کند لان شوپیان میں خونین معرکہ آرائی ،عوامی مزاحمت
مقامی جنگجو سمیت2جنگجو ،ایک طالب علم جاں بحق
جی او سی سمیت2فوجی اہلکار زخمی ،شوپیان ،کولگام ،پلوامہ میں پُرتشدد احتجاجی مظاہرے ،50زخمی
شوپیان:۱۰،جولائی :کے این این/ جنوبی ضلع شوپیان کے مضافاتی گاؤں کند لان میں منگل کو جنگجوؤں اور فوج وفورسز کے درمیان خونین معرکہ آرائی اور عوامی مزاحمت کے دوران کے ایک مقامی جنگجو سمیت2جنگجو اور ایک 18سالہ طالب علم جاں بحق ہوا اور جے سی او سمیت2فوجی اہلکار زخمی ہوئے جبکہ 2رہائشی مکان مکمل طور زمین بوس ہوگئے اور دیگر کئی مکانوں نقصان پہنچا۔ڈائریکٹر جنرل آف پولیس شیش پال وید نے جھڑپ اور آپریشن اختتام ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ معرکہ آرائی میں 2جنگجو کی مقامِ جھڑپ سے برآمد کی گئیں اور اِن کا تعلق غالباً جیش محمد عسکری تنظیم سے تھا ۔اس دوران فورسز کے ساتھ جائے جھڑپ کے نزدیک انکاؤنٹر مخالف پُرتشدد جھڑپوں کے دوران فورسز کی کارروائی میں50سے زیادہ افراد زخمی ہوئے جن میں سے کئی ایک حالت اسپتالوں میں نازک بنی ہوئی ہے ۔اس دوران جنوبی کشمیر کے تین اضلاع شوپیان ،پلوامہ اور کولگام کے کئی علاقوں میں مظاہرین اور فورسز کے درمیان پُرتشدد جھڑپیں ہوئیں جسکی وجہ سے یہاں کشیدگی وپُرتناؤ صورتحال بنی ہوئی ۔ادھر جنوبی کشمیر میں امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور افواہوں کو روکنے کیلئے جنوبی کشمیر میں موبائیل انٹر نیٹ خد مات منقطع کردی گئیں ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق جنوبی ضلع شوپیان میں اُس وقت جنگجوؤں اور فوج وفورسز کے درمیان شدید جھڑپ شروع ہوئی ،جب فوج ،ایس اوجی اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے مشترکہ طور پر ضلعے کے مضافاتی گاؤں کندلان میں جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا ۔معلوم ہوا ہے کہ فوج وفورسز کو ایک خفیہ اطلاع ملی تھی کہ جنگجوؤں کا ایک گروپ مذکورہ گاؤں میں موجود ہے ،جسکے بعد فوج کی 34آر آر ،جموں وکشمیر پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی ) اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے منگل کی علی الصبح پورے گاؤں کا محاصرہ کیا ۔ذرائع نے بتایا کہ فوج وفورسز اہلکاروں نے گاؤں کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کیا ،تاکہ جنگجو محاصرہ توڑ کر فرار نہ ہوسکے ۔ذرائع نے بتایا کہ فورسز کی ایک مشترکہ پارٹی جب ایک مخصوص مقام کی طرف بڑھ رہی تھی ،تو یہاں موجود جنگجوؤں نے اُن پر اندھا دھند فائرنگ کی ،جوابی کارروائی میں فوج وفورسز نے فائرنگ کی ،جس کے ساتھ ہی طرفین کے مابین جھڑپ کا سلسلہ شروع ہوا ۔ذرائع نے بتایا کہ جنگجوؤں نے محاصرے کے دوران ایک رہائشی مکان میں پناہ لی ،جسکی وجہ سے آپریشن میں فوج وفورسز کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ذرائع نے بتایا کہ معرکہ آرائی کی جگہ سے آس پڑوس کے مکانوں میں رہائش پذ یر لوگوں جن میں بچے ،مرد اور خواتین شامل تھیں ،تو باہر نکالا گیا ،جسکے بعد فوج وفورسز نے جنگجوؤں کے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا ،جس دوران فوج وفورسز نے ماٹر گولوں کا بھی استعمال کیا ۔ذرائع نے بتایا کہ جنگجوؤں اور فوج کے درمیان ابتدائی مرحلے پر فائرنگ کے تبادلے میں 13آر آر سے وابستہ جے سی اوسمیت2فوجی اہلکار زخمی ہوئے ،جنہیں92بیس فوجی اسپتال بادامی باغ سرینگر علاج ومعالجہ کی خاطر منتقل کیا گیا ۔مکان میں موجود جنگجوؤں اور فوج وفورسز کے درمیان شدید جھڑپ کے دوران گولیوں کی گھن گرج اور دھماکوں سے پورا کندلان شوپیان گاؤں لرز اٹھا ۔معلوم ہوا ہے کہ فوج وفورسز نے اُس مکان کو بارود سے اُڑا دیا ،جس میں جنگجو موجود تھے ،جسکے نتیجے میں اس جھڑپ میں 2جنگجوجاں بحق ہوئے جبکہ یہاں دیگر کئی مکانوں کو بھی نقصان پہنچا ۔ذرائع نے بتایا کہ تلاشی کارروائی کے دوران تباہ شدہ مکان سے دو جنگجو ؤں کی نعشیں برآمد کیں ۔ڈائریکٹر جنرل آف پولیس شیش پال وید نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کند لان شوپیان میں جھڑپ کے دوران 2جنگجو جاں بحق ہوئے ۔انہوں نے سماجی رابط ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ’کندلان شوپیان میں 2جنگجو جاں بحق ہوئے اور رپورٹس کے مطابق ان کا تعلق غالباً جیش محمد عسکری تنظیم سے ہے ‘۔ان کا کہناتھا کہ یہ آپریشن مکمل ہوگیا ،جنگجوؤں کی نعشیں برآمد کی گئیں ۔اس دوران جھڑپ میں جاں بحق ہوئے 2جنگجوؤں میں سے ایک کی شناخت سمیر احمد شیخ ولد غلام محمد شیخ ساکنہ راولپورہ شوپیان کے بطور ہوئی ۔معلوم ہوا ہے کہ دوسرا جاں بحق جنگجو غالباً غیر مقامی ہے ۔ذرائع کے مطابق کندلان شوپیان میں منگلوار کی صبح جب جنگجو ؤں اور فوج کے درمیان معرکہ آرائی کا سلسلہ شروع ہوا ،تو آس پاس پڑوس کے درجنوں دیہات سے نوجوانوں کی ٹولیاں سڑکوں پر نمودار ہوئیں ،جنہوں نے نعرہ بازی کرتے ہوئے انکاؤنٹر مخالف مظاہرے شروع کئے ۔نوجوانوں کی ٹولیوں نے جائے جھڑپ کی طرف نعرہ بازی کرتے ہوئے پیش قدمی کرنے کی کوشش کی ،جس دوران یہاں تعینات پولیس وفورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو تتربتر کرنے کیلئے شدید ٹیر گیس شلنگ ،پیلٹ وفائرنگ کی ۔معلوم ہوا ہے کہ انکاؤنٹر کے اختتام تک یہاں پُرتشدد جھڑپوں کے دوران50سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ۔زخمیوں میں کئی نوجوانوں کو گولیاں لگیں،جنہیں سرینگر اسپتال منتقل کیا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ ایک شدید زخمی نوجوان کو سرینگر منتقل کیا گیا ،تاہم وہ اسپتال لیجانے کے دوران راستے میں ہی دم توڑ بیٹھا ۔جاں بحق 18سالہ نوجوان کی شناخت تشمیل احمد خان ساکنہ وہیل شوپیان کے بطور ہوئی ۔عینی شاہدین کے مطابق خان کے سر میں گولی لگی اور وہ شدید زخمی ہوا تھا ،جبُ اسے صدر اسپتال پہنچایا گیا ،تو ڈاکٹروں نے اُسے مردہ قرار دیا ۔صدر اسپتال ذرائع نے بھی اِسکی تصدیق کی ۔اس دوران جونہی جاں بحو طالب علم کی میت آبائی گاؤں پہنچائی گئی ،تو وہاں کہرام اور صف ماتم بچھ گئی ۔جاں بحق طالب علم کی نماز جنازہ رپورٹس کے مطابق آبائی گاؤں میں ہی ادا کی گئی ،جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی ۔بعدازاں اُسے آبائی مقبرے میں سپرد لحد کیا گیا ۔شہری ہلاکت کا یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا جب پہلے ہی وادی کشمیر میں شہری ہلاکتوں پر غم وغصہ پایا جارہا ہے ۔7جولائی بروز سنیچر کولگام میں فورسز کی فائرنگ سے16سالہ طالب سمیت3افراد جاں بحق ہوئے تھے ۔جاں بحق افراد میں شاکر احمد کھانڈے ولد محمد حسین،ارشاد احمد ولد عبدالمجید اور عندلیب دختر علی محمد کو مردہ قرار دیا گیا ،جنکی تینوں کی عمر،باالترتیب،22،20اور16تھی ۔اس دوران شوپیان اضلاع میں کئی مقامات پر نوجوانوں نے شہری ہلاکت کے صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے فورسز خشت باری کی ،جسکے جواب میں فورسز نے ٹیر گیس شلنگ کے ساتھ پیلٹ فائرنگ بھی کی ۔ادھر پلوامہ اور کولگام کے کئی مقامات پر نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے فورسز پر خشت باری کی ۔جوابی کارروائی میں فورسز نے ٹیر گیس شلنگ کی ۔شوپیان ،پلوامہ اور کولگام تینوں اضلاع میں معمول کی سرگرمیاں متاثر رہیں ۔اس دوران جنوبی کشمیر میں امن وقانون کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے موبائیل انٹر نیٹ خد مات بھی منقطع کردی گئیں ،تاہم تینوں اضلاع میں صورتحال انتہائی کشیدہ بنی ہوئی تھی ۔بعد ازاں شام دیر گئے دوسرے جاں بحق جنگجو کی شناخت بابر ساکنہ پاکستان کے بطور ہوئی ہے۔
Comments are closed.