ملازم انجمنوں کی مشترکہ تال میل کمیٹی کے 7مطالبات کو لیکر جدوجہد

پرتاپ پارک میں 5گھنٹے احتجاجی دھرنا
ایس ایس اے ٹیچروں ،عارضی ومستقل ملازمین کے مسائل حل کرنے کی گور نر انتظامیہ سے اپیل

سری نگر:۲۸،جون:/ مختلف سرکاری محکموں میں تعینات عارضی ومستقل ملازمین نے جمعرات کو اپنے اپنے مطالبات کو لیکر ملازم انجمنوں کی مشترکہ تال میل کمیٹی ’ ایمپلائز جوائنٹ کنسلٹیٹیو کمیٹی ‘کے بینر تلے تاریخی پر تاب پارک لالچوک میں 5گھنٹے تک احتجاجی دھر نا دیا۔کمیٹی کے سینئر عہدیداراں منظور احمد پانپوری اور اعجاز احمد خان نے بتایا کہ پی ڈی پی ،بھاجپا حکومت نے ریاستی ملازمین کو درپیش مسائل جو حل کرنے میں کوئی بھی سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھا ئے اُسکی وجہ سے ملازمین ذہنی کوفت کے شکار ہوگئے ہیں ۔دریں اثناء احتجاجی دھرنے کے بعد آنگن واڑی ورکروں اور ہیلپروں نے اپنے مطالبات کو لیکر علیحدہ سے ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق مختلف سرکاری محکموں میں تعینات درجنوں عارضی ومستقل ملازمین نے جمعرات کو اپنے اپنے مطالبات کو لیکر ایک ہی بینر کے تلے تاریخی پرتاپ پارک میں دھر نا ۔سٹی رپورٹر کے مطابق مختلف سرکاری محکموں جن میں اربن لوکل باڈیز ،تعلیمی اداروں میں تعینات ایس ایس اے اساتذہ،آنگن واڑی ورکر وہیلپرس وغیرہ شامل ہے،پرتاپ پارک لالچوک سرینگر میں جمع ہوئے ،جہاں انہوں نے صبح10بجے سے لیکر دوپہر2بجے تک اپنے مطالبات کو لیکر احتجاجی دھرنا دیا ۔سرکاری ملازمین نے یہ دھرنا یمپلائز جوائنٹ کنسلٹیٹیو کمیٹی جموں وکشمیر کے بینر تلے دیا ،جس دوران ملازمین کو مسائل کو اُجا گر کیا گیا ۔5گھنٹوں تک جاری رہنے والے اِ س احتجاجی دھرنے کے دوران مختلف محکموں کے ملازمین انجمنوں کے عہدیداراں نے اپنے اپنے مطالبات سامنے رکھے اور مذکورہ کمیٹی پر اعتماد کا اظہار کیا ۔کمیٹی کے سینئر عہدیداراں منظور احمد پانپوری اور اعجاز احمد خان احتجاجی دھرنے میں شامل شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی ،بھاجپا حکومت نے ریاستی ملازمین کے جائز اور تسلیم شدہ مطالبات کے حوا لے سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ سابق مخلوط حکومت کی عدم توجہی کے باعث سرکاری ملازمین کی ایک خاصی تعداد ذہنی کوفت میں مبتلاء ہوچکی ہے ۔انہوں نے ملازمین کے مطالبات کے حوالے سے کہا کہ ایس ایس اے اساتذہ کی تنخواہوں کو باقاعدہ بنا کر ریاستی بجٹ میں شامل کیا جائے اور اُن پر فی الفور ساتویں پے کمیشن کی سفارشات لاگو کی جائیں ،ار بن ورورل لوکل باڑی ملازمین کے مسائل دیرینہ مسائل حل کئے جائیں اورمحکمہ کے پینشنر س کو ساتویں پے کمیشن کی سفارشات میں لاگو کیا جائے ،آنگن واڑی ورکروں اور ہیلپروں کے ماہانہ مشاہرے کو بڑھا کر کم ازکم 10ہزارروپے کیا جائے ،اُنکے ایک مربوط جاب پالیسی مرتب کی جائے ۔ڈیلی ویجروں ،کیجول لیبروں ،فیئر پرائس شاپ ڈیلروں ،سی اے پی ڈی کے حمالوں ،کنٹیجمنٹ پیڈ ملازموں اور مختلف محکمہ جات میں کام کررہے کنٹریکچول ملازمین کو مستقل کیا جائے ۔مختلف محکمہ جات میں پے انا ملیز کو دور کیا جائے ،جن میں محکمہ زراعت ،باغبانی ،ررکھس اور فارمز ،جنگلات ،فشریز وغیر ہ شامل ہیں ،محکمہ جنگلات ،بجلی ،فشریز وغیر ہ محکموں میں کام کررہے فیلڈ ورکروں کے حق میں اضافی اڑھائی دن کی تنخواہ ،محکمہ بجلی ،جنگلات وغیرہ میں کام کررہے ورکروں کو رسک الاؤنس اور سپیشل انشورنس سکیم کے دائرے میں لایا جائے ۔تمام محکمہ جات میں یکساں ٹرانسفر پالیسی اور ملازمین کیلئے ایک جامع میڈیکلیم پالیسی کو نافذ کیا جائے ۔کمیٹی کے سینئر عہدیداراں منظور احمد پانپوری اور اعجاز احمد خان نے بتایا کہ بتایا کہ سابق حکومت نے ایس آر او520کی آڑ میں سرکاری ملازمین کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق کیا ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ گور نر انتظامیہ اُنکے جائز مطالبات کی طرف اپنی توجہ مرکوز کرے گی ۔کمیٹی کے سینئر عہدیداراں منظور احمد پانپوری اور اعجاز احمد خان نے گو رنر این این ووہرا سے اپیل کہ وہ سرکاری ملازمین کے مطالبات ،مسائل اور مشکلات کی جانب اپنی توجہ مرکوز کریں اور اُنکے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے سنجیدہ نوٹس لیں ۔ دریں اثناء احتجاجی دھرنے کے بعد آنگن واڑی ورکروں اور ہیلپروں نے اپنے مطالبات کو لیکر علیحدہ سے ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی ۔

Comments are closed.