تھید پونچھ کے علاقے میں 55%آبادی گونگھی اور بہری 80%بچے بھی قوت سمائی اور بات کرنے سے محروم ہو رہے ہیں /مقامی لوگ
سرینگر /24 جون// تھیدپو نچھ ریاست کا ایسا علاقہ ہے جہاں60سال عمرتک کے مرد و زن ،گونگھے اوربہرے ہے اور 80%بچے بھی گونگھے بہرے جنم لیتے ہیں ،شخصی راج سے چھٹکارا ملنے کے بعد حد متارکہ کے قریب اس علاقے میں رہنے والے لوگوں کو اس مصیبت سے نجات دلانے کیلئے کو ئی کارروائی عمل میں نہیں لا ئی گئی اوور دوسری جانب ڈیجتٹل بھا رت کے دعو ے کئے جاتے ہے ۔ اے پی آئی کے مطا بق تھید پونچھ ریاست کا ایک ایسا علاقہ ہے جہاں 50% آ بادی گو نگھی اور بہری ہے اور 80%بچے پانچ سال کی عمر کے بعد قدرتی طور گو نگھے اور بہرے بن جاتے ہیں۔ پونچھ میں حد متارکہ کے قریب رہنے والے اس علاقے کے ایک بز رگ نے نیوز چینل کو بتایا کہ میرے پر خوں نے بھی اس بیماری کے بارے میں اس وقت کی انتظا میہ کو تحر یری اور زبا نی طور پر آگا ہ کیا تھا جبکہ شخصی راج سے چھٹکارا ملنے کے بعد عوامی حکو متوں کی نو ٹس میں یہ بات بار بار لائی گئی کہ ہم منہ میں زبان رکھتے ہیں مگر بات کرنے سے عاری ہیں۔ علاقے کی آنے والی نسل کواس مصیبت سے نجات دلانے کیلئے اقدا مات اٹھائے جائے ۔ 3 گو نگھی بہری خواتین اور 7مردوں نے شکایت کی کہ پانی استعمال کرنے کی وجہ ان کے گو نگھے اور بہرے پن کی نشا نی ہو سکتی ہے اور علاقے کے لوگوں کو سر کار کی جانب سے 75 برسوں میں پینے کاس صا ف پانی فرا ہم نہیں کیا گیا ۔بجلی کے بارے میں مذکورہ علاقوں کے لوگوں نے سنا ضرور ہے مگر بجلی کا بلب کبھی دیکھا نہیں ہیں ۔ سات دہائیوں سے علاقے کے لوگوں کو علم کے نور سے منو ر کرنے کیلئے کسی اسکول کا قیام عمل میں نہیں لایا گیا ہیں اور نہ ہی گو نگھے اوور بہروں کو تعلیم دلانے کیلئے کوئی کار روائی عمل میں لائی گئی ہیں ۔ستم ظر یفی کا یہ عالم ہیں کہ پانچ برس پہلے سر کار نے علاقے میں ایک آنگن وارڈی سینٹر کا قیام عمل میں تو لایا ہیں لیکن گو نگھے اوور بہرے بچوں کو تعلیم دلانے کیلئے جس استانی کو تعینات کیا گیا ہیں وہ خود علم کے نور سے منور نہیں ،اور کچھ حروف تہجی کے چند الفاظ حفظ کر کے ان کو ہی دہرا رہی ہیں ۔ 70 برسوں کے دوران علاقے کے لوگوں کو اس بیماری سے نجات دلانے کیلئے کوئی کار وئی عمل میں نہیںلائی گئی مگر ڈیجٹل انڈ یا کا ڈھنکا اس قدر زور سے بجایا جا رہا ہیں کہ سنسے والے بھی بہرے ہو سکتے ہیں ۔
Comments are closed.