شہری ہلاکت کی مجسٹرئیل انکوائری کے احکامات
اے ڈی سی ہندوارہ انکوائری آفیسرمقرر،فوج کیخلاف مقدمہ درج
کپوارہ:١٢،جولائی: گورنرانتظامیہ نے ترہگام کپوارہ میں بدھ کی شام فوجی اہلکاروں کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک20سالہ نوجوان دکاندارکی ہلاکت کے واقعے کاسخت نوٹس لیتے ہوئے شہری ہلاکت کے اس معاملے کی مجسٹرئیل انکوائری کے احکامات صادرکردئیے ہیں ۔کے این این کومعلوم ہواکہ فوجی اہلکاروں کے ہاتھوں 20سالہ نوجوان تاجرخالدغفارملک ولدعبدالغفارملک ساکنہ بونہ پورہ ترہگام کی ہلاکت کے واقعے کی تہہ تک پہنچنے اوراصل حقائق کومنظرعام پرلانے کیلئے ضلع مجسٹریٹ کپوارہ نے بدھ کی شام پیش آئے اس واقعے کی مجسٹرئیل انکوائری ے احکامات صادرکئے ۔ضلع مجسٹریٹ کپوارہ خالدجہانگیر نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرہندوارہ کو انکوائری آفیسرمقررکردیا،اوراُنھیں اس واقعے سے متعلق انکوائری رپورٹ ایک ماہ کے اندرپیش کرنے کی ہدایت دی گئی ۔ضلع مجسٹریٹ کپوارہ نے کہاکہ ترہگام ہلاکت کے سلسلے میں فوج کیخلاف مقامی پولیس تھانہ میں مختلف دفعات کے تحت کیس درج کیاگیاہے۔اُدھرپولیس ذرائع نے بیس سالہ نوجوان خالدغفارکی ہلاکت کے سلسلے میں پولیس تھانہ ترگام میں کیس درج کئے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ بدھ کی شام ترہگام قصبہ سے 8بہاراورٹریٹورئیل آرمی کی160ویں بٹالین سے وابستہ فوجی گاڑیاں گزررہی تھیں کہ اس دوران کچھ افرادنے سنگباری کی ،جسکے بعدیہاں گولی چلنے کاواقعہ بھی پیش آیا۔انہوں نے کہاکہ ایک نوجوان دکاندارکی ہلاکت کے واقعے کے سلسلے میں پولیس تھانہ ترہگام میں ایف آئی آرزیرنمبر46/2018زیردفعات148،149،323،336اور307آر پی سی کے تحت کیس درج کیاگیا۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ فائرنگ اورشہری ہلاکت کایہ واقعہ رونماہونے کے وقت نزدیک ہی قائم ایک فوجی یونٹ سے وابستہ یہاں تعینات تھے اورگشت کررہے تھے ۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ تحقیقات کے دوران اسبات کاپتہ لگایاجائیگاکہ گولی کن حالات میں چلی اورفوج کی کس یونٹ یابٹالین سے وابستہ اہلکاریااہلکاروں نے گولی چلائی ۔غورطلب ہے کہ گزشتہ 6دنوں کے دوران شہری ہلاکتوں کے نصف درجن واقعات پیش آچکے ہیں تاہم گورنرراج میں پہلی مرتبہ شہری ہلاکت کے کسی واقعے کی مجسٹرئیل انکوائری کے احکامات صادرکئے گئے ہیں ۔
Comments are closed.