پہلی مرتبہ اسمبلی کیلئے منتخب شدہ50سے زیادہ ممبران موجودہ صورتحال سے ناخوش
بیشترحکومت سازی کیلئے چپکے چپکے زیرتگ ودو
مشاورت کے بعدلونگاحتمی فیصلہ :جاویدبیگ،سجادلون بڑے دل والا:عبدالرشیدڈار
سری نگر:۱۰،جولائی : پی ڈی پی ،بی جے پی اتحادٹوٹ جانے کے نتیجے میں ریاستِ جموں وکشمیرمیں گورنرراج نافذہونے کے بعداگرکوئی طبقہ موجودہ سیاسی غیریقینی صورتحال سے ناخوش یاپریشان ہے تووہ ایسے ممبران اسمبلی ہیں جوسال 2014میں پہلی مرتبہ اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے ہیں ۔کے این این کے پاس دستیاب تفصیلات کے مطابق87رُکنی ریاستی اسمبلی میں حیرت انگیزطورپرپہلی مرتبہ منتخب ہونے والے ممبران اسمبلی کی تعداد50سے زیادہ ہے ،جن میں سابق مخلوط سرکارکی کابینہ میں شامل رہے کئی سینئراورجونیئروزیربھی شامل ہیں ۔صرف کشمیروادی میں پہلی مرتبہ اسمبلی تک پہنچنے والے ممبران کی تعداد25ہے جبکہ صوبہ جموں اورلداخ سے تعلق رکھنے والے اتنے ہی ممبران اسمبلی پہلی مرتبہ منتخب ہوئے ہیں ۔انFirst-Timeممبرا ن اسمبلی میں سے زیادہ کاتعلق پی ڈی پی اوربی جے پی سے ہے جبکہ این سی اورکانگریس کے کئی ممبران بھی پہلی مرتبہ عوامی ووٹ اورسپورٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔قابل ذکرہے کہ پہلی مرتبہ منتخب ہونے والے ممبران اسمبلی میں مخلوط سرکارکی کابینہ میں شامل رہے سینئروزیرڈاکٹرحسیب درابو،سیدالطاف بخاری ،عمران رضاانصاری ،محمداشرف میر،غلام نبی لون ہانجورہ ،سجادغنی لون،ڈاکٹرنرمل سنگھ ،کویندرگپتااوربالی بھگت بھی شامل ہیں ۔سال 2014کے اوآخرمیں ہوئے اسمبلی انتخابات میں کامیابی پاکراسمبلی تک پہنچے ممبران اسمبلی کیلئے عوامی نمائندگی کاسفربغیررکاوٹ نہیں رہابلکہ اس سفر میں کئی مرتبہ رکاؤٹ پیداہوئی سب سے پہلے انتخابی نتائج ظاہرہونے کے بعدنئی سرکارکی تشکیل میں کئی ماہ لگے ،اورپھرمارچ 2015میں مخلوط سرکاربننے کے بعد7جنوری 2016کو اسوقت کے وزیراعلیٰ مفتی محمدسعیدکے انتقال کے بعدجب فوری طورپی ڈی پی ،بی جے پی مخلوط سرکارکی کمان سنبھالنے کیلئے محبوبہ مفتی راضی نہیں ہوئیں توریاست میں تقریباً3ماہ کیلئے گورنرراج نافذرہا۔4اپریل2016کوجب محبوبہ مفتی نے ریاست کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف لیاتومحض تین ماہ بعدکشمیروادی میں گرمائی ایجی ٹیشن چھڑگئی جوکئی ماہ تک جاری رہی ۔سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی سربراہی والی مخلوط سرکارکے دورمیں سیاسی اورسیکورٹی صورتحال ہچکولے کھاتے رہی کیونکہ ایک جانب شہری ہلاکتوں کے واقعات وقوع پذیرہوتے رہے اوردوسری جانب نوجوانوں میں ملی ٹنسی کارُجحان بڑھا۔ایجنڈاآف لائنس میں شامل نکات کی عمل آوری کے معاملے پرپی ڈی پی اوربی جے پی کے درمیان کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ،اوراس بناء پرمخلوط سرکارکے بارے میں ہمیشہ غیریقینی صورتحال رہی ۔بالآخر19جون2018کوجب بی جے پی نے اچانک پی ڈی پی سے ناطہ توڑدیاتومخلوط سرکارگرگئی ،اورریاست میں غیریقینی سیاسی صورتحال پیداہوتے ہی اسی روزگورنرراج نافذ کردیاگیا۔الغرض موجودہ ممبران اسمبلی اپنے اپنے حلقہ انتخاب کی جانب کوئی توجہ نہیں دے پائے اورنہ وہ عوام سے کئے وعدوں کوعملی جامہ پہناسکے ۔کئی فسٹ ٹائمریعنی پہلی مرتبہ منتخب ہوئے ممبران اسمبلی نے بتایاکہ وہ باربارپیداہونے والی صورتحال یاگورنرراج سے کسی بھی طورخوش نہیں ہیں ،اورچاہتے ہیں کہ نئی حکومت بن جائے ۔بیشترایسے ممبران اسمبلی جن میں پی ڈی پی ،کانگریس ،نیشنل کانفرنس اوربی جے پی سے وابستہ ارکان اسمبلی بھی شامل ہیں ،نے بتایاکہ وہ اسبات کے حق میں ہیں کہ نئی سرکارتشکیل پائے کیونکہ ابھی موجودہ اسمبلی کے کم وبیش2سا ل باقی ہیں ۔اس دوران ممبراسمبلی بارہمولہ جاویدحسن بیگ نے کہاکہ ممبران اسمبلی نہیں چاہتے ہیں کہ گورنرراج طول پکڑلے یاریاست میں ضمنی انتخابات ہوں ۔انہوں نے کہاکہ پہلی مرتبہ منتخب ہوئے ممبران اسمبلی کی خواہش ہے کہ نئی سرکاربن جائے تاکہ وہ اپنے حلقہ انتخابات میں عوام سے کئے گئے وعدوں کوعملی جامہ پہناسکیں ۔جاویدبیگ کاکہناتھاکہ گزشتہ اسمبلی انتخابات کے بعدسے ہی ریاست میں سیاسی غیریقینی صورتحال پیداہوتی رہی ،جس وجہ سے ممبران اسمبلی اپنے حلقوں کی جانب پوری توجہ نہیں دے سکے ۔انہوں نے کہاکہ بیشترممبران اسمبلی خاصکرجوپہلی مرتبہ منتخب ہوئے ہیں ،کی خواہش ہے کہ نئی سرکارتشکیل پائے ۔ممبراسمبلی بارہمولہ نے کہاکہ وہ اپنے ساتھیوں ،کارکنوں اورحامیوں کے علاوہ اپنے سیاسی اُستادمظفرحسین بیگ کیساتھ مشاورت کے بعداسبات کافیصلہ لیں گے کہ آیاوہ پی ڈی پی کیساتھ جڑے رہتے ہیں کہ نہیں ۔ کانگریس سے وابستہ ممبراسمبلی سوپورعبدالرشیدڈار نے دعاکی کہ جلدسے جلدنئی سرکاربن جائے ۔ایک انٹرویو کے دوران ایم ایل اے رشیدڈارنے سابق وزیراورپیپلزکانفرنس کے چیئرمین سجادغنی لون کی تعریف کرتے ہوئے بتایاکہ سجادصاحب نے کابینہ وزیرکی حیثیت سے اچھے کام کئے ۔ممبراسمبلی سوپورنے سجادلون کوبڑے دل والاقراردیتے ہوئے دعاکی کہ موصوف کی سربراہی میں نئی سرکاربنے۔
Comments are closed.