سری نگر ، 3 اگست (یو ا ین آئی) پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 35 اے سے چھیڑ چھاڑ کے پورے ملک پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے لوگ پارٹی اور دیگر وابستگیوں سے بالاتر ہوکر دفعہ 35 کے دفاع کے لئے متحد ہیں۔ محترمہ مفتی نے یہ باتیں اپنے دو سلسلہ وار ٹویٹس میں کی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے ’جموں وکشمیر کو دفعہ 370 کے تحت حاصل خصوصی پوزیشن پر میرے والد (مفتی محمد سعید) کو فخر تھا۔ وہ اکثر کہتے تھے کہ جہاں ریاست کے لوگوں نے بڑے اہداف کے حصول کے لئے عظیم قربانیاں دی ہیں، وہیں ہمیں اُس کی حفاظت کرنی چاہیے جو پہلے سے ہی ہمارے پاس ہیں‘۔ انہوں نے کہا ’آج ریاست کے لوگ پارٹی اور دیگر وابستگیوں سے بالاتر ہوکر دفعہ 35 کے دفاع کے لئے متحد ہیں۔ میں پہلے ہی کہہ چکی ہوں کہ جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن سے چھیڑ چھاڑ کے پورے ملک پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے‘۔ بتادیں کہ سپریم کورٹ نے دفعہ 35 اے کی سماعت کے لئے 6 اگست کی تاریخ مقرر کی ہے۔ تاہم وادی کشمیر میں سماعت سے قبل ہی تناو ¿ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے دفعہ 35 اے کے ساتھ کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ کے خلاف ایجی ٹیشن شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔ جبکہ وادی کی تقریباً تمام کاروباری و دیگر انجمنوں نے مجوزہ ایجی ٹیشن کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے بھی دفعہ 35 اے کی منسوخی کی کسی بھی کوشش کے خلاف ’اعلان جنگ‘ کردیا ہے۔ دفعہ 35 اے غیر ریاستی شہریوں کو جموں وکشمیر میں مستقل سکونت اختیار کرنے ، غیر منقولہ جائیداد خریدنے ، سرکاری نوکریاں حاصل کرنے ، ووٹ ڈالنے کے حق اور دیگر سرکاری مراعات سے دور رکھتی ہے۔ دفعہ 35 اے دراصل دفعہ 370 کی ہی ایک ذیلی دفعہ ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ 1953 میں جموں وکشمیر کے اُس وقت کے وزیراعظم شیخ محمد عبداللہ کی غیرآئینی معزولی کے بعد وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی سفارش پر صدارتی حکم نامے کے ذریعہ آئین میں دفعہ 35 اے کو بھی شامل کیا گیا، جس کی ر ±و سے بھارتی وفاق میں کشمیر کو ایک علیحدہ حیثیت حاصل ہے۔ 10 اکتوبر 2015 کو جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میںدفعہ 370 کو ناقابل تنسیخ و ترمیم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ دفعہ (35 اے ) جموں وکشمیر کے موجودہ قوانین کو تحفظ فراہم کرتی ہے‘ ۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.