1931کے 22شہدائے کشمیرکی147ویں برسی مزارشہداء چلوکال کے پیش نظرقدغن
شہرخاص اورسیول لائنزمیں بندشیں ،جمعہ کی صبح ہوگی سرکاری تقریب
سرینگر:١٢،جولائی: 147برس قبل آج ہی کے دن یعنی13جولائی1931کوعبدالقدیرنامی ایک مزاحمت پسندکے کیس کی شنوائی کے دوران سری نگرسینٹرل جیل کے باہرجمع لوگوں پرڈوگرہ فوج کے اہلکاروں نے عین نمازظہرکے وقت بندوقوں کے دہانے کھول دئیے تھے ،اورظہرکی اذان دینے والے 22موذن یکے بعددیگرے گولیوں کانشانہ بن کرجام شہادت نوش کرگئے ۔1931کے ان22 شہداء کی برسی کے موقعہ پرمشترکہ مزاحمتی لیڈرشپ نے مزارشہداء نقشبندصاحب ؒ چلوکی کال دی ہے ۔مزاحمتی قیادت کی چلوکال کے پیش نظرشہرخاص میں بندشیں عائدرہیں گی۔ضلعی انتظامیہ سری نگرکے ذرائع نے بتایاکہ جمعہ کے روزشہرخاص اورسیول لائنزمیں حکم امتناعی کے تحت کچھ بندشیں عائدرکھی جارہی ہیں تاکہ امن وقانون کی صورتحال میں کوئی بگاڑپیدانہ ہو۔اُدھرمعلوم ہواکہ جمعہ کوعلی الصبح مزارشہداء نقشبندصاحب پرسرکاری سطح کی ایک تقریب منعقد ہوگی جبکہ نیشنل کانفرنس اورپی ڈی پی سمیت کئی مین اسٹریم لیڈروں کے لیڈران بھی یہاں صبح کے وقت حاضری دیں گے۔کشمیرنیوزنیٹ ورک کے مطابق آج یعنی13جولائی بروزجمعتہ المبارک کو کشمیرکے اولین شہداء کی 147ویں برسی منائی جارہی ہے اوراس موقعہ پرتاریخی مزارشہداء نقشبندصاحب میں سرکاری سطح پرایک تقریب کااہتمام ہوگاجبکہ نیشنل کانفرنس ،پی ڈی پی اوردیگرمین اسٹریم سیاسی جماعتوں کے سینئرلیڈران یہاں حاضری دیکران شہداء کوخراج عقیدت پیش کریں گے ۔تاہم حسب روایت اسباربھی مزاحمتی لیڈروں اورکارکنوں کومزارشہداء پرآنے یایہاں جمع ہونے کی اجازت نہیں دی جائیگی ۔خیال رہے مشترکہ مزاحمتی قیادت نے دوروزقبل جاری کردہ اپنے ایک بیان میں یوم شہداء کشمیرکے حوالے سے ایک پروگرام کااعلان کیاتھا،جس میں یہ کہاگیاکہ 13جولائی کوسیدعلی گیلانی ،میرواعظ عمرفاروق اورمحمدیاسین ملک اگ الگ مقامات سے مزارشہداء نقشبندصاحب کی جانب جلوسوں کی قیادت کریں گے ۔تاہم تینوں سینئرمزاحمتی قائدین سمیت کئی مزاحمتی لیڈروں کوخانہ وتھانہ نظربندکردیاگیاہے۔ سیدعلی گیلانی اورمیرواعظ عمرفاروق سمیت کئی لیڈروں کوگھروں میں نظربندرکھاگیاہے جبکہ محمدیاسین ملک ،عمرعادل ڈاراوردیگرمزاحمتی لیڈرمختلف پولیس تھانوں میں بندہیں ۔اُدھرضلعی انتظامیہ نے یوم شہداء کشمیرکے موقعہ پرمشترکہ مزاحمتی لیڈرشپ کی جانب سے دئیے گئے پروگرام کے پیش نظرکچھ احتیاطی اقدامات کافیصلہ لیاہے ۔معلوم ہواکہ مزاحمتی لیڈروں اورکارکنوں کی مزارشہداء کی جانب ممکنہ پیش قدمی کوروکنے نیزاس دوران ممکنہ احتجاجی مظاہروں کاتوڑکرنے کیلئے جمعہ کے روزصبح سے ہی شہرخاص اورسیول لائنزکے تحت آنے والے علاقوں میں بندشیں عائدرکھنے کافیصلہ لیاہے جبکہ کسی بھی صورتحال کامقابلہ کرنے کیلئے حساس علاقوں ومقامات پرپولیس اورفورسزکے اضافی دستے تعینات رہیں گے ۔اُدھرپولیس ذرائع نے بتایاکہ جمعہ کے روزسری نگرشہرمیں کم وبیش7پولیس تھانوں بشمول خانیار،نوہٹہ ،مہاراج گنج ،رعناواری ،صفاکدل ،کرالہ کھڈاورمائسمہ کے تحت آنے والے علاقوں میں دفعہ 144کے تحت بندشیں عائدرکھی جائیں گی ۔
Comments are closed.