پولیس نے دھوکہ دے کر میرے بیٹے کو آپریشن تھیٹر کے باہر گرفتار کر لیا میرے لخت جگر کو جرم بے گناہی کی پاداش میں گرفتار کیا گیا /والدہ
سرینگر /24 جون/ جامع مسجد نوہٹہ کے باہر ڈی ایس پی کی جانب سے گولیاں چلانے کے دوران زخمی ہوئے 19سالہ نوجوان کو پولیس نے صدر اسپتا ل کے آپریشن تھیٹر کے باہر گرفتار کرکے ڈی ایس پی کی ہلاکت میں ملوث قرار دینے پر لواحقین نے حیرانگی کا اظہا ر کرتے ہوئے کہاکہ بیچ بچاؤ کرنے والے کو ہی پولیس نے ملزم بنا دیا ہے ۔ اے پی آئی کے مطابق ڈی ایس پی محمد ایوب پنڈت کی جانب سے مرنے سے پہلے گولیاں چلانے کے دوران زخمی ہوئے 19سالہ دانش احمد میر ساکنہ رتھہ پورہ عید گاہ سرینگر کو جموں و کشمیر پولیس نے ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے آپریشن تھیٹر کے باہر یہ کہتے ہوئے گرفتار کر لیاکہ وہ اسے تحفظ فراہم کرنے کیلئے اسپتال تک پہنچ گئے گرفتارکئے گئے نوجوان کی والدہ نے کہا کہ میرا لخت جگر میرے ساتھ شب قدر کی رات کو شب خوانی کیلئے جامع مسجد آیا تھا اور مجھے اس بات سے آگاہ کیا تھا کہ تراویح نماز ادا کرنے کے بعد وہ اپنی ماسی سے ملنے کیلئے جائیگاجو جامع مسجد کے آس پاس ہی رہتی ہے ۔تاہم نماز ادا کرنے کے بعد جب میرا بیٹا مسجد سے باہر نکلا تو اس نے چیخنے چلانے کی آوازیں سنیں وہ بیچ بچاؤ کرنے کیلئے جائے موقع پر پہنچ گیا جہاں اسے گولی لگی اور نوجوانوں نے اسے علاج کیلئے اسپتال پہنچا دیا تھا ۔مذکورہ نوجوان کی والدہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس نے میرے بیٹے کو دھوکے سے گرفتار کیاہے ،میرے شوہر سے میر لخت جگر کا موبائل بھی حاصل کر کے یہ جتانے کی کوشش کی کہ اس کا بیٹا ڈی ایس پی کی ہلاکت میں ملوث ہے ۔مذکورہ خاتون کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس جو سیول میں کپڑوں میں ملبوس تھے نے بتایا کہ وہ دانش احمد کو بچانے کے سلسلے میں اسپتا ل آئے ہیں اور اگر مارے گئے ڈی ایس پی کے نزدیکی رشتہ دار یہاں پہنچ گئے تو وہ دانش کو قتل کرنے سے بھی گریز نہیںکریںگے ۔
Comments are closed.