اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں پارٹی کے چیئرمین عمران خان کو بطور وزیراعظم نامزد کیے جانے کا امکان ہے۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق عمران خان کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں ممکنہ وفاقی کابینہ میں شامل ارکان کے ناموں کی حتمی منظوری بھی دی جائے گی۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین پہلے ہی فیصلہ کر چکے ہیں کہ وفاقی کابینہ کے ارکان کی تعداد 15 سے 20 وفاقی وزراء پر مشتمل ہو گی۔
پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری نے تصدیق کی کہ ’اجلاس میں عمران خان کو ملک کا اگلہ وزیراعظم نامزد کیا جائے گا‘۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ میں شامل ہونے والے ارکان کے نام بھی حتمی فیصلے کے لیے پیش کیے جائیں گے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے ذرائع نے بتایا کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے نو منتخب قومی اسمبلی کے ارکان نے وفاق میں پی ٹی آئی کی حمایت کا اعلان کردیا، اس لیے پارٹی کی جانب سے ایم کیو ایم کو ایک وفاقی وزارت دیے جانے کا امکان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کی قیادت وزیراعلیٰ پنجاب کی نشست کے لیے علیم خان، فواد چوہدری، ڈاکٹر یاسمین راشد اور سبطین خان کے ناموں پر غور کررہی ہے‘۔
خیبرپختونخوا میں وزیر اعلیٰ کے لیے سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور عاطف خان مضبوط امیدوار ہیں۔اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے نائب صدر پرویز اعلیٰ کا نام پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کے لیے زیر غور ہے، خیال رہے کہ مسلم لیگ (ق) نے پنجاب اور وفاق میں پی ٹی آئی کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔
پی ٹی آئی کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کو قومی اسمبلی کے 174 اورپنجاب اسمبلی کے 186 امیدواروں کی حمایت حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ ’وفاق میں 174 اور پنجاب میں 186 نشستوں کے ساتھ پی ٹی آئی بڑی آسانی کے ساتھ وفاق اور صوبے میں اپنی حکومت تشکیل دے سکے گی‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کی 4 نشستیں 174 نشستوں میں شامل نہیں ہیں کیونکہ ان کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری ہے اور بی این پی نے پی ٹی آئی کی حمایت کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا‘۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) کی جانب سے این اے حلقہ 131 (لاہور) میں دوبارہ گنتی کرانے کا حکم دینا ناقابل فہم ہے، یہ عدالت کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرے‘۔
واضح رہے کہ عدالت نے ای سی پی مذکورہ حلقے سے عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روکتے ہوئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دیا ہے۔
پی ٹی آئی کے ترجمان نے کہا کہ 48 حلقوں میں دوبارہ گنتی کا عمل جاری ہے اور انتخابی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔
Comments are closed.