ملی ٹنسی لا حاصل عمل، جنگجو مخالف آپریشنز جا ری رہیں گے :15کور کے کمانڈر

شہری ہلاکتوں کو روکنے کیلئے تشدد کا خاتمہ ناگزیر
عوام سے کوئی ناراضگی نہیں ،کشمیری نوجوان معمول کی زندگی گزار نے کی راہ اختیار کریں

بارہمولہ:۱۴،جولائی:کے این این/ فوج نے ملی ٹنسی کو لا حاصل عمل قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ کشمیر وادی میں جنگجو مخالف آپریشنز ملی ٹنسی کے مکمل خاتمے تک جاری رہیں گے جبکہ شہری ہلاکتوں کے سلسلے کو روکنے کیلئے تشدد کا خاتمہ ناگزیر ہے ۔15کور کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرک اے کے بھٹ نے کہا کہ کشمیری نوجوانوں کو معمول کی زندگی گزار نے کی راہ اختیار کرنی چاہئے جبکہ والدین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ملی ٹنسی اور تشددسے دور رکھیں کیو نکہ شہری ہلاکتوں پر فوج کو بھی دُکھ ہوتا ہے ۔اچھہ بل اننت ناگ میں سی آر پی ایف پر ہوئے حملے کے بارے میں اُن کا کہناتھا کہ یہ حملہ امرناتھ یاترا کے راستے پر نہیں ہوا ۔دریں اثناء کنڈی کے بعد ہلمت پورہ کپوارہ کے جنگلات میں فوج وفورسز نے بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائی سلسلہ شروع کردیا ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق بارہمولہ میں ایک تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے 15کور کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرک اے کے بھٹ نے کہا کہ کشمیری نوجوانوں کو ملی ٹنسی سے دور رہنا چاہئے جبکہ والدین پر یہ بھاری ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کوملی ٹنسی سے دور رکھ معمول کی زندگی گزار نے کیلئے قائل کریں ۔انہوں نے والدین سے اپیل سے کہ وہ اپنے بچوں کو ملی ٹنسی سے دور رکھیں ۔15کور کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرک اے کے بھٹ نے اچھہ بل اننت ناگ میں جمعہ کے روز سی آر پی ایف پر ہوئے مسلح حملے کے پسِ منظر میں نامہ نگاروں سے سوالات کے جواب دے رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ ملی ٹنٹوں کی جانب سے ایسے مقامات پر حملے جاری رہیں گے ،جہاں اُنکے خلاف فوج ،پیرا ملٹریز اور پولیس کارروائی نہیں کرتی۔ان کا کہناتھا کہ ملی ٹنسی کے مکمل خاتمے تک وادی کشمیر میں جنگجو مخالف آپریشنز جاری رہیں گے ۔ 15کور کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرک اے کے بھٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ اچھہ بل اننت ناگ میں سی آر پی ایف پر ہواحملہ امرناتھ یاترا کے راستے پر نہیں ہوا ۔کشمیری نوجوانوں میں جنگجوئیت کے بڑھتے رجحان پر پوچھے گئے ایک سوال جواب میں 15کور کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرک اے کے بھٹ نے ملی ٹنسی لاحاصل عمل ہے ،اسے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا ۔انہوں نے کہا کہ شمالی کشمیر میں جنوبی کشمیر کے مقابلے میں کشمیری نوجوانوں میں جنگجوئیت کا رجحان انتہائی کم ہے ۔انہوں نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ والدین اپنے بچوں کو ملی ٹنسی سے دور رکھیں اور اُنہیں معمول کی زندگی گزار نے پر قائل کریں ۔انہوں نے کہا کہ والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو تشدد کی راہ سے دور رکھیں اور اُنہیں ہتھیار اٹھانے سے روکیں کیونکہ فوج چاہتی کشمیری نوجوان خوشحال اور باعزت زندگی گزارے ۔انہوں نے کہا کہ فوج کو یہ واضح ہدایت دی گئی کہ کم جنگجو مخالف آپریشن اور احتجاجیوں سے نمٹنے کے دوران لوگوں کے جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنائیں ،ان کا کہناتھا کہ پتھراؤ کے دوران بھی فوج کو صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت دی گئی جبکہ فوج اُس وقت گولی چلاتی ہے ،جب اُسے اپنا دفاع کرنا پڑتا ہے۔15کور کمانڈر نے کہا کہ فوج کی کشمیری عوام سے کوئی ناراضگی نہیں ،کشمیری ہمارے اپنے لوگ ،نوجوان تشدد سے دور رہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر کہیں کوئی شہری ہلاکت ہوتی ہے ،تو فوج کو بھی اس کا دکھ ہوتا ہے ،تاہم شہری ہلاکتوں کو روکنے کیلئے تشدد کا خاتمہ ناگزیز ہے ۔یاد رہے کہ عام شہریوں کی ہلاکت کو درد ناک قرار دیتے ہوئے ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے کہا تھاکہ ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ اپنوں کی جدائی کا درد اور دکھ کیا ہو تا ہے ۔انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ انکاؤنٹر مقامات اور بنا مطلب پتھراؤ سے دور رہیں کیونکہ ہم نہیں چاہتے کوئی بھی جاں بحق ہو جبکہ شہری ہلاکتوں کے سلسلے کو روکنے کیلئے حکمت عملی ترتیب دی جارہی ہے ۔قا بل ذکر ہے کہ اچھہ بل اننت ناگ میں جمعہ کو جنگجوؤں نے سی آر پی ایف کی پارٹی پر فائرنگ کی تھی جسکے نتیجے میں سی آر پی ایف کا اسسٹنٹ سب انسپکٹرسمیت2اہلکار ہلاک اور عام شہری سمیت متعدد زخمی ہوئے تھے، لشکر طیبہ نے حملے کی ذمہ داری لی ۔دریں اثناء فوج نے ہفتہ کو مشکوک نقل وحرکت کے بعد ہلمت پورہ کپواتہ کے جنگلات میں تلاشی کارروائی کا سلسلہ شروع کیا۔معلوم ہوا ہے کہ فوج کی14آرآر اور ایس اوجی اہلکاروں نے چیک فتح خان جنگلات کا محاصرہ کیا اور یہاں تلاشی کارروائی کا سلسلہ شروع کیا ۔فوج وفورسز کو خد شہ ہے کہ مذکورہ جنگلات میں جنگجو ؤں کا ایک گروپ موجود ہے ۔یاد رہے کہ کنڈی کپوارہ کے جنگلات میں کئی روز تک جنگجو مخالف آپریشن جاری رہا ،جس دوران جنگجوؤں اور فوج کے درمیان کئی مرتبہ آمنا سامنا ہونے کے علاوہ گولیوں کا تبادلہ ہوا ،جس میں فو ج ایک کمانڈو اور ایک جنگجو جاں بحق ہوا ۔

Comments are closed.