پی ڈی پی کی وعدہ خلافیوں سے لوگوں کو زبردست ٹھیس پہنچی : عمر عبداللہ

گذشتہ ساڑھے 3سال میں کشمیریوں کو دبانے کیلئے ہر ایک حربہ اپنایا گیا
جی ایس ٹی، سرفیسی ایکٹ اور فوڈ بل نافذ کرکے دفعہ370کو کھوکھلا بنا دیا گیا

سری نگر:۲۸،جون:/ پی ڈی پی ،بھاجپا کے حکومتی ’ایجنڈا آف الائنس‘کو تشہیری حربے سے تعبیر کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے الزام عائد کیا کہ کشمیری نوجوانوں کی جانب سے ملی ٹنسی کی جانب راغب ہو نا نوجوان کُش پالیسی اور ظلم ستم کا نتیجہ ہے ۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق جس دن مرحوم مفتی محمد سعید اور نریندر مودی بغلگیر ہوئے اُس دن سے لیکر آج تک کشمیریوں نے تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں دیکھا، گذشتہ ساڑھے 3سال کے دوران کشمیریوں پر جو مظالم ڈھائے گئے اُن کی مثال 1947سے قبل ملتی ہے نہ اس کے بعد، حالات اس قدر خراب بنادیئے گئے ہیں کہ دور دور تک روشنی کی کرن نظر نہیں آرہی ہے۔ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے آج بڈگام میں چرار شریف کے ڈیلی گیٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، سینئر لیڈر و سابق وزیر خزانہ عبدالرحیم راتھر،صوبائی صدر ناصر اسلم وانی اور جنوبی زون صدر علی محمد ڈار نے بھی خطاب کیا۔ عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ 2014میں پی ڈی پی نے عوام سے مخصوص نعروں کے تحت ووٹ مانگے، جن میں بھاجپا کو اقتدار سے دور رکھنا سرفہرست تھا لیکن انتخابی نتائج کے فوراً بعد قلم دوات جماعت نے اپنے ووٹروں کے منڈیٹ کیخلاف جاکر بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا۔ اگرچہ اُس وقت نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے مرحوم مفتی محمدسعید کو غیر مشروط حمایت دینے کی پیشکش کی تھی لیکن انہوں نے بھاجپا کیساتھ جانے کو ہی ترجیح دی۔ ہم نے اُس وقت حمایت دیتے ہوئے اس بات کا برملا اعلان کیا تھا کہ ہمیں نہ وزارت چاہئے اور نہ کوئی چیئرمین شپ اور یہ بھی کہا تھا کہ ہمیں کسی ایم ایل سی سیٹ کی ضرورت بھی نہیں۔ لیکن پی ڈی پی والوں نے اپنے بانیوں کیساتھ ہی اتحاد کرنے کو ترجیح دی اور حکومت بنائی، جو ریاست اور ریاستی عوامی کیلئے ایک ڈراونا خواب ثابت ہوا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ پی ڈی پی والوں نے بھاجپا کے ساتھ اتحاد کرتے وقت بھی لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے کئی وعدے کئے اور ان وعدوں کو ’ایجنڈا آف الائنس‘ کا نام دیکر خوب تشہیر کی گئی۔ لوگوں سے کہا گیا تھا کہ بدلاؤ لایا جائے گا، نوجوانوں کو آباد کیا جائے گا، حریت سے بات کی جائیگی، پاکستان سے مذاکرات ہونگے، افسپا منسوخ کیا جائے گا، بجلی گھر واپس لائے جائیں گے، دفعہ370کیساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائیگی لیکن پی ڈی پی کی سربراہی والی حکومت کے ساڑھے 3سال میں سب کچھ اس کے برعکس ہوا۔ اس دوران کشمیریوں کو دبانے کی پالیسی اختیار کی گئی، انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کے ریکارڈ قائم کئے گئے، حریت سے بات ہوئی نہ پاکستان کیساتھ مذاکرات، بدلاؤ آیا نہ بجلی گھر واپس لائے گئے، نوجوانوں کو آباد کرنے کے بجائے انہیں پشت بہ دیوار کیا گیا۔ پی ڈی پی کے ان کارناموں سے عوام خصوصاً نوجوانوں کے اعتماد کو زبردست ٹھیس پہنچی، 2015کے بعد یہاں کا نوجوان اپنا مستقبل تاریک سمجھ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج پروفیسر، یونیورسٹی طلباء، فوجی و پولیس اہلکار یہاں تک کہ پولیس والوں کے بچے بھی جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہورہے ہیں۔ یہ سب کچھ پی ڈی پی بھاجپا کی سخت گیر اور نوجوان کُش پالیسی اور ظلم ستم کا نتیجہ ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ محبوبہ مفتی کس منہ سے کہتی ہیں کہ انہوں نے دفعہ35اے اور 370کی حفاظت کی۔ موصوفہ کی حکومت میں ریاست پر جی ایس ٹی، سرفیسی ایکٹ اور فوڈ بل سمیت متعدد مرکزی قوانین لاگو کئے گئے اور دفعہ370کو کھوکھلا بنا دیا گیا۔ جی ایس ٹی کے منفی اثرات کی مثال دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ آج ہمیں 100روپے کے ریچارج پر صرف 80روپے ملتے ہیں جبکہ اس قبل سوفیصدی ملتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی والوں نے بڑے زور شور سے مفتی محمد سعید راشن سکیم کا اعلان کیا تھا لیکن یہ سکیم صرف 2میں دم توڑ بیٹھی۔ جموں اور کشمیر خطوں میں نزدیکیاں بڑھانے کی باتیں کی گئیں لیکن پی ڈی پی بھاجپا نے اپنے ناپاک مفادات کی خاطر ان دونوں خطوں میں اتنی دوریاں بڑھائیں جنتی ماضی میں کبھی نہیں تھی۔ کٹھوعہ سانحے پر گندی سیاست کھیلی گئی، محبوبہ مفتی کے وزراء اس میں پیش پیش رہے لیکن موصوفہ خاموش تماشائی بنی بیٹھی۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا کا یہی ممبر آج کشمیری صحافیوں کو شجاعت بخاری کے جیسے انجام کی دھمکی دے رہا ہے اور بھاجپا لیڈرشپ مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ نئی دلی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر سے متعلق مرکز کی پالیسی ہمیشہ ’تقسیم کرواور حکومت کرو‘ کی رہی ہے ، نیشنل کانفرنس کو کمزور کرنے اور کشمیریوں کو آواز کو دبانے کیلئے سازشیں لگاتار رچائی جارہی ہیں اور پی ڈی پی اس کام میں مکمل معاون کا رول نبھاتی رہی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ جموں وکشمیر کے عوام تقسیمی سیاست کے بہکاوئے میں نہ آکر جموں وکشمیر کی انفرادیت، اجتماعات، وحدت اور خصوصی پوزیشن کا دفاع کرنے کیلئے ایک جُٹ ہوجائیں۔ حالات کی بہتری، ظلم و ستم کا خاتمہ اور نوجوانوں کے اعتماد و بھروسہ کی بحالی کو نیشنل کانفرنس کی ترجیحات قرار دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس وقت الیکشن ہمارا گول نہیں، موجودہ حالات انتخابات کی اجازت نہیں دیتے، لوگ مایوس ہیں، پریشانِ حال اور اقتصادی بحالی کے شکار ہیں۔ پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کو عوام کیساتھ قریبی رابطے رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا کہ عوام ہی طاقت کا سرچشمہ ہے اور سرداری عوام کا حق ہے۔ کنونشن میں ضلع صدر بڈگام عبدالاحد ڈار، پارٹی لیڈران ماسٹر محمد مقبول، غلام احمد نسیم اور یوتھ ضلع صدر محمد اشرف بھی موجود تھے۔

Comments are closed.