شہری ہلاکتوں کیلئے فورسز ذمہ دار :جماعت اسلامی
حقوق انسانی کی تنظیمیں سرکاری مظالم کو بند کرانے کیلئے مؤثر اقدامات اُٹھائیں
سرینگر:۱۰،جولائی : جماعت اسلامی نے کہا کہ وادی کشمیر میں جاری شہری ہلاکتوں کیلئے فورسز ذمہ دار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حقوق انسانی کی تنظیمیں سرکاری مظالم کو بند کرانے کیلئے مؤثر اقدامات اُٹھائیں۔ایڈوکیٹ زاہد علی ترجمان اعلیٰ جماعت اسلامی جموں وکشمیرکی جانب سے موصولہ ایک تحریری بیان کے مطابق جماعت اسلامی کے ایک وفد نے ہاؤورہ کولگام جاکر حال ہی میں بھارتی فوج کی اندھا دھند فائرنگ اور تشدد کی کارروائیوں میں جاں بحق ہوئے تین نوجوانوں جن میں ایک ۱۲؍سالہ کمسن لڑکی عندلیب علی دختر علی محمد الائی شامل ہے کے لواحقین سے ملا اور اُن کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ دیگر دو شہدا کے نام۲۲؍سالہ ارشاد مجید لون ولد عبدالمجید لون اور ۱۹؍سالہ شاکر احمد کھانڈے ولد محمد حسین کھانڈے ہیں۔ تینوں معصوم نوجوان بلاکسی قصور کے جان بوجھ کر اُس وقت جاں بحق کئے گئے جب بھارتی فوج کی ایک بڑی تعداد گاؤں میں عین دوپہر کو داخل ہوگئی اور آتے ہی مقامی اسکول کے بچوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور اسکول احاطے میں داخل ہوکر اساتذہ کے ساتھ ساتھ کئی بچوں کے ساتھ بھی جارحانہ سلوک کیا۔ کئی لڑکوں کو موقعہ پر گرفتار کیا گیا۔ جب گاؤں کے لوگوں نے یہ ظالمانہ کارروائی دیکھی تو انہوں نے اس کے خلاف بھر پور احتجاج کیا اور ممکن ہے کہ چھوٹے بچوں نے پتھر بھی پھینکے ہوں۔ اس کے جواب میں ان فوجیوں نے راست فائرنگ کی اور مندرجہ بالا تین بے گناہ اور معصوم نوجوانوں کو شہید کرڈالا۔ انہوں نے لوگوں کو زخمی ہونے کے بعد ان نوجوانوں کو اُٹھانے کا موقعہ بھی نہ دیا جس کے نتیجے میں اُن کے جسم سے کافی خون بہا اور بظاہر یہ بھی اُن کے جاں بحق ہونے کا باعث بن گیا۔ ارشاد مجید لون کے چھوٹے بھائی زاہد مجید کو گولی سے زخمی کرکے دور تک گھسیٹا گیا اور پھر سڑک پر لاکر اُس کی ٹانگوں پر فائرنگ کرکے مرنے کے لیے چھوڑدیا۔ خوش قسمتی سے چند لوگوں نے اُس کو اُٹھاکر ہسپتال لیا اور وہ اس وقت برزلہ ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ اس کی دونوں ٹانگوں پر گولیاں لگی ہیں جن سے اُن کی ہڈیاں کئی ٹکڑوں میں کٹ کر رہ گئی ہیں۔ ان کے دماغی نسوں کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ یہ کارروائی ظاہر ہے ایک واضح قاتلانہ اقدام ہے لیکن اس کے خلاف یہاں نافذ سیاہ قوانین کی موجودگی میں کوئی بھی قانونی چارہ جوئی ہونا ناممکن ہے۔ جماعت اسلامی جموں وکشمیر اس ظالمانہ کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے ان تینوں معصوم شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے اور تمام زخمیوں کی فوری صحت یابی کی دعاگو بھی ہے نیز کندلن شوپیان میں بھارتی فوجی کارروائی کے نتیجے میں زخمی ہوئے افراد کے ساتھ مکمل ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے جماعت اس کارروائی کی کڑی مذمت کرتی ہے۔ نیز محمد اسحاق نائیکو ساکن میمندر شوپیان کی اس کارروائی کے نتیجے میں حرکت قلب بند ہونے سے جو موت ہوئی ہے جماعت اس پر گہرے افسوس کا اظہار کرتی ہے اور مرحوم کے لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتی ہے۔ادھر عبید منظور لون ساکن نادی ہل رفیع آباد نامی نوجوان تین ہفتے قبل بھارتی فوجیوں کی بلاوجہ فائرنگ کی زد میں آکر زخمی ہوا تھا‘ صورہ ہسپتال میں زندگی کی جنگ ہار بیٹھا اور دارالبقاء کی طرف روانہ ہوا۔ جماعت اسلامی عبید مجید کے لواحقین سے مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی موت کے لیے فوجی کارروائی کو ذمہ دار قرار دیتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ اس ظالمانہ کارروائی میں ملوث فوجی اہلکاروں کے خلاف باضابطہ قانونی کارروائی عمل میں لاکر ان کو سخت سزادی جائے۔ جماعت انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں سے بھی اپیل کرتی ہے کہ وادی میں جاری سرکاری مظالم کو بند کرانے کی خاطر مؤثر اقدامات کا اعلان کریں۔
Comments are closed.