ڈاکٹر فاروق ٹرائل عدالت میں پیش ، 50ہزار روپے کے مچلکہ پر ضمانت ملی ، اگلی سماعت 19اگست کو
سرنگراگست 25 : جموں وکشمیر کرکٹ ایسو سی ایشن میں چھ سال قبل ہوئے کروڑوں روپے غبن سے متعلق درج کیس کی تحقیقات نے بدھو کو اُس وقت نیا موڈ لیا جب سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ ، جوکہ کرکٹ ایسو سی ایشن کے سربراہ رہے ہیں ،عدالت میں پیش ہوئے جہاں انہیں 50ہزار روپے کے مچلکہ پر ضمانت ملی ۔اسی دوران عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 19اگست کو مقرر کی ۔خیال رہے کہ 21جولائی کو سماعت کے دوران عدالت نے ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کو ہدایت دی تھی کہ وہ عدالت میں پیش ہوکر 29جولائی تک مچلکہ پیش کریں ۔ سی این آئی کے مطابق جموں وکشمیرمیں جاری سیاسی غیریقینی صورتحال کے بیچ بدھ کو سرینگر کی ایک عدالت میں سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے جڑے ایک اسکنڈل کی سماعت عمل میں لائی گئی ۔جس دوران سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے عدالت میں حاضر ہو کر ضمانت کی اور مچلکے پیش کیں ۔ اس موقعہ پر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کے علاوہ ناصر اسلم وانی بھی تھے جو عدالت کے سامنے سماج کی حیثیت سے کھڑا ہوا ۔ معلوم ہوا ہے کہ چیف جوڈیشنل مجسٹریٹ کے سامنے کیس کی سماعت کے دوران ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے خود کو پیش کیا جس دوران انہیں50ہزار روپے کے مچلکہ پر ضمانت ملی ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ عدالت نے کیس کی اگلی سنوائی کیلئے 19اگست 2018کی تاریخ مقرر کی ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن میں اُس وقت ہلچل مچ گئی جب سال 2012ء میں یہاں کھیل سرگرمیوں کے لئے مخصوص کروڑوں روپے کے غبن کامعاملہ منظر عام پرآیا۔ اس سلسلے میں سابق رانجی ٹرافی کھلاڑی ماجد یعقوب ڈار اور نثار احمد خان نے ریاستی ہائیکورٹ میں مفاد عامہ کے تحت ایک عرضی دائر کرکے جموں وکشمیر کرکٹ ایسو سی ایشن میں ہوئے کروڑوں روپے کے غبن کی تحقیقات پر زور دیاتھا ۔
Comments are closed.