کشمیرکے لوگ مسئلہ کشمیرکا آئینِ ہند کے باہرحل چاہتے ہیں:عمرعبداللہ
بلاشبہ کشمیرمیں آزادی ایک مضبوط جذبہ
طاقت کی پالیسی یاملٹری اپروچ کشمیریوں کیخلاف کبھی کامیاب نہیں ہوگا
محبوبہ مفتی کی سرکارکوگرانا’جموں وکشمیرکی سیاست پرسرجیکل اسٹرائیک
‘
سری نگر:۲۵،جون: سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے دوٹوک الفاظ میں کہاہے کہ کشمیروادی میں آزادی ایک مضبوط جذبہ ہے ۔انہوں نے یہ بھی واضح کردیاکہ طاقت پرمبنی پالیسی کشمیرمیں کبھی کارگرثابت نہیں ہوسکتی ہے، اوریہ کہ اسبات سے انکارنہیں کیاجاسکتاہے کہ کشمیرکے لوگ مسئلہ کشمیرکابھارتی آئین کے باہرحل چاہتے ہیں ۔کے این این مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق نجی نیوزچینل ’نیوز18‘کیساتھ ایک انٹرویوکے دوران اہم علاقائی مین اسٹریم جماعت نیشنل کانفرنس کے نائب صدرعمرعبداللہ کاکہناتھاکہ کشمیرکی موجودہ صورتحال کیلئے مرکزی حکمران اورسرکاریں ذمہ دارہیں کیونکہ انہوں نے کبھی کشمیری عوام کیساتھ کئے گئے وعدوں کوعملی جامہ نہیں پہنایااورنہ انہوں نے اپنی کہی باتوں کابھرم رکھا۔عمرعبداللہ نے کہاکہ نرسمہاراؤنے ’آسمان حدہے‘کی بات کہہ دی اورپھرکچھ نہیں کیا۔واجپائی جی نے انسانیت ،جمہوریت اورکشمیریت کی بات کہی لیکن وہ بھی عملی طورپر کچھ نہیں کرپائے۔انہوں نے کہاکہ آج کی مرکزی سرکارتوکشمیرمسئلے کے سیاسی پہلوکوماننے کیلئے ہی تیارنہیں ،اورمودی سرکارکی نظرمیں یہ امن وقانون اوراقتصادی عاملہ ہے۔ایک سوال کے جواب میں سابق وزیراعلیٰ کاکہناتھاکہ کشمیرمسئلے کے کم سے کم تین پہلوہیں ،ایک یہ کہ کشمیربھارت اورپاکستان کے درمیان ایک تنازعہ ہے ،دوئم یہ کہ مرکزاورریاست کے مابین کئی معاملات حل طلب ہیں ،اورتیسراپہلواندرونی سطح کاہے جوریاست کے تین خطوں کشمیر،جموں اورلداخ کے درمیان ہے یاکہ ان تینوں خطوں کے اندرپایاجاتاہے۔عمرعبداللہ نے مودی سرکارکی طاقت پرمبنی کشمیرپالیسی کوبے سودقراردیتے ہوئے خبردارکیاکہ اس قسم کے اپروچ سے کشمیریوں بالخصوص نوجوانوں میں پائی جانے والی بے گانگی میں تشوشناک طورپراضافہ ہواہے ۔انہوں نے کہاکہ کچھ نیوزچینلوں نے کشمیراورکشمیریوں کیخلاف زہرافشانی پرمبنی جونہج اپنارکھی ہے،اُسے بھی کشمیری نوجوانوں میں اشتعال بڑھ رہاہے ۔عمرعبداللہ نے کہاکہ سبھی کشمیریوں کوانتہاپسنداورامن دشمن قراردینے کی میڈیاپالیسی کے منفی نتائج برآمدہوتے ہیں ۔سابق وزیراعلیٰ نے سینئرصحافی شجاعت بخاری کی ہلاکت کے تناظر میں کہاکہ ایک جانب کشمیری صحافیوں کوکھلی دھمکی دی جارہی ہے تودوسری جانب نیوزچینلوں نے کشمیرمخالف اپروچ اپنارکھاہے۔انہوں نے واضح کیاکہ کشمیرمیں طاقت کی پالیسی یاملٹری اپروچ کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہوگابلکہ ایسی پالیسی اوراپروچ سے حالات مزیدابترہوتے جائیں گے ۔عمرعبداللہ کاکہناتھاکہ اب بھی موقعہ ہے کہ کشمیرکے حوالے سے حکومت ہندسیاسی پالیسی اپنائے کیونکہ کشمیرایک سیاسی مسئلہ ہے نہ کہ خالصتاًامن وقانون یاکوئی اقتصادی مسئلہ ،جسکوطاقت یاترقیاتی پیکیج دیکرحل کیاجاسکتاہے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ صورتحال میں کشمیری نوجوانوں کواسبات کیلئے قائل کرنابہت ہی مشکل ہے کہ مذاکرات سے کشمیرمسئلے کوحل کیاجاسکتاہے۔عمرعبداللہ کاکہناتھاکہ شجاعت بخاری کے قتل سے سیول سوسائٹی اورسیاسی لیڈرشپ بشمول حریت لیڈروں کویہ سخت پیغام ملاہے کہ بھارت کیساتھ مذاکرات کاکوئی فائدہ نہیں ۔کے این این مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق غلام نبی آزاداورسیف الدین سوزکے حالیہ بیانات کے تناظرمیں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ کشمیروادی میں آزادی ایک مضبوط جذبہ ہے اوریہ کہ اسبات سے انکارنہیں کیاجاسکتاہے کہ کشمیرکے لوگ مسئلہ کشمیرکابھارتی آئین کے باہرحل چاہتے ہیں ۔ عمرعبداللہ نے سوالیہ اندازمیں کہاکہ اگرکشمیرمیں آزادی کاجذبہ نہ ہوتاتواپریل2017میں ہوئے ضمنی پارلیمانی چناؤکے دوران سری نگرلوک سبھانشست کیلئے صرف7فیصدووٹ نہ ڈالے گئے ہوتے ۔انہوں نے غلام نبی آزادکے بیان کی تائیدکرتے ہوئے کہاکہ کشمیرمیں جھڑپوں کے دوران اگرجنگجومارے جاتے ہیں توعام شہری بھی گولیوں کانشانہ بنکرجاں بحق ہوتے ہیں ۔عمرعبداللہ نے واضح کیاکہ شہری ہلاکتیں کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہوسکتی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کشمیرکی صورتحال کوبہتربنانے کاایک ہی طریقہ ہے کہ عام لوگوں تک پہنچاجائے اوراُنکی بات سنی جائے ۔سابق وزیراعلیٰ کادوٹوک الفاظ میں کہناتھاکہ کشمیرمیں پٹھوں یعنی طاقت کی پالیسی یاجارحانہ اپروچ کسی بھی صورت میں کارگرثابت نہیں ہوگا۔انہوں نے کہاکہ آج این ایس جی کمانڈؤزتعینات کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں جبکہ یہ کمانڈؤزپہلے ہی کشمیرمیں موجودہیں ،اورجنگجومخالف کارروائیوں میں کبھی کبھارشامل بھی ہوتے رہے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں سابق وزیراعلیٰ اورنیشنل کانفرنس کے نائب صدرعمرعبداللہ کاکہناتھاکہ بھاجپاکی جانب سے پی ڈی پی سے حمایت واپس لیکرمحبوبہ مفتی کی سرکارکوگرانا’جموں وکشمیرکی سیاست پرسرجیکل اسٹرائیک جیساہے کیونکہ اس اچانک فیصلہ کی کانوں کان خبرپی ڈی پی تودورکی بات مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ تک کونہیں تھی ۔انہوں نے کہاکہ محبوبہ مفتی کوبھاجپافیصلہ کی جانکاری ریاستی گورنرنے فون پراسوقت دی جب محبوبہ مفتی اوراُنکی کابینہ میں شامل کئی وزیرسیول سیکرٹریٹ سری نگرمیں اپنے دفاتر میں کام کررہے تھے جبکہ راجناتھ سنگھ کویہ خبرنیوزچینلوں سے ملی ۔عمرعبداللہ نے کہاکہ ایساہوناہی تھالیکن رواں برس کے اوآخرتک اس کی اُمیدتھی لیکن بھاجپانے اچانک یہ فیصلہ لیکرمحبوبہ مفتی اوراُنکی جماعت کوبڑاجھٹکادیا۔انہوں نے کہاکہ غالباًمحبوبہ مفتی رواں برس کے آخرتک ایساکوئی فیصلہ اپنی جانب سے لیتی لیکن بھاجپانے اس میں پہل کردی ۔عمرعبداللہ نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ اگرمفتی محمدسعیدکے انتقال کے بعدمحبوبہ مفتی بھاجپاکیساتھ اتحادپرراضی نہ ہوتیں توپی ڈی پی ٹوٹ پھوٹ کی شکارہوجاتی ۔انہوں نے کہاکہ ابھی بھی خطرہ نہیں ٹلابلکہ پی ڈی پی اب بھی ٹوٹ سکتی ہے۔
Comments are closed.