تاجروں اور عام لوگوں میں جی ایس ٹی کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کی گئیں /ارون جیٹلے
جی ایس ٹی لاگو کرنے کے بارے میں ریاستی حکومت جلد ہی فیصلہ لے سکتی ہے
سرینگر /21 جون// جی ایس ٹی لاگو نہ کرنے سے ریاستوں کو نقصان ہونے کا عندیہ دیتے ہوئے مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ جموں و کشمیر اسمبلی اس سلسلے میں فیصلہ لے سکتی ہے کہ آیا جی ایس ٹی کو لاگو کیا جانا چاہیے یا نہیں ،تاہم درآمداد اور برآمد اد ضرور متاثر ہو سکتی ہے ،ملک کی 30ریاستیں اور مرکزی زیر انتظا م علاقے جی ایس ٹی کو لاگو کرنے کے ضمن میں ناؤ میں سوار تاہم جموں و کشمیر ملک کی پہلی ریاست ہے جس نے ابھی تک جی ایس ٹی کو لاگو کرنے کے ضمن میں اقدامات نہیں اٹھائے۔اے پی آئی کے مطابق پورے ملک میں جی ایس ٹی کو لاگو کرنے کے سلسلے میں پالیمنٹ کے خصوصی اجلاس سے پہلے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلے نے اسے ریاستوں کیلئے مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ جی ایس ٹی لاگو کرنے سے ریاستوں کو مالی فائدے حاصل ہونگے اور پورے ملک میں جوابددہی کا ایک نظام قائم ہو گا جس سے ملک میں تعمیر وترقی اور ملک کو آگے لے جانے میں مدد مل سکے گی ۔ کئی ریاستوں کی جانب سے جی ایس ٹی کو لاگو کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک کی تمام ریاستیں اورمرکزی زیر انتظام علاقوں میں 30جون کو رات 12بجے سے نافذ ہو گا تاہم دفعہ 370آئین ہند میں موجود ہونے اور ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ حاصل ہونے کے باعث پارلیمنٹ کا اطلاق ریاست جموں و کشمیر پر تب تک نافذ العمل نہیں ہو سکتاہے جب تک نہ یا تو ریاستی کابینہ کو اس ضمن میں ایک آیڈیننس جاری کرنا پڑ تا ہے یا پھر ریاست کی اسمبلی میں قانون پاس کرنا پڑ تا ہے ۔ مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ جی ایس ٹی لاگو نہ کرنے سے ریاستوں کو نقصان برداشت کرنا پڑتاتھا اور درآمداد اور برآمداد بھی متاثر ہو سکتی ہے ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی سرکارریاست میں جی ایس ٹی لاگو کرنے کے ضمن میں جلد ہی اقدامات اٹھا سکتی ہے ۔انہوںنے کہا کہ ایک غلط تاثر تاجروں اور عام لوگوں میں قائم کیا گیا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جی ایس ٹی کو لاگو کرنے سے ریاست کو نہ صرف مالی فائدے حاصل ہونگے بلکہ تعمیر وترقی کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ہوگا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک کی 30ریاستیں اور مرکزی زیرانتطام علاقے جی ایس ٹی لاگو کرنے کیلئے بالکل تیار ہے تاہم جموں و کشمیر ریاست کی واحد ریاست ہے جس نے ابھی تک جی ایس ٹی کو لاگوکرنے کیلئے اقدامات نہیں اٹھا ئے ۔
Comments are closed.