سوپور معرکہ آرائی :زخمی فوجی اہلکار دم توڑ بیٹھا

وپور (کے پی ایس):شمالی قصبہ سوپور کے مضافاتی علاقہ درسو وترگام میں جنگجو مخالف آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں اورفورسز کے مابین خونین معرکہ آرائی میں زخمیوں متعدد اہلکاروں میں سے ایک زخمی اہلکار دم توڑ بیٹھا .

جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج وفورسز اہلکاروں نے گائوں کا محاصرہ کیا ،جس دوران یہاں موجود جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان آمنا سامنا ہونے کی اطلاع ہے .

فوج وفورسز نے مشترکہ طور پر جمعرات کی شب کو ہی گائوں کو گھیرے میں لیکر تلاشی کارروائی کا سلسلہ شروع کیا تھا جبکہ رات بھر یہ آپریشن جمعہ تک کےلئے ملتوی کیا گیا .

جمعہ کی صبح یہ آپریشن دوبارہ شروع کیا گیا ،جس دوران طرفین کے مابین گولیوں کے تبادلہ شروع ہوا ،جو آخری اطلاعات ملنے تک جاری ہے.

معلوم ہوا ہے کہ طرفین کے مابین ساڑھے 9 بجے گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا جسکے نتیجے میں فوجی اور پولیس اہلکار زخمی ہوا ،جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا .زخمی اہلکاروں کو ملٹر ی اسپتال منتقل کیا گیا .

معلوم ہوا ہے کہ زخمی اہلکاروں میں سے 22اہلکار سے وابستہ سپاہی وجے کمار کے سر میں گولی لگی تھی ،جسے وہ شدید زخمی ہواتھا اور اُس نے اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا .

اس معرکہ آرائی میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کی شناخت سپاہی تنجیت اور عرفان احمد وانی کے بطور ہوئی .ان تمام زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا ،جہاں سے اُنہیں 92 فوجی اسپتال بادامی باغ سرینگر منتقل کیا گیا .

اس سے قبل معرکہ آرائی میں دو جنگجو جاں بحق ہوئے .جاں بحق جنگجوئوں کی شناخت ریاض احمد ڈار ولد محمد اکبر ساکنہ نصیر آباد سوپور اور خورشید احمد ملک ساکنہ غلام نبی ملک ساکنہ آری بل نکاس پلوامہ کے بطور ہوئی .

جاں بحق جنگجو خورشید کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ بی ٹیک کا طالب علم تھا .وہ منگلوار سے لاپتہ تھا جبکہ ریاض نے جولائی
2018 میں جنگجوئوں کے صف میں شمولیت اختیار کی تھی.

Comments are closed.