شہری ہلاکت کیخلاف کپوارہ ضلع میں احتجاجی ہڑتال:ترہگام میں کرفیونافذ خالدکی تجہیزوتکفین کے بعد پُرتشدد مظاہرے
قصبہ میں سنگباری وٹیرگیس شنگ،کئی افراد زخمی:ضلع کپوارہ میں انٹرنیٹ خدمات منقطع،سبھی تعلیمی ادارے بند
کپوارہ:١٢،جولائی:کے این این: بدھ کوشام دیرگئے فوجی اہلکاروں کی فائرنگ کے نتیجے میںنوجوان دُکاندار22سالہ خالدغفار ولدعبد الغفار ملک ساکنہ بونہ پورہ ترہگام کی ہلاکت کیخلاف جمعرات کوسرحدی ضلع کپوارہ میں احتجاجی ہڑتال رہی جبکہ ممکنہ احتجاجی مظاہروں کی روکتھام کیلئے ضلع مجسٹریٹ کپوارہ کی ہدایت پر قصبہ ترہگام میں کرفیونافذرکھاگیاجبکہ ضلع کپوارہ اورسوپورکے کچھ علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ خدمات منقطع رہیں ۔تاہم کرفیواورسخت بندشوں کے باوجود ہزاروں کی تعدادمیں لوگ ترہگام میں جمع ہوئے اورانہوں نے معصوم خالد کی نماجنازہ میں شرکت کی جسکے بعدسینکڑوں اشکبارآنکھوں ،رقعت آمیزمناظراورنعرے بازی کے بیچ اس معصوم دکاندارکی میت آبائی مقبرہ میںسپردلحدکی گئی ۔اُدھر آخری رسومات کی انجام دہی کے بعدمشتعل نوجوانوں کی سنگباری کے جواب میں پولیس وفورسزاہلکاروں نے آنسوگیس کے گولے داغے اورپیلٹ گن کااستعمال کیا،جسکے نتیجے میں کئی افرادزخم ہوگئے۔کشمیر نیوزنیٹ ورک نمائندے کے مطابق سرحدی ضلع کپوارہ میں جمعرات کو22سالہ نوجوان تاجرخالدغفارملک کی ہلاکت کیخلاف ہمہ گیرہڑتال رہی۔ضلع ہیڈکوارٹرکپوارہ ،کرالہ پورہ ،سوگام ،ترہگام ،لولاب اوردیگرقصبہ جات میں سبھی بازار،کاروباری مراکزاورتعلیمی ادارے ندرہے جبکہ سڑکوں سے مسافربرداراورنجی گاڑیاں غائب رہیں ۔خیال رہے ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظرضلع مجسٹریٹ کپوارہ نے بدھ کی شام ہی جمعرات کوپورے ضلع میں تمام اسکول اورکالج بندرکھنے کے احکامات صادرکئے تھے ۔اُدھربدھ کی شام سنگباری کے ایک واقعے کے دوران فوجی اہلکاروں کی فائرنگ کے دوران نوجوان دکاندارخالدغفارجسکااپناایک بھائی بھی فوجی ہے،گردن میں گولی لگنے سے جاں بحق ہوجانے کیخلاف سخت عوامی ردعمل کے پیش نظرمہلوک نوجوان کے آبائی قصبہ ترہگام میں جمعرات کوعلی الصبح سے ہی اعلانیہ کرفیونافذرہا،اورکسی بھی صورت حال کامقابلہ کرنے کیلئے اس سرحدی قصبہ اوراسکے نواحی علاقوں میں بڑی تعدادمیں پولیس اورسی آرپی ایف اہلکاروں کے دستے تعینات کئے گئے تھے۔تاہم سخت کرفیووبندشوں ،ناکہ بندی اوربڑی تعدادمیں سیکورٹی دستوں کی تعیناتی کے باوجودقصبہ ترہگام میں اطراف واکناف سے لوگوں کی ایک بڑی تعدادیہاں پہنچی۔ ہزاروں لوگوں نے معصوم خالدکی نمازجنازہ میں شرکت کی جبکہ اس دوران پوراقصبہ آزادی واسلام کے حق میں بلندکئے گئے نعروں سے گونج اُٹھا۔نمازجنازہ کے بعدایک جلوس کی صورت میں 22سالہ خالدکی میت کوآبائی مقبرہ پہنچایاگیاجہاں سینکڑوںاشکبارآنکھوں ،آہوں ،سسکیوں اورفلک شگاف نعروں کے بعداس نوجوان دکاندارکی میت سپردلحدکی گئی ۔اس دوران جونہی معصوم خالدغفارکی تجہیزوتکفین کے نوجوانوں کی ٹولیوں نے قصبہ ترہگام میں کئی مقامات میں سڑکو ں پرنکل کرپولیس وفورسزاہلکاروں پرسنگباری شروع کردی ۔مشتعل نوجوانوں کی خشت باری کے جواب میں پولیس وفورسزاہلکاروں نے ٹیرگیس شلنگ کی اورپیلٹ فائرنگ کی ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ ٹیرگیس شلنگ کے باعث پورے ترہگام قصبہ میں دھواں چھاگیاجبکہ اس کارروائی کے دوران کئی نوجوان زخمی ہوگئے،جن میں سے محمدیوسف بٹ سمیت3زخمیوں کوڈسٹرکٹ اسپتال کپوارہ منتقل کیاگیا ۔اُدھر ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظرضلع کپوارہ کے سبھی حساس قصبوں وعلاقوں میں اضافی تعدادمیں پولیس وفورسزکی نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ افواہوں کی روکتھام کیلئے ضلع کپوارہ اورسوپورمیں موبائل انٹرنیٹ سروس کومعطل رکھاگیا۔پورے ضلع کپوارہ ماسوائے مژھل ،ٹنگڈاراورکران میں ضلع مجسٹریٹ کپوارہ خالدجہانگیرکی ہدایت پرجمعرات کوتمام اسکول اورکالج بندرہے ۔خیال رہے فوج کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں بتایاگیاکہ بدھ کے روزقصبہ ترہگام میں وقفہ وقفہ سے سنگباری ہوتی رہی اورروڑپیٹرولنگ پارٹی کے اہلکارسنگبازوں کومنتشرکرتے رہے تاہم شام کے وقت جب یہاں سے ایک فوجی کانوائے گزررہی تھی توکچھ افرادنے پھرسنگباری شروع کردی ،اوراس موقعہ پرفوجی جوانوں کواپنے بچائومیں کارروائی کرناپڑی۔
Comments are closed.