سرحدی گاؤں کی ترقی کے لیے1100 کروڑ روپے مختص: راج ناتھ

مرکزی حکومت نے سرحدی گاؤں کی جامع اور ہمہ جہت ترقی کے لیے1100 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، سنہ 16۔2015 میں یہ رقم 990 کروڑ روپے تھی۔

مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ”سرحدی آبادی ہمارا کلیدی اثاثہ ہے اور سرحدی سلامتی کو برقرار رکھنا اہم ذمہ داری ہے”۔

انہوں نے کہا کہ سماجی اور اقتصادی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کی جانی چاہیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ یہ لوگ سرحدی گاؤں میں رہ سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت سرحدی آبادی کی سماجی اور معاشی فلاح و بہبود کو سب سے زیادہ ترجیح دیتی ہے۔انہیں پینے کا صاف پانی، اسکولز اور ہسپتال اور دیگر سہولیات فراہم کرتی ہے، تاکہ ان علاقوں میں انسانی آبادی کے رہن سہن کو یقینی بنایا جاسکے۔

اس پروگرام کے تحت 1100 کروڑ روپے مختص کیے ہیں جو 16۔2015 میں 990 کروڑ روپے تھے۔ سرحدی گاؤں کی جامع اور ہمہ جہت ترقی کے لیے 61 مثالی گاؤں کو ترقی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جس کے لیے ریاستی حکومتوں کو 126 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ ضرورت کے مطابق اضافی فنڈز بھی دستیاب کرائے جائیں گے۔

اس کے تحت ہر گاؤں بنیادی سہولتیں دی جائیں گی جیسے پرائمری ہیلتھ سینٹر، پرائمری تعلیم، کمیونٹی سینٹر، کنکٹی وٹی، پانی کی نکاسی اور پینے کا پانی فراہم کرے گا۔ تاکہ سرحدی علاقوں میں مستقل رہن سہن کو یقینی بنایا جاسکے۔

اس موقع پر وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بی اے ڈی پی کے تحت مختلف پروجیکٹوں کے نفاذ اور بہتر منصوبہ بندی کے لیے بی اے ڈی پی آن لائن بندوبست نظام کا آغاز کیا۔

سرحدی ریاستیں اپنا اپنا متعلقہ سالانہ ایکشن پلان آن لائن داخل کرسکتی ہیں اور الیکٹرونکز طرز پر وزارت داخلہ سے منظوریاں حاصل کرسکتی ہیں جو منظوری کے عمل میں شفافیت لائے گا اور پلانگ اور نفاذ کو بہتر بنائے گا۔

اس سلسلے میں اروناچل پردیش، جموں و کشمیر، تریپورہ، اترپردیش اور بنگال کی حکومت کی طرف سے پریزینٹیشن دیئے گئے۔

اس دوران امور داخلہ کے وزیر مملکت ہنس راج گنگا رام اہیر، امور داخلہ کے وزیر مملکت کرن رجیجو، داخلہ سکریٹری راجیو گوبا اور سرحدی انتظام کے خصوصی سکریٹ

Comments are closed.