موسمی کا بدلتا مزاج،مون سون کی پہلی بارش

اگلے72گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کاامکان
سالانہ امرناتھ یاترا میں بھی پڑا خلل،3ہزار425یاتریوں پر مشتمل دوسرا قافلہ جموں سے روانہ

سری نگر:۲۸،جون:/ ریاستی محکمہ موسمیات نے پیشن گوئی کی ہے کہ پیر پنچال کے آر پار اگلے72گھنٹوں کے دوران درمیانہ درجے سے لیکر موسلا دھار بارشیں ہونے کا قوی امکان ہے۔اس دوران ٹنل کے آر پار شبابہ بارشوں سے درجہ حرارت میں یکا یک گراؤٹ ریکارڈکی گئی جبکہ سالانہ امرناتھ یاترا میں بھی خلل پڑا،تاہم 3ہزار425یاتریوں پر مشتمل دوسرا قافلہ جموں سے سرینگر کی طرف جمعرات کی علی الصبح گپھا کے درشن کیلئے وادی کی طرف نکلا۔ادھر وادی کا موسم کافی خوشگوار ہوگیا ہے اور یہاں سیر پر آنے والے سیاح قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہورہے ہیں ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق ہمالیاتی خطے میں مون سون کی دستک سے ریاست کی موسمی صورتحال تبدیل ہوگئی ۔بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کو موسمی صورتحال نے اچانک کروٹ بدلی ،جس دوران پیر پنچال کے آر پار ہلکی سے لیکر درمیانہ درجے کی بارشیں ہوئیں ۔میدانی علاقوں میں جہا ں ہلکی بارش ہوئی ،وہیں بالائی علاقوں میں موسلادھار بارش بھی ہوئی ۔جمعرات کو بھی یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا ۔موسمی تبدیلی اور ہوا میں نمی کے باعث وادی کشمیر میں درجہ حرارت میں یکا یک گراؤٹ ریکارڈ کی گئی ۔اس دوران ریاستی محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ اگلے72گھنٹوں کے دوران پیر پنچال کے آرپار مطلع ابر وآلود رہے گا جبکہ اس عرصے کے دوران درمیانہ درجے سے لیکر موسلادھار بارشیں ہونے کا قوی امکان ہے ۔محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان نے کے این این کو بتایا کہ جمعرات سے لیکر ہفتہ تک ریاست بھر میں ہلکی سے موسلادھار بارشیں ہونے کا امکان ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران کشمیر وادی کے ساتھ ساتھ خطہ جموں میں بھی بارشیں ہوسکتی ہیں ۔ان کا کہناتھا کہ موسمی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے دن کے درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا تھا ،تاہم ہوا میں نمی کے باعث سرد ہوائیں چل رہی اور دارالحکومت سرینگر میں دن کا درجہ حرارت معمول سے کم ہے ۔محکمہ موسمیات کے ترجمان نے بتایا کہ اگلے چار روز کے دوران گرج چمک کے ساتھ ساتھ بارش ہونے کا قوی امکان تو ہے جبکہ دھول مٹی طوفان کا بھی اندیشہ ہے ۔انہوں نے پیش گوئی کی ہے کہ جمعہ کا دن ماہِ جون کا نم ترین دن ثابت ہوسکتا ہے ۔محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق وادی کے بالائی علاقوں میں اس عرصے کے دوران موسلادھار بارشیں ہونے کا امکان ہے اور یہ کہ سیاحتی مقامات گلمرگ وپہلگام میں آئندہ تین سے چھ روز تک بارشیں ہوسکتی ہیں ۔ادھر جمعرات کو سالانہ امر ناتھ شروع ہوتے ہی ناموافق موسمی صورتحال کے باعث خلل کا شکار ہوئی ۔معلوم ہوا ہے کہ جمعرات کو سالانہ امرناتھ یاترا بارش کے باعث عارضی طور پر معطل کی گئی ۔شرائن بورڈ حکام کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات کو یاترا کے روایتی راستوں بالہ تل اوت پہلگام میں بارشوں سے پھسلن پیدا ہوگئی ،جسکے پیش نظر یاتری کو بالہ تل اور ننون پہلگام بیس کیمپوں میں ہی رہنے کی ہدایت دی گئی اور اُنہیں کہا گیا کہ موسم میں بہتری آنے کے بعد ہی گپھا کی جانب اپنا سفر شروع کریں ۔انہوں نے کہا کہ گور نر این این ووہرا بھی خراب موسم کے باعث امر ناتھ گپھا پرتاخیر سے پہنچے ۔ضلع ترقیاتی کمشنر گاندر بل ڈاکٹر پیوش سنگلا نے بتایا کہ یاترا کو بارش سے پیدا ہوئی پھسلن کے باعث تاخیر ہوئی ۔انہوں نے بالہ تل کے روایتی راستے پر پسیاں اور چٹانیں کھسکنے کا خدشہ تھا جسکی وجہ سے یاترا کو عارضی طور پر معطل کیا گیا جبکہ موسم میں بہتری کے ساتھ ہی یاترا کو بحال کردیا جائیگا ۔یاد رہے کہ 3ہزار یاتریوں پر مشتمل پہلا قافلہ بدھ کو جموں سے سرینگر پہنچ گیا ۔یہ قافلہ گپھا کے درشن کیلئے بیس کیمپوں میں موجود ہیں ۔ادھر امرناتھ یاتریوں کا دوسرا قافلہ جمعرات کی صبح4بجے جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے سرینگر کی طرف روانہ ہوا جس میں 3ہزار425یاتری شامل ہیں ۔اس قافلے میں 2ہزار679مرد،592خواتین،3بچے اور151سادھو شامل ہیں ۔امسال یاترا 60دنوں پر محیط ہے اور یہ 26اگست کو اختتام پذیر ہوگی ۔ادھر موسمی تبدیلی سے وادی کشمیر کا موسم خوشگوار ہوگیا ہے ،ہوا میں نمی کے باعث وادی کی سیر پر آئے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی ایک خاصی تعداد سیاحتی مقامات پر قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ایک سیاح نے بتایا کہ وادی کا معتدل آب وہوا قدرت کے نظاروں کو اور خوبصورت بنارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں ایئر کنڈیشنرکی کوئی ضرورت نہیں ہے ،یہ واقعی کرہ ارض پر جنت ہے ۔

Comments are closed.