بھاجپاجنرل سیکرٹری رام مادھوکی سری نگرآمد

گورنراین این ووہراسے ملاقی،قیاس آرائیاں شروع

سری نگر:۲۷،جون:/ رواں ماہ کی 19تاریخ کونئی دہلی میں پی ڈی پی کیساتھ ناطہ توڑنے کااعلان کرنے والے بھاجپاکے قومی جنرل سیکرٹری رام مادھوکی اچانک سری نگرآمدکے بعدقیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں کہ موصوف کی یہاں آمدکے درپردہ کیامقصدیامشن کارفرماہے۔رام مادھونے یہاں پہنچنے کے فوراًبعدریاستی گورنراین این ووہراکیساتھ راج بھون میں ملاقات کی ،جس دوران ریاست کی سیاسی وسیکورٹی صورتحال اورسالانہ امرناتھ یاتراکیلئے کئے گئے سیکورٹی ودیگرانتظامات پرتبادلہ خیال ہوا۔کے این این کومعلوم ہواکہ بھارتیہ جنتاپارٹی کے قومی جنرل سیکرٹری اورسال2014میں پی ڈی پی اوربی جے پی کے درمیان اتحادمیں کلیدی رول اداکرنے والے رام مادھونے بدھ کے روزسری نگرمیں راج بھون جاکرموجودہ انتظامیہ کے سربراہ اورریاستی گورنراین این ووہراکیساتھ ملاقات کی ۔راج بھون نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے ایک بیان میں کہاکہ بی جے پی جنرل سیکرٹری رام مادھواورگورنراین این ووہراکی ملاقات کے دوران ریاست کودرپیش چیلنج اور28جون سے شروع ہونے والی سالانہ امرناتھ یاتراکیلئے کئے گئے انتظامات پرتبادلہ خیال ہوا۔اُدھررام مادھوکی سری نگرآمدکیساتھ ہی قیاس آرائیوں کابازارگرم ہوگیاہے کیونکہ بھاجپاجنرل سیکرٹری نے 19جون کونئی دہلی میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران اپنی پارٹی کے پی ڈی پی کیساتھ ناطہ توڑنے کااعلان کرتے ہوئے کہاتھاکہ کچھ ماہ تک صورتحال پرنظررکھنے کے بعدآئندہ کی حکمت عملی طے کی جائیگی جبکہ اسی پریس کانفرنس کے دوران ریاست کے سابق نائب وزیراعلیٰ اوربھاجپاکے سینئرریاستی لیڈرکویندرگپتانے اشارہ دیاتھاکہ آنے والے دنوں میں اُنکی جماعت جموں وکشمیرمیں ایک نئی مخلوط سرکارتشکیل دینے کی کوشش کرسکتی ہے ۔غورطلب ہے کہ سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کئی مرتبہ یہ اندیشہ ظاہرکرچکے ہیں کہ جوڑتوڑفارمولہ کے تحت نئی سرکاربنانے کی کوشش کی جاسکتی ہے اوربقول عمرعبداللہ اُن کے اس اندیشے کے پیچھے یہ بات کارفرماہے کہ اگرکسی جماعت کے پاس نئی سرکارتشکیل دینے کی درکارممبران اسمبلی کی حمایت نہیں توکیونکرریاستی اسمبلی کوتحلیل کرنے کے بجائے معلق یامعطل رکھاگیاہے۔

Comments are closed.