پی ڈی پی ،بی جے پی مخلوط سرکارکی کارکردگی کارپورٹ کارڈ

695عام شہری اورعساکرجاں بحق
سابق وزیراعلیٰ،نائب وزیراعلیٰ،ہوم سیکرٹری اورڈی جی پی کیخلافNHRCمیں عرضی دار

سری نگر:۲۸،جون:کے این این/ مقامی حقوق انسانی کارکن اورانٹرنیشنل فورم فارجسٹس اینڈہیومن رائٹس کے چیئرمین محمداحسن اونتونے سابق مخلوط سرکارکیخلاف مختلف شکایات ومعاملات پرمبنی ایک عرضی قومی حقوق انسانی کمیشن یعنی NHRCکوروانہ کرادی ہے ،جس میں انہوں نے انکشاف کیاہے کہ پی ڈی پی اوربی جے پی کی ملی جلی سرکارکے گزشتہ لگ بھگ 38ماہ پرمحیط سرکارکے دورمیں 695افرادتشددکی بھینٹ چڑھ گئے جن میں235عام شہری اور460جنگجوبھی شامل ہیں ۔کے این این کے مطابق 27جون کوقومی حقوق انسانی کمیشن کوبھیجی گئی اپنی عرضی یادرخواست میں محمداحسن اونتونے شہری اموات ودیگرہلاکتوں ،مظاہرین کیخلاف مہلک ہتھیاروں کے استعمال ،ریاست کوقرضوں کے بوجھ تلے ڈبودینے ،سرکاری محکموں میں غیرقانونی بھرتیوں سمیت کئی معاملات کاذکرکیاہے ۔اپنے قانونی صلاح کارایڈوؤکیٹ تصویرشجاعت کی جانب سے این ایچ آرسی کوبھیجی درخواست میں محمداحسن اونتونے سابق وزیراعلیٰ ،سابق نائب وزیراعلیٰ ،ریاست کے داخلہ سیکرٹری اورریاستی پولیس کے سربراہ کوفریق بناتے ہوئے کمیشن سے استدعاکی ہے کہ پی ڈی پی اوربی جے پی کے لگ بھگ 38ماہ پرمحیط دورمیں ہوئی سبھی ہلاکتوں ،زیادتیوں ،انتظامی خلاف ورزیوں اورریاست وریاستی باشندوں کومقروض بنائے جانے کی جامع تحقیقات عمل میں لائی جائے۔انٹرنیشنل فورم فارجسٹس اینڈہیومن رائٹس کے چیئرمین نے اپنی درخواست میں جن باتوں یامعاملات کاذکرکیاہے ،اُن میں 235عام شہریوں اور460جنگجوؤں کی ہلاکت،1050سے زیادہ شہریوں کومہلک ہتھیاروں بالخصوص پیلٹ گن سے نابینابنائے جانے ،17000شہریوں کوجزوی طوربینائی سے محروم ئے جانے ،16000افرادکی گرفتاری عمل میں لائے جانے ،کشمیرریڈرنامی روزنامے کی اشاعت پرپابندی عائدکئے جانے ،سری نگرسے شائع ہونے والے سبھی روزناموں کی اشاعت پرتین روزکیلئے روک لگائے جانے ،ایک سینئرصحافی شجاعت بخاری کوقتل کئے جانے اورشہرخاص میں واقع تاریخی جامع مسجدکوباربارسیل کئے جانے کے علاوہ یہ بات یاشکایت بھی کی گئی ہے کہ سابق مخلوط سرکارنے ریاست کو65ہزارکروڑروپے اورریاست کے ہرباشندے کوفی کس 5ہزارروپے کامقروض بنایاجانابھی شامل ہے۔چیئرمین این ایچ آرسی کوبھیجی گئی درخواست میں محمداحسن اونتونے کمیشن سے یہ استدعاکی ہے کہ پی ڈی پی اوربی جے پی کی سابق مخلوط سرکارکے دورمیں ہوئی ہلاکتوں ،طاقت کے بے تحاشہ استعمال ،زیادتیوں ،سرکاری محکموں میں مبینہ طورپرچوردروازے سے عمل میں لائی گئی 15000بھرتیوں اوردیگراقدامات وفیصلہ جات کی جامع انکوائری عمل میں لائی جائے۔دخواست کے آخرمیں محمداحسن اونتونے چیئرمین قومی حقوق انسانی کمیشن سے چارباتوں کی اپیل کی ہے۔انہوں نے شہری ہلاکتوں کے سبھی واقعات کی تحقیقات عمل میں لانے ،ملوث سرکاری اہلکاروں وغیرہ کوقانون کے کٹہرے میں لاکھڑاکرنے اورریاست میں تعینات سبھی سیکورٹی ایجنسیوں سے معیاری ضابط کاریعنیSOPپرعمل درآمدکے بارے میں جواب طلب کرنے کی استدعاکی ہے۔

Comments are closed.