سبھی کمیونٹی کو اپنا پرسنل لاء ماننے کا اختیار حاصل ہے: حامد انصاری

سابق نائب صدر حامد انصاری نے شریعہ عدالت کی حمایت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ سبھی کمیونٹی کو اپنا پرسنل لاء ماننے کا اختیار حاصل ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق انصاری نے کہا کہ لوگ سماجی طور و طریقوں کو قانونی نظام میں شامل کر رہے ہیں جو کہ وہم پھیلا نےوالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہر کمیونٹی اپنے اپنے قانون کو مان سکتی ہے۔

بھارت میں پرسنل لاء شادی طلاق اور گود لینے جیسے مسائل کا احاطہ کرتی ہے۔ہر برادری کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے پرسنل لاء کو مانیں۔

انہوں نے مآب لنچنگ کی واردات پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی” قانون کو ہاتھ میں لینے کا حق حاصل نہیں ہے”۔
حامد انصاری نے کہا کہ ”مجھے لگتا ہے کہ لوگوں کا رد عمل سب کچھ بیان کر رہا ہے، کسی کو بھی قانون کو بھی ہاتھ میں لینے کا حق نہیں ہے”۔

انہوں نے سوشل میڈیا کے سلسلے میں کہا کہ کہ” اس کے استعمال کے سلسلے میں ابھی کوئی دلچسپی نہیں ہے، میں ابھی 20 ویں صدی میں ہوں، میرے پاس ایک کمپوٹر اور کتا بیں ہیں اور اس کے ساتھ میں خوش ہوں”۔

خیال رہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ملک کے ہر گوشے میں شریعہ کورٹ کے قیام کا منصوبہ ہے۔بورڈ کے رکن ظفر یاب جیلانی نےکہا تھا کہ” 15 جولائی کو دہلی میں ہونے والی میٹنگ میں اس مدعے پر غور کیا جائے گا”۔ انہوں نے کہا تھا کہ اسلامی اصطلاح میں اسے دارالقضاء کہا جاتا ہے”۔

Comments are closed.