ماب لنچنگ پر بولے تھرور- ملک میں آج مسلمانوں سے بہتر ہے گائے ہونا
ماب لنچنگ یعنی بھیڑ کے ذریعہ پیٹ پیٹ کر قتل کے معاملہ میں سینئر کانگریس لیڈر ششی تھرور نے ایک بڑا بیان دیا ہے۔ جمعہ کے روز راجستھان کے الور میں مبینہ طور پر گائے کی اسمگلنگ کے شک میں بھیڑ کی پٹائی سے ہوئی اکبر خان کی موت کو لے کر کانگریس لیڈر ششی تھرور نے ایک سخت بیان دیا ہے۔ اپنے ایک مضمون میں تھرور نے لکھا،’’ اس ملک میں کئی جگہوں پر تو مسلمان ہونے سے بہتر گائے ہونا ہے‘‘۔ کانگریس لیڈر کی اس تنقید پر ہنگامہ ہو گیا ہے۔
انگریزی ویب سائٹ ’’ دی پرنٹ’ نے ششی تھرور کا ایک اوپینین شائع کیا ہے جس میں تھرور نے یہ تبصرہ کیا۔ انہوں نے لکھا ’’ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے بی جے پی حکومت میں ماب لنچنگ کے بڑھتے واقعات سے انکار کیا ہے۔ مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کہتے ہیں کہ ملک میں گزشتہ 4 سالوں میں کوئی بڑا فرقہ وارانہ تشدد نہیں ہوا ہے۔ یہ دونوں ہی لیڈران غلط بول رہے ہیں‘‘۔
تھرور نے لکھا’’ بی جے پی کے لیڈران کا فرقہ وارانہ تشدد کے بارے میں دعویٰ حقائق پر کھرا کیوں نہیں اترتا۔ ایسا لگتا ہے کہ کئی جگہوں پر مسلمان کے مقابلہ گائے محفوظ ہے‘‘۔انہوں نے لکھا’’ جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے، ہندوتوا کا پرچم لے کر چلنے والی طاقتوں کی وجہ سے ملک میں کئی جگہ تشدد ہوئے ہیں۔ 2014 کے بعد سے اب تک اقلیت مخالف تشدد میں 389 لوگ مارے جا چکے ہیں اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں‘‘۔
کیرالہ کے ترووننتھاپورم میں کانگریس ایم پی ششی تھرور نے کہا ’’ گزشتہ 8 برسوں میں گئوکشی سے متعلق 70 پرتشدد واقعات ہوئے ہیں۔ ان میں سے 97 فیصد یعنی 70 میں سے 68 واقعات بی جے پی کی حکومت میں ہوئے ہیں ۔ ان تمام حادثات میں 28 لوگ مارے جا چکے ہیں اور 136 افراد زخمی ہیں۔ ان واقعات میں 86 فیصد شکار لوگ مسلمان ہیں‘‘۔
تھرور نے لکھا ہے ’’ گئو بھکتوں کے نشانے پر صرف مسلمان ہی نہیں رہے، دلت بھی ان کا شکار بنے۔ وزارت داخلہ کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے ریکارڈ بتاتے ہیں کہ 2014 سے 2016 کے درمیان ملک بھر میں 2885 فرقہ وارانہ تشدد ہوئے ہیں‘‘۔ بتا دیں کہ تھرور نے کچھ روز قبل ہی یہ تنقید کر کے بڑا تنازعہ پیدا کر دیا تھا کہ اگر بی جے پی پھر سے اقتدار میں آئی تو وہ آئین کو پھر سے لکھے گی اور ’ ہندو پاکستان‘ بنانے کا راستہ تیار کرے گی۔ وہیں، انہوں نے بی جے پی اور آر ایس ایس کو لے کر کمینٹ کیا تھ کہ ’’ ہندوتوا کا طالبانی کرن‘ شروع ہو گیا ہے۔
Comments are closed.