طیب اردگان کی الیکشن میں کامیابی پرگیلانی ،میرواعظ کی تہنیت

کشمیری عوا م کیخلاف جارحیت کا سنجیدہ نوٹس لینا عالمی برادری کی ذمہ داری

سری نگر:۲۵،جون:/ حریت کے دونوں دھڑوں کے سربراہان سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق نے ترکی کے صدر طیب اردگان کی الیکشن میں کامیابی پر اپنی مسرت اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں دلی مبارک باد پیش کی ہے۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق حریت چیرمین سید علی گیلانی نے ترکی کے صدر طیب اردگان کی الیکشن میں کامیابی پر اپنی مسرت اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں دلی مبارک باد پیش کی ہے۔انہوں نے کہا جس جرأت اور بہادری سے طیب اردگان ملّت کے مسائل پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہیں اس سے امت میں ایک خوشگوار امید جاگی ہے کہ ایک طویل عرصے کے بعد مسلم امہ کی ایک نڈر اور بے باک قیادت سامنے آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طیب اردگان مسئلہ کشمیر پر بھی ایک واضح مبنئی بر صداقت موقف رکھتے ہیں اور ہزاروں میل دور ہونے کے باوجود کشمیر میں ہورہے خونین صورتحال سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے اور انہوں نے ہمیشہ کشمیری قوم کی حقِ خودارادیت کی تحریک کی حمایت کی ہے اور ہم اُمید رکھتے ہیں کہ وہ آئندہ بھی مسئلہ کشمیر کو اس کے تاریخی پسِ منظر میں حل کرانے میں اپنا کلیدی رول ادا کریں گے ۔ حریت راہنما نے کہا ہماری طویل اور صبر آزما تحریک کا تقاضا ہے کہ تمام آزادی اور انصاف پسند ممالک اور خاص کر اسلامی ممالک کی تنظیموں پر ملی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عملی اقدامات کے ذریعے ہمارے گہرے زخموں پر مرہم رکھیں تاکہ ہمیں بھی بحیثیت انسان جینے کی آزادی نصیب ہو۔ حریت راہنما نے کہا کہ بھارت نے ہماری سرزمین میں پچھلے 70سال سے فوجی طاقت کے بل پر ظلم وستم کی ناقابل بیان داستانیں رقم کی ہیں اور ہم ہر مرحلے پر اس ننگی جارحیت اور زبردستی قبضے کے خلاف اپنی تمام تر صلاحتیں بروےئے کار لانے کے باوجود اس ظالم کے خونین پنجوں سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پارہے ہیں۔ اس کی اصل اور بنیادی وجہ جہاں بھارت کی ضد، ہٹ دھرمی، طاقت کا نشہ اور اس کے زرخرید حواریوں کا گھناؤنا کردار رہا ہے، وہیں عالمی اداروں اور خاص کر مسلم ممالک کی مجرمانہ خاموشی بھی بھارت کو یہاں کی نہتی قوم پر اپنے ناجائز قبضے کو دوام بخشنے کے لیے حوصلہ بخشتا ہے۔ گیلانی صاحب نے کہا کہ دنیا کے کسی کونے اور خاص کر کسی برادر ملک کی طرف سے ہمارے حق میں اٹھنے والی ہر آواز ہمارے حوصلوں اور جذبوں کو اور زیادہ جلا بخشنے کا موجب بنتی ہے اور ہمیں اپنے مبنی برحق وصداقت موقف پر اور زیادہ مظبوطی اور اعتماد کے ساتھ قائم رہنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ حریت راہنمانے کہا کہ ہم نے ہر حال میں بھارت کی بدترین غلامی سے نجات حاصل کرنے کی قسم کھا رکھی ہے اور ہم اپنے مقصد کے حصول تک اس عہد پر قائم ودائم رہیں گے۔ ادھرمیرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے اپنے ایک بیان میں ترکی کے صدر رجب طیب اردغان کی ترکی کے صدارتی انتخابات میں شاندار کامیابی پر اپنی اور جموں وکشمیر کے عوام کی جانب سے دلی مبارکباد اور تہنیت پیش کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ جناب اردغان ماضی کی طرح عالم اسلام کو درپیش مسائل اور معاملات کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور دائمی حل کیلئے اپنی کوششوں کو بروئے کار لائیں گے۔ میرواعظ نے کہا کہ ترکی عالم اسلام کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری میں ایک امتیازی مقام کا حامل اسلامی ملک ہے اور او آئی سی میں Kashmir Contact Group کا بنیادی ممبر ملک ہے۔ جناب اردغان کی صدارتی انتخابات میں کامیابی نہ صرف ترک عوام کیلئے ایک خوش آئند بات ہے بلکہ عالم اسلام کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کو بھی اس با اثر اسلامی ملک کے سربراہ سے بہت سی امیدیں اور توقعات وابستہ ہیں اور ہم امید رکھیں گے کہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین جو عالمی سطح پر سلگتے ہوئے سیاسی مسائل ہیں کے حل میں ترکی اپنا کلیدی کردار اد کرے گا۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام جو گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے جائز حق کی جدوجہد میں بھارتی مظالم اور جبر و تشدد کا سامنا کررہے ہیں اور یہ مسئلہ پچھلے سات دہائیوں سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے اور اس مسئلہ کے حل کے ضمن میں او آئی سی نے بھی متعدد بار قراردادیں بھی پاس کی ہیں اور اس مسئلہ کی موجودگی اور بھارتی مظالم پرفکر و تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ میرواعظ نے کہا کہ یہ عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کشمیری عوا م کیخلاف ہو رہی بھارتی جارحیت کا سنجیدہ نوٹس لیں او ر اس مسئلہ کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرانے کیلئے آگے آئیں۔دریں اثنا حریت ترجمان نے حریت چیرمین میرواعظ کی خانہ نظر بندی ، سید علی شاہ گیلانی کی لگاتار نظر بندی ، محمد یاسین ملک کو گرفتار کرکے کوٹھی باغ تھانے میں اورحریت رہنما مختار احمد وازہ کو گرفتار کرکے تھانہ صدر اسلام آباد میں مقید رکھنے، حریت کارکنوں کو ہراساں و خوفزدہ کرنے اور نادی ہل سوپور میں سرکاری فورسز کے ہاتھوں بلا جواز فائرنگ میں ایک نہتے طالب علم عبید منظور کو زخمی کئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں اصل میں فوج اور فورسز کی حکمرانی ہے جو اپنی من مانی کارروائیوں کے ذریعہ یہاں کی حریت پسند قیادت اور عوام کو طاقت اور تشدد کے بل پر دبانے کے ہر غیر جمہوری ہتھکنڈے بروئے کار لارہے ہیں۔

Comments are closed.