سینئر صحافی سید شجاعت بخاری قتل معمہ
4ملزمان کی شناخت عمل میں لانے کا دعویٰ
اہم سر غنہ کی گرفتاری کیلئے انٹر پول سے رابط کیا جائیگا :آئی جی پی کشمیر ایس پی پانی
سری نگر:۲۸،جون:/ سینئر صحافی سید شجاعت بخاری اور اُنکے 2محافظوں کے قتل میں ملوث ملزمان کی شناخت عمل میں لانے کا دعویٰ کرتے ہوئے ریاستی پولیس نے 4ملزمان کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ قتل کی سازش پاکستان میں رچی گئی جبکہ قتل کی واردات کو لشکر طیبہ کمانڈر نوید جھٹ نے اپنے دو ساتھیوں سمیت انجام دیا ،جو پولیس کو مطلوب ہے ۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس ایس پی پانی نے کہا ہے کہ سینئر صحافی کے قتل میں ملوث سر غنہ سجاد گل عرف احمد خالد ساکنہ ایچ ایم ٹی سرینگر پاکستان میں ہے جسے گرفتار کرنے کیلئے انٹر پول سے رابط قائم کیا جائیگا ۔کشمیر نیو ز نیٹ ورک کے مطابق پولیس کنٹرول روم سرینگر میں آئی جی کشمیر زون ایس پی پانی نے ڈی آئی جی وسطی کشمیر ایس کے بردی اور ایس ایس پی سرینگر امتیاز اسماعیل کے ہمراہ ایک پر ہجوم پریس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 14جون 2018کی شام سرینگر کی پریس کالونی میں سینئر صحافی اور انگریزی روزنامہ رائز نگ کشمیر کے مدیر اعلیٰ سید شجاعت بخاری کو دو ذاتی محافظوں جوکہ پولیس وابستہ تھے ،کے ہمراہ گولیوں کا نشانہ بنا کر موت کی نیند سلا دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ قتل کی اس واردات کے حوالے سے پولیس تھانہ کوٹھی باغ سرینگر میں ایف آئی آر زیر نمبر51/2018زیر دفعہ302آر پی سی ،7/27آرمز ایکٹ اور غیر قانونی سر گرمیوں سے متعلق ایکٹ کی دفعات16،18اور20کے تحت کیس درج کیا گیا ۔ان کا کہناتھا کہ اس کیس کی تحقیقات کے حوالے سے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی ) تشکیل دی گئی ۔ایس پی پانی نے بتایا کہ پولیس نے دوران تحقیقات شجاعت بخاری اور اسکے دو ذاتی محافظین کی ہلاکت کے واقعہ 4ملزمان ،جن کا تعلق لشکر طیبہ تنظیم سے ہے ،کی نشاندہی کی ۔انہوں نے کہا کہ ملزمان کو کیس میں بطور مطلوب افراد کے شامل کیا گیا ۔کشمیر زون کے پولیس چیف کا کہناتھا کہ دوران تحقیقات سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے شجاعت بخاری کے خلاف پھیلائی گئی نفرت انگیز مہم کا جائزہ لیا گیا اور یہ پایا گیا کہ ایک مخصوص سوشل میڈیا سائٹ اور ایک مخصوص فیس بک اکاؤنٹ کے علاوہ ایک مخصوص ٹو یٹر کے ذریعے شجاعت بخاری کی شبیہ کو نقصان پہنچا نے کے لئے با ضابط پروپگنڈ ا کیا گیا اور اُنکے خلاف نفر ت انگیز مہم چلائی گئی ۔آئی جی پی کشمیر نے پریس کانفرنس کے دوران جن سماجی رابط گاہوں کا ذکر کیا ،اُن میں ’’Kashmir Fight word Press .com،فیس بک اکاؤنٹ ’کڑوا سچ کشمیر ‘ اور ٹویٹر ’ahmadkhalid@313‘ شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دوران تحقیقات مواصلاتی سروس فراہم کرنے والے اداروں کے تعاؤن سے ضروری معلو مات حاصل کی گئیں اور یہ پایا گیا کہ شجاعت بخاری کے خلاف چلائی گئی نفرت انگیز مہم کے پیچھے پاکستان میں موجود لشکر طیبہ سے وابستہ کچھ افراد شامل ہیں ۔ان کا کہناتھا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے اپنی تحقیقات کے دوران اب تک جو معلو مات حاصل کی ہیں ،اُنکے مطابق ’ کشمیر فائٹ ‘ نامی ویب سائٹ کو پاکستان میں مقیم ایک کشمیری شیخ سجاد گل عرف احمد خالد ساکنہ سرینگر چلاتا رہا ہے ،جوکہ لشکر طیبہ سے وابستہ ہے ۔آئی جی پی کشمیر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ شیخ سجاد گل عرف احمد خالد مارچ2017میں ایک فراڈ یا جعلی پاسپورٹ حاصل کرکے پاکستان چلا گیا اور اس معاملے کی تحقیقات جاری ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس سے پہلے پولیس تھانہ پارمپورہ میں سجاد گل کے خلاف ایک کیس زیر ایف آئی آر نمبر105/2016زیر دفعہ 7/25آر مز ایکٹ درج تھا اور مذکورہ شخص اس سے پہلے2002میں نئی دہلی میں بھی تشدد پسندانہ سر گرمیوں کی پاداش میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ کافی وقت کیلئے جیل میں بند رہا ۔انہوں نے کہا کہ اس چھان بین شروع کردی گئی کہ سجاد گل کو نئی دہلی میں کن الزامات کی پاداش میں گرفتار کیا گیا تھا اور کس بنیاد پر اُسکی رہائی عمل میں لائی گئی ۔ایس پی پانی نے بتایا کہ پہلے ہی پولیس نے تحقیقات کے اوائل میں 3ایسے موٹر سائیکل سواروں کی تصویر منظر عام پر لائی ،جنہوں نے شجاعت بخاری کے قتل کی واردات انجام دی ۔آئی جی پی کشمیر پریس آخر میں کہنا تھا کہ تینوں موٹر سائیکل سواروں کی شناخت عمل میں لائی گئی ہے ،جن میں جنوری2018سے سر گرم لشکر طیبہ سے وابستہ جنگجو مظفر احمد عرف طلحہ ساکنہ سوپت قاضی گنڈ ، نوید جھٹ عرف حنظلہ ساکنہ پاکستان جوکہ سال2009سے لشکر طیبہ کے ساتھ سرگرم ہیں ،جو حال ہی میں صدر اسپتال میں طبی معائینہ کے دوران پولیس کو چکمہ دیکر فرار ہونے کامیاب ہوا ۔انہوں نے کہا کہ چوتھے ملوث شخص کی شناخت آزاد احمد ملک عر ف دادا عرف زید ساکنہ آر ونی بجبہاڑہ کے بطور کی گئی ،جوکہ دسمبر2016جنوبی کشمیر میں لشکر طیبہ کے جھنڈے تلے سرگرم ہے ۔پولیس نے ملزمان کی تصاویر بھی پریس کانفرنس کے دوران منظر عام پر لائی ۔نامہ نگاروں کی جانب سے پو چھے گئے سوالات کے جواب میں ایس پی پانی نے کہا کہ سینئر صحافی کے قتل میں ملوث سر غنہ کو گرفتار کرنے کیلئے انٹر پول سے رابط کیا جائیگا جبکہ قتل کی واردات انجام دینے والے3ملزمان پولیس کو مطلوب ہے جنکی گرفتاری کیلئے عدالت سے غیر ضمانتی وارنٹ بھی حاصل کی جائیگی ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چارج شیٹ دائر کرنے کے بعد اس بات خلاصہ کیا جائیگا سینئر صحافی کو قتل کرنے کا کیا مقصد تھا ؟۔
Comments are closed.