز تھا؟ دنیا اب تک اس معمہ کو سمجھ نہیں سکی ہے۔

شیخ محمد عبداللہ گر اسمبلی کا اعتماد کھو چکے تھے تو آئینی اور جمہوری طریقہ یہ تھا کہ ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جاتی ۔اس آئینی طریقہ کو ترک کرکے ایک سازش کے زریعہ ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اس کے بعد سازش کا یہ سلسلہ آج تک کسی نہ کسی بہانے اپنا یا جارہا ہے۔اس وقت مرکزی اور ریاسی سرکار نے شیخ محمد عبداللہ کو معزول اور گرفتار کرکے دعویٰ کیا کہ شیخ محمد عبداللہ کشمیر کو ایک آزاد مملکت بنا کر خود کو سلطانِ کشمیر بنانا چاہتے تھے اس سلسلہ میں امریکہ کے ری پبلکن لیڈر مسٹر ایڑوائی سٹیون سن کی سرینگر میں شیخ محمد عبداللہ کے ساتھ ملاقات پر کئی انکشافات کئے جانے لگے اوریہ مہم بھی چلائی گئی کہ شیخ محمد عبداللہ کے کچھ بدیشی ملکوں کے ساتھ روابطہ ہیں اور کشمیر کی آزادی کا اعلان کرنے والے ہیں۔

اس کے بعد 11 سال تک کشمیر سازش کیس کی آڑ میں اسیری کی زندگی گذارنے پرشیخ محمد عبداللہ کو مجبور کیا گیا۔سچائی کی ہمیشہ فتح ہوتی ہے۔1964 میں مرکزی سرکار کو خود ساختہ کشمیر سازش کیس واپس لینا پڑا۔بہر حال یہ تو اریخ ہے ،حقائق ہیں۔اب 35 A کی آج بات ہو رہی ہے یہ بات قابل ذکر ہے کہ پہلے دفعہ 370 کے بجائے یہ دفعہ 306 A تھا جو NC کی مجلس عاملہ کے غیر معمولی اجلاس سال 1951 میں شیخ صاحب کی سربراہی میں رد کیا گیا۔یہ دفعہ 306 A ہندوستان کے ساتھ مکمل ادغام تھا شیخ محمد عبداللہ نے ہندوستان کی آئینی ساز اسمبلی سے استعفیٰ دینے کی دھمکی دیکر دفعہ 370 کا وجود عمل میں لایا ۔

یہ امر قابل نے کرہے کہ آج 35 A کو ہٹانے کا ہنگامہ کھڑا کیا گیا ہے جبکہ 1846 میں بیعنامہ امرتسر اور 1952 کے دہلی اگر نمنٹ میں بھی 35 A کے تحت شہری حقوق کا دفاع ہوا ہے اور آرٹیکل 35 A کے تحت ہی ہندوستان نے سیکورٹی کونسل میں متنازعہ کشمیر کے مسائل کی طرف تواجہ دلائی ہے ۔کیا ان حالات میں جب سپریم کورٹ کے ذریعہ 35 A کو ہٹا نے اور شہری حقوق کا جنازہ نکالنے کی سرگرمیاں ہو رہی ہیں۔تو پھر سیکورٹی کونسل بھی خود بخود سپریم کورٹ میں ایک فریق بن جاتا ہے۔

Comments are closed.