حالات سنگین ،تدارک کیلئے حکمت عملی لازمی

خطہ جنت بے نظیر میںقتل وغارت کا اب روز کا معمو ل بن گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں یہاں کے حالات دگرگوں اور پْر تناو ہیں۔مجموعی طور پر ان حالات پر قابو پانے کیلئے نت نئے طریقے اپنائے جارہے ہیں۔لیکن وہ بے سود اور فضول مشق ثابت ہوتے ہیں۔کیونکہ یہ مسئلہ ایک ناسور کی ہییت اختیار کرچکا ہے جس کو دوا کرنے سے کچھ لمحات کیلئے افاقہ ہوجاتا ہے۔تاہم اندر سے درد بڑھ ہی جاتا ہے عین اسی طرح یہاں کے حالات و واقعات ہیں۔۔خطے میں ہر سو افراتفری اور بدامنی پھیلی ہوئی ہے جس سے گھروں کے گھر اجڑ جاتے ہیں اور انسانی جانیں تلف ہوتی ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ۔گذشتہ دنوں سے شمال وجنوب میں متعدد تصادم آرائیوں کے دوران کئی جنگجو اور فوجی اہلکار مارے گئے اور زخمی ہوئے جبکہ اس دوران ناکردہ گناہوں کی پاداش میں معصوم نوجوان بھی موت کے آغوش میں پہنچ گئے۔ان دلدوز واقعات کے پیش آنے کے بعد وادی کے طول وعرض میں ہڑتال ہوئی جس سے معمولات زندگی ایک بار پھر مفلوج ہوکر رہ گئی۔شہرودیہات کے متعدد مقامات پر تین روز کے دوران حالات نے سنگین رخ اختیار کیا۔فورسز اور نوجوانون کے درمیان معرکہ آرائیاں جاری ہیں اور اس دوران بھی کئی افراد زخمی ہوئے جن میں سے بیشتر اسپتالوں میں زیر علاج ہیں اور کئی ایک کی حالت نازک بتائی جاتی ہے جبکہ کئی ایک نوجوان زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے جس سے حالات مزید ابتر ہوئے۔کشیدہ حالات پرقابو پانے کیلئے فورسز پلیٹ۔ٹیر گیس اور گولیوں کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں جس پریہ کشمیری ضرب المثل صادق آتا ہے ْیس لگہ تس لگہ سرکآری میانی مٹء چھس نہ ذمہ وآری ۔یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ گذشتہ برسوں میں بھی اسی طرح کے بے شمار واقعات پیش آئے جن میں ہزاروں و لاکھوں انسانی جانیں زیاں ہوئیں اور فلک بوس محلات ومکانات زمین بوس ہوگئے اور خون کی ارزانی جاری ہے۔اس کا تدارک کرنے کیلئے حکمت عملی نہیں بلکہ تشدداورطاقت کا استعمال کیاجاتا ہے۔طاقت کے استعمال سے اگرچہ وقتی طور حالات پر قابو پایا جاسکتا ہے لیکن یکے بعد دیگرے ایسے دلدوز واقعات پیش آتے ہیں جس کے بعد بدامنی۔کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ییاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس بدامنی اور افراتفری میں جولوگ جاں بحق ہوجاتے ہیں ان کے گھروں پر تالے چڑجاتے ہیں ان کے والدین۔بچے۔بھائی۔بہن اور بیویاں پشیمان ہوکر رہ جاتے ہیں اور اپنوں کی جدائی پر ہمیشہ ان کے آنکھوں سے آنسووں کا سیلاب دیکھنے کو ملتا ہے۔ان کے آنے والے دنوں میں ان کی تمام خوشیاں نیلام ہوجاتی ہیں اور ان کے والدین و ان کے پیاروں کی زندگی ہمیشہ کے لئے غمزدہ رہتی ہے۔ کون مرا اور کس کو مارا گیا؟وہ موضوع بحث نہیں ہے بلکہ انسان ہی مرجاتے ہیں۔جو باپ۔بھائی اور بیٹا ہوتا ہے ا ور ان کے مرنے سے بحرحال ایک بہت بڑا نقصان ہوتا ہے۔کیونکہ ہر کوئی سماج کا ایک اہم۔حصہ ہوتا ہے۔کیا اس قتل وغارت گری اور کشت وخون کو روکنے کیلئے کوئی راہ نہیں نکل سکتی ہے؟کیوں نہیں۔جبکہ ہمارے حکمران اور سیاستدان عاقل و فہیم ہونے کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن حالات کے تئیں ان کی عدم توجہی لمحہ فکریہ ہے اگروہ ضد وہٹ دھرمی کو ترک کرکے اپنے عقل و فہم کو بروئے کار لاتے ہیں تو شاید اس طرح کے حالات پیش نہ آتے۔یہ سوال نہیں کہ کون مرتا ہے کس کو مارا جاتا ہے ؟لیکن بحر صورت انسانوں کی جانیں ضائع ہوتی ہیں ۔ا ب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکام و حکمران بنیادی مسئلہ کی طرف توجہ مبذول کرکے حکمت عملی کے تحت ان حالات پر قابو پایا جاسکے تاکہ انسانی جانیں زیاں ہونے اور مال و متاع تباہ و برباد ہونے سے بچ سکے اورقیام امن کا خواب شرمندہ ہوسکے

Comments are closed.