کھلاڑیوں سے زیادہ امپائر پریشان ہیں :مودی

نئی دہلی،(یواین آئی)وزیراعظم نریندرمودی نے راجیہ سبھا کے نومنتخب ڈپٹی چیئرمین ہریونش کو باصلاحیت قلم کار بتاتے ہوئے کہاکہ اخبار چلانے کے مقابلہ ایوان کو چلانا زیادہ چیلنجنگ کام ہے کیونکہ کھلاڑیوں سے زیادہ امپائر پریشان ہیں ۔

مسٹر مودی آج نئے ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب ختم ہوجانے کے بعد ایوان میں آئے اور آتے ہی وہ اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد کے پاس بیٹھے مسٹر ہریونش کے پاس جاکر ان سے ہاتھ ملایا اور انھیں مبارک باد دی ۔ اس کے بعد انھوں نے انکے استقبالیہ خطاب میں کہاکہ مسٹر ہریونش کے پاس صحافی ،بینکر ،سماجی کارکن اور رکن پارلیمان کی حیثیت سے کافی تجربہ ہے ۔

وہ بلیا کے ہیں جہاں 1857کے انقلاب سے لیکر آزادی کی اگست کرانتی میں زندگی قربان کرنے والے پہلی صف کے لوگ تھے ۔منگل پانڈے سے لیکر چتو پانڈے سے چلی روایت کی اگلی کڑی کی شکل میں ہریونش جی ہیں ۔انکی پیدائش جے پرکاش نارائن کے گا¶ں میں ہوئی ہے اور وہ جے پی ٹرسٹ کے ٹرسٹی کے طور پر کام کرتے ہیں ۔

انھوں نے کہاکہ مسٹر ہریونش نے بنارس میں تعلیم حاصل کی ہے ۔انھوں نے معاشیات میں ایم اے اور ریزروبینک کی ملازمت ،جو انکوراس نہیں آئی ،کو چھوڑ کر صحافت شروع کی تھی۔انھوں کولکاتہ میں ‘روی وار ‘میں ٹیلی ویژن کی دنیا کے معروف صحافی سریندر پرتاپ سنگھ کے ساتھ کام کیا پھر دھرم ویر بھارتی کے ساتھ دھرم یگ میں بھی کام کیا۔وہ سابق وزیراعظم چندرشیکھر کے قریب رہے اور انھیں چندر شیکھر کے مستعفی ہونے کی خبر تھی لیکن انھوں نے صرف اپنے اخبار کی شہرت کے لئے خبر نہیں چھپنے دی بلکہ اپنے عہدے (چندرشیکھر کے میڈیا صلاحکار )کے وقار کو قائم رکھا۔

انھوں نے کہاکہ ہری ونش نے بینکر کی ملازمت چھوڑ کر رانچی میں پربھات اخبار میں کام کیا جسکی اشاعت محض چارسوتھی اور اسے اپنی ادارتی صلاحیت اور دانش مندی سے ایک اہم اخبار بنادیا۔ مسٹر مودی نے کہاکہ ہریونش بابو کی چاردہائیوں پر مشتمل صحافت سماج سے جڑی تھی ۔انھوں نے بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیاہے اور کتابیں لکھی بھی ہیں ۔وہ عوامی تحریک کی شکل میں اخبار چلاتے تھے ۔

مسٹر مودی نے کہاکہ جب ابرٹ اکا شہیدہوئے تو انکی اہلیہ کے لئے چارلاکھ روپئے چندہ کی شکل میں جمع کئے ۔یہی نہیں دشرتھ مانجھی کی کہانی کوبھی انھوں نے پیش کیا اور لوگوں کی رہنمائی کی ۔ انھوں نے کہاکہ مسٹر ہریونش نے اپنے اخبار میں ایک کالم شروع کیا ‘اپنا ایم پی کیسا ہو’اور اسے ایک مہم کے طورپر چلایا ۔تب انھیں نہیں معلوم تھا کہ وہ ایک دن رکن پارلیمنٹ بھی بن جائیں گے ۔

وزیر اعظم نے کہاکہ مسٹر ہریونش نے اخبار نکالا صحافیوں سے کام لیا لیکن ایوان چلانا مشکل کام ہوتاہے ۔انھوں نے کہا یہاں کھلاڑی امپائر کو زیادہ پریشان کرتے ہیں ۔ضابطہ کے مطابق کھیلنا چیلنج ہے ۔انھوں نے کہاکہ” یہ انتخاب دوہری کے درمیان تھا ،جس میں ایک ہری کے پہلے بی کے لگاہواتھا لیکن کوئی نہیں بکا ،اب سب کچھ ہری کے بھروسہ ہے اور ہری کی کرپا بنی رہے ۔”یواین آئی

Comments are closed.