مضروب وادی:39روز میں53جانیں تلف

ہلاک شدگان میں سینئر صحافی ،11عام شہری،29جنگجو ،12پولیس وفورسز اہلکار

سری نگر:۲۵،جون:کے این این/ کشمیر وادی میں سیز فائر کے آغازو اختتام اور مخلوط حکومت کے خاتمہ سے لیکر گور نر راج تک گزشتہ39روز میں53جانیں تلف ہوئیں ،جن میں سینئر صحافی ،11عام شہری،29جنگجو ،12پولیس وفورسز اہلکار شامل ہیں ۔اس عرصے کے دوران پتھراؤ ،فورسز کارروائیوں ،پیلٹ فائرنگ وفائرنگ کے واقعات میں کئی اہلکاروں سمیت بیسیوں زخمی ہوئے ۔ادھر سیز فائر کی واپسی کے بعد محض 8دنوں میں 11جنگجو اور5عام شہریوں سمیت19افراد اپنی جانیں گنوابیٹھے ۔ کشمیر نیوز نیٹ کے مطابق زخموں سے چور کشمیر وادی انسانی جانوں کے مسلسل اتلاف کے سبب مزید مجروح ہوتی جارہی ہے ۔سیز فائر سے قبل اور اختتام ،مخلوظ کے قیام سے لیکر انجام تک کشمیر وادی میں ہلاکتوں کا لامتناعی سلسلہ جاری ہے ،جو فی الوقت رُکنے کا نام ہی نہیں لیتا ہے۔ 17جون کو مرکزی حکومت نے وادی کشمیر میں جاری رمضان سیز فائر میں توسیع نہ کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی عام شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ بھی شروع ہوا ۔جہاں فورسز کے ہاتھوں ہلاکتیں ہورہی ہیں ،وہیں نامعلوم بندوق برداروں کی سرگرمیاں بھی جاری ہیں ۔سیز فائر ختم کرنے کے اعلان کے ساتھ جنوبی ضلع کولگام میں نامعلوم بندوق برداروں نے محمد اقبال نامی شہری کو گولی مار ابدی نیند سلا دیا ۔اگرچہ اس کارروائی کی عسکری تنظیموں میں سے کسی نے بھی ذمہ داری نہیں ،تاہم 17جون کی شام کو پیش آمدہ اس واقعہ کے بارے میں پولس کا کہنا ہے کہ محمد اقبال کاوا نامی شہری پر نزدیک سے گولی چلاکر انہیں شدید زخمی کردیا گیا۔پولس کا کہنا ہے کہ مذکورہ شہری کو خون میں لت پت چھوڑ کر حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جبکہ زخمی شہری کو اسلام آباد کے ضلع اسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے۔18جون کو فوج نے کولگام میں بندوقوں کے دھانے کھولے ،جسکی وجہ سے ایک نوجوان کی موت ہوئی ۔یہ واقعہ مرکزی سرکار کی جانب سے ’’رمضان سیز فائر‘‘کی مدت میں توسیع نہ کئے جانے کے فیصلے کے محض ایک روز اُ س وقت پیش آیا جب شام ہوتے ہوتے فوج کی 9آر آر نے کولگام کے آکھرن نامی علاقہ میں گولی چلاکر اعجاز احمد نامی نوجوان کوابدی نیند سلا دیا ۔فوجی ترجمان نے واقعہ کے حوالے سے کہا تھا کہ فوج کو اپنے دفاع میں گولی چلانی پڑی تھی ۔اسی روز شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ کے پانارجنگلات میں طویل جھڑپ کے دوران 2جنگجو جاں بحق ہوئے ،یہاں ایک ہفتے تک جاری رہنے والے جنگجو مخالف آپریشن میں متعدد جنگجو اور فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے ۔19جون کو بی جے پی نے بغیر کچھ کہے پی ڈی پی سے سیاسی ناطہ توڑ دیا ۔یہ فیصلہ بھاجپا نے اچانک لیا ،جس کا اعلان پارٹی کے قومی جنرل سیکریٹری رام مادھو نے کیا ۔20جون کو ریاست میں گور نر راج نافذ ہوا اورتاہم اس سے ایک روز قبل نازنین پورہ ترال میں ایک جھڑپ کے دوران2مقامی جنگجوؤں سمیت3جنگجو جاں بحق ہوئے ۔ اس جھڑپ میں عادل اکرم لون ساکنہ مڈورہ ترال اور دانش خالق ڈارساکنہ پنگلش ترال کے علاوہ ایک غیر مقامی جنگجو جاں بحق ہوا تھا ۔20جون کی شام کو گالندر پانپور میں فائرنگ ایک واقعہ میں 3پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے تنویر احمد زخمیوں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔22جون کو جنوبی قصبہ بجبہاڑہ کے مضافاتی گاؤں سری گفوارہ نو شہرہ میں فوج وفورسز اور جنگجوؤں کے درمیان خونین معرکہ آرائی ہوئی ،جس میں ایچ ایم ٹی سرینگر سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ جنگجو کمانڈر سمیت 4عساکر ،ایس او جی اہلکار اور ایک شہری ہلاک ہو ا۔جاں بحق 4جنگجوؤں کی شناخت داؤد سلفی عرف بر ہان ساکنہ ایچ ایم ٹی سرینگر ،ماجد منظور ڈار ساکنہ تالنگام اونتی پورہ ،اشرف ایتو ساکنہ ہاتھی گام سری گفوارہ اور عادل حسن میر ساکنہ شی پورہ سر ی گفوارہ کے ناموں سے کی جبکہ مہلوک ایس اوجی اہلکار کی شناخت عاشق حسین کے بطور ہوئی۔اس جھڑپ میں مکان مالک محمد یوسف راتھر کی موت جبکہ اسکی اہلیہ شدید زخمی ہوئی ۔اس کے علاوہ پُرتشدد جھڑپوں میں درجنوں افراد مضروب ہوئے ۔24جون کو جنوبی ضلع کولگام کے چھیدرکیموہ گاؤں میں فوج ،فورسزاورٹاسک فورس کے مشترکہ جنگجومخالف آپریشن کے دوران لشکرطیہ سے وابستہ2جنگجوجاں بحق ہو ئے جبکہ ایک کوزندہ پکڑلیاگیا۔جائے جھڑپ کے نزدیک ہوئے پُرتشددمظاہروں کے دوران 24سالہ معصوم نوجوان فورسزکی گولیوں کانشانہ بنکرلقمہ اجل بننا۔اسی روز سری گفوارہ بجبہاڑہ میں فوج اورجنگجوؤں کے درمیان خونین معرکہ آرائی کے دوران زخمی ہونے والانوجوان تین روزتک موت وحیات کی کشمکش میں مبتلاء رہنے کے بعداتوارکوصورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں زندگی کی جنگ ہارگیا۔اس جھڑپ کے اختتام کے بعد ریاستی پولیس نے پہلی مرتبہ وادی کشمیر میں داعش کی موجودگی کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ سری گفوارہ جھڑپ میں جاں بحق جنگجو عسکری تنظیم داعش (آئی ایس آئی ایس) سے متاثر تھے۔اسی روز شیریں باغ کرن نگر سرینگر شوٹ آؤٹ میں زخمی دو پولیس اہلکاروں میں سے ہیڈ کانسٹیبل 8روز تک صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں موت وحیات کی کشمکش میں مبتلاء رہنے کے بعد جمعہ کی صبح زخموں کی تاب ناکر دم توڑ بیٹھا۔یاد رہے کہ رمضان سیز فائر کے اعلان تا اختتام وادی کشمیر میں مختلف نوعیت کے پُر تشدد واقعات میں سینئر صحافی سید شجاعت بخاری اور6عام شہریوں سمیت قریب34افراد کی موت ہوئی ،جن میں18جنگجو ،9فورسز اہلکار شامل ہیں۔

Comments are closed.