ڈوڈہ کے جنگجو نوجوان سمیت2مقامی عساکر جاں بحق
2رہائشی مکان تباہ ،قصبہ میں کرفیو نافذ ،پُرتشدد جھڑپیں ،متعدد زخمی،ریل وانٹر نیٹ خد مات منقطع
بلال کی آخری رسومات کے بعد کھڈونی میں پُرتشدد مظاہرے ،ٹیر گیس شل اور پیلٹ لگنے سے کئی زخمی
اسلام آباد:٢٥،جولائی:کے این این/ جنوبی قصبہ اسلام آباد میں رہائشی مکان میں موجود جنگجوئوں اور فوج وفورسز کے درمیان بدھ کو صبح صادق کے وقت خونین معرکہ آرائی میں 2لشکر طیبہ سے وابستہ2 مقامی جنگجو جاں بحق ہوئے ،جن میں سے ایک کا تعلق وادیٔ چناب سے بتایا جارہا ہے ۔ ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر شیش پا ل وید نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ قصبہ اسلام آباد میں پولیس ،فوج ونیم فو جی دستوں نے کامیاب جنگجو مخالف آپریشن انجام دیا ،جس دوران 2جنگجوئوں جاں بحق ہوئے جنکی نعشیں ہتھیار سمیت برآمد کی گئیں ۔ادھر قصبہ اعلانیہ کرفیو نافذ رہنے کے بیچ میں انکائونٹر مخالف مظاہروں کے دوران کئی علاقوں میں تشدد بھڑک اٹھا ،جس دوران نوجوانوں نے مشتعل ہو کر فورسز اہلکاروں پر خشت باری کی ،جوابی کارروائی میں فورسز نے ٹیر گیس شلنگ کی ۔پتھرائو ،جوابی پتھرائو اور ٹیر گیس شلنگ کے باعث کئی اہلکاروں سمیت متعدد افراد کو چوٹیں آئیں ۔اس دوران ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے خد شات اور امن وقانون کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے ضلع بھر میں موبائیل انٹر نیٹ خد مات منقطع رہے جبکہ جنوبی کشمیر اور وسطی کشمیر کے درمیان ریل سروس معطل رہی ۔دریں اثناء دو جنگجوئوں میں سے ایک جنگجو کی تدفین آبائی علاقہ کھڈونی کولگام میں انجام دی گئی ،جس دوران یہاں تشدد بھی بھڑک اٹھا ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق جنوبی قصبہ اسلام آباد میں بدھ کی صبح اُس وقت جنگجوئوں اور فوج وفورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی ،جب جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر فوج وفورسز نے قصبہ اسلام آباد کے گنجان آبادی والے علاقہ مہمان محلہ لالچوک کا محاصرہ کیا ۔ذرائع نے بتایا کہ فوج کی 1آر آر ،ایس اوجی ،سی آر پی ایف 162اور40بٹالین سے وابستہ نیم فوجی اہلکاروں نے مشترکہ طور پر اس علاقے کا دوران ِ شب محاصر ہ کیا ۔ذرائع کے مطابق فورسز کو یہ اطلاع ملی تھی کہ علاقے میں جنگجوئوں کا ایک گروپ موجود ہے ،جسکے بعد فوج و فورسز اہلکاروں نے علاقے کو چاروں اطراف گھیرے میں لیکر داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کیا جبکہ پورے قصبہ میں انکائونٹر مخالف ممکنہ مظاہروں کو روکنے کیلئے کرفیو نافذ کیا گیا اور قصبہ کے تمام داخلی وخارجی راستوں کے علاوہ گلی کوچوں میں سینکڑوں اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ۔ذرائع نے بتایا کہ صبح کے وقت فورسز اہلکاروں نے مہمان محلہ لالچوک میں تلاشی کارروائی شروع کی ،جس دوران جب ایک پارٹی مخصوص مقام کی طرف بڑھ رہی تھی ،تو یہاں ایک رہائشی مکان میں موجود جنگجوئوں نے اُن پر اندھا دھند فائرنگ کی ،جوابی کارروائی میں بھی فورسز نے فائرنگ کی ،جس کے ساتھ ہی طرفین کے مابین جھڑپ کا سلسلہ شروع ہوا ۔ذرائع نے بتایا کہ علاقہ میں صبح4بجے گولی چلنے کی آواز سنی گئی ،جسکے نتیجے میں یہ پورا علاقہ سہم کر رہ گیا ۔ذرائع نے بتایا کہ طرفین کے مابین شدید گولیوں کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ،جس دوران گولیوں اور گھن گرج اور دھماکوں سے یہ پورا علاقہ لرز اٹھا جبکہ انکائونٹر کے دوران استعمال کئے جانے والے ہتھیاروں کی آوازیں دور دور تک سنائی دے رہی تھی ۔ذرائع نے بتایا کہ جنگجو ایک مکان میں موجود تھے ،جس دوران فوج وفورسز نے اُنہیں جاں بحق کرنے کیلئے ماٹر گولے داغے ۔بتایا جاتا ہے کہ اس خونین جھڑپ میں 2جنگجو جاں بحق ہوئے جن میں سے ایک کا تعلق وادیٔ چناب سے ہے ۔جھڑپ کے دوران 2رہائشی مکان بھی تباہ ہوئے کئی دیگر مکانوں اور عمارات کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں ۔جاں بحق جنگجو ئوں کی شناخت عادل حسین بٹ ولد علی بٹ ساکنہ سازن ڈوڈہ اور بلال احمد ڈار عرف بن یامن ڈار ولد محمد یوسف ڈار ساکنہ صوفی محلہ کھڈونی کولگام کے بطور ہوئی ۔وادیٔ چنا ب سے تعلق رکھنے والے جنگجو نوجوان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ30جون 2018کو لاپتہ ہوگیا تھا اور یکم جولائی2018 میںاسکی بندوق ہاتھ میں لئے ایک تصو یر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ۔ایس ایس پی ڈوڈہ محمد شبیر نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نوجوان عادل نے جنگجوئیت کا راستہ اختیار کیا ہے ۔ ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر شیش پا ل وید نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ قصبہ اسلام آباد میں پولیس ،فوج ونیم فو جی دستوں نے کامیاب جنگجو مخالف آپریشن انجام دیا ،جس دوران 2جنگجوئوں جاں بحق ہوئے جنکی نعشیں ہتھیار سمیت برآمد کی گئیں۔انہوں نے مہلوک جنگجوئوں کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار سماجی رابط ویب سائٹ ٹویٹر پر کیا ۔پولیس ردِ عمل :پولیس ترجمان نے اسلام آباد جھڑپ کے حوالے سے ایک تحریری بیان جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ بدھ اعلیٰ الصبح لالچوک اسلام آباد( اننت ناگ) علاقے میں ملی ٹنٹوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد سیکورٹی فورسز نے تلاشی آپریشن شروع کیا،جس دوران رہائشی مکان میں محصور عسکریت پسندوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کی۔ان کا کہناتھا کہ چنانچہ حفاظتی عملے نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کی جس دوران2 ملی ٹنٹ جاں بحق ہوئے۔پولیس ترجمان کے مطابق تصادم کے دوران سیکورٹی فورسز کو جانی نقصان نہیں ہوا۔ان کا کہناتھا کہ جھڑپ کی جگہ سے برآمد شدہ د ستاویزات سے مہلوک 2عسکر یت پسندوں میں سے ایک کی شناخت بلال احمد ڈار عرف بن یامن ڈار ولد محمد یوسف ڈار ساکنہ صوفی محلہ کھڈونی کولگام کے بطور ہوئی ہے جبکہ جاں بحق دوسرے عسکریت پسند کی شناخت کیلئے کارروائی شروع کی گئی ہے۔ پولیس ترجمان نے بتایا کہ مہلوک عساکرکالعدم تنظیم لشکر طیبہ کیلئے کام کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق بلال عرف بن یامن ڈارمتعدد جنگجو یانہ کارروائیوں میں براہ راست ملوث تھا۔ان کا کہناتھا کہ جھڑپ کی جگہ پولیس نے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا ہے۔ اس ضمن میں کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کی گئی ہے۔پُرتشدد جھڑپیں :اس دوران پورے قصبہ میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے کرفیو نا فذ کیا گیا ،تاہم سخت ترین بندشوں کے باوجود نوجوانوں نے کئی مقامات پر سڑکوں پر نکل کر انکائونٹر مخالف مظاہرے کئے ۔معلوم ہوا ہے کہ کے پی روڑ، مہندی کدل،لازی بل ،کادی پورہ اور چی کے مقامات پر مشتعل نوجوان فورسز اہلکاروں کے ساتھ اُلجھ پڑے ۔مشتعل نوجوانوں نے فورسز اہلکاروں پر کئی اطراف سے خشت باری کی ،جوابی کارروائی میں فورسز اہلکاروں نے ٹیر گیس شلنگ کی ۔یہ سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ،جس دوران کئی اہلکاروں سمیت متعدد افراد مضروب ہوئے ۔ضلع بھر میں امن وقانون کی صورتحال برقرار رکھنے اور افواہوں کو روکنے کیلئے انتظامیہ کی ہدایت پر موبائیل انٹر نیٹ خد مات غیر معینہ عرصے کیلئے منقطع کردی گئیں جبکہ سیکورٹی وجوہات کی بناء پر وسطی کشمیر اور جنوبی کشمیر کے درمیان ریل سروس کو بھی معطل کیا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ سرینگر اور بانہال کے درمیان ریل سروس جنوبی کشمیر کی جانب معطل کی گئی ،تاہم بڈگام سے لیکر بارہمولہ تک ریل سروس بغیر کسی خلل کے جاری رہی ۔جنوبی قصبہ میں دن بھر جاری رہنے والی کرفیو جیسی پابندیوں کے سبب معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئیں ۔پورے اسلام آباد قصبہ میں ہر طرح کی دکانات ،کاروباری ادارے اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا ۔قصبہ بھر میں سیکورٹی کے کڑے انتظامات کئے ہیں اور جگہ جگہ پر ناکے لگائے گئے ۔سرینگر ۔جموں شاہراہ پر اگر چہ ٹریفک کی روانی جاری رہی ،تاہم اس اہم شا ہراہ پر بھی کئی مقامات پر اسلام آباد انکائونٹر کے پیش نظر فوج وفورسز اہلکاروں نے ناکے لگائے ۔دریں اثناء جنگجو نوجوان بلال احمد ڈار کی آخری رسومات آبائی علاقہ کھڈونی کولگام میں انجام دی گئیں ،جسکے بعد یہاں مشتعل نوجوانوں اور پولیس وفورسز کے درمیان شدید تصا دم آرائی کے واقعات پیش آئے ۔نوجوانوں کی سنگبازی کے جواب میں فورسز اہلکاروں نے آنسو گیس کے گولے داغے اور پیلٹ فائرنگ کی ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ پولیس وفورسز کارروائی کے نتیجے میں5مظاہرین زخمی ہوئے جن کو نزدیکی صحت مرکز منتقل کیا گیا ۔اس دوران جلوس ِ جنازہ میں کچھ جنگجو نمودار ہوئے ،جنہوں نے بلال کو سلامی دینے کیلئے ہوا میں گولیوں کے کئی رائونڈ چلائے۔
Comments are closed.