شہر خاص میں موجود پارکوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہہ 

انتظامیہ کی پارکوں کے تئیں سرد مہری اور غفلت شعاری کا شاخسانہ

سرینگر/20جولائی:  شہر سری نگر کے تہذیبی اور ثقافتی مرکز شہر خاص میں موجود پارکوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہہ ہے ۔ جبکہ انتظامیہ بھی ان پارکوں کے تئیں سرد مہری اور غفلت شعاری کا رویہ اختیا ر کئے ہوئے ہیں ۔ آبادی کے لحاظ سے انتہائی گنجان شہر خاص میں باشندگاں کو شاز ونادر ہی کھلی ہوا میں سانس لینے کا موقع مل پاتا ہے ۔ اس وجہ سے شہر خاص میں موجود پارکوں کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے اس حوالے سے کرنٹ نیوز آف انڈیاکے نمائندے نے جب عام لوگوں کے تاثرات جاننے کی کوشش کی توپائیں شہر کے ایک باشندے محمد رمضان ساکنہ زینہ کدل سے کچھ جاننا چاہا تو انہوں نے بتایا کہ کہ علاقے میں موجود پارکوں کے سر سری جائزہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ پارکیں اب نام کی پارکیں رہ گئی ہیں ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ پارکیں کہیں کوڑے دان تو کہیں پر تعمیراتی میٹرئل رکھنے کی جگہوں میں تبدیل ہو گئی ہیں اور کہیں پر یہ پارکیں آوارہ کتوں کی آماجگاہیں بن گئی ہیں ۔اور عام شہریوں کے لئے ان پارکوں کے بارے میں سرکاری پارک کا تصور تک بھی نہیں اُبھرتا ہے ۔سی این آئی سے بات کرتے ہوئے عبدلالرشید آشپاز نے بتایا کہ صورہ کی کالونی جس کانام ہاوسنگ کالونی صورہ ہے رہائشی مکانوں کے ساتھ پارکوں کے لئے بھی جگہیں مخصوص رکھی گئی تھیں اور ان پارکوں کے جنگلہ بندی وغیرہ بھی کی گئیں لیکن آج تک دس سال کا عرصہ گذرنے کے باوجود ان پارکوں کو پارکوں کی شکل نہیں دی گئی ۔اور اب تو یہ حالت ہے کہ ان پارکوں کی حد بندیاں بھی منہدم ہو چکی ہیں اور آہستہ اہستہ اب خالی رقبہ اراضی کو اب آس پاس کے مکین اپنی زمینوں کے ساتھ ملا کر مزے لوٹ رہے ہیں عبدل غفار نامی ایک شہری نے ہمارے نمائندے کو بتایا شہر خاص کے گنجان آبادی والے علاقوں میں جو چھوٹی چھوٹی سرکاری پارکیں حکومت نے تعمیر کروائیں ان کی دیکھ ریکھ کیلئے ہفتہ میں ایک بار مالی آیا کرتا تھا لیکن رواں سال کے دوراں کوئی بھی مالی ان پارکوں کیحالت کی خبر نہیں لینے آیا۔ عوام کی پرُ زور مانگ ہے کہ اس وقت موسمی حالات بھی قدرے بہتر اورموزوں وقت بھی ہے کہ پارکوں کے تعمیر ومرمت کروائی جائے۔

Comments are closed.