انسانی زندگیوں کے اتلاف کیلئے بھارت ذمہ دار :گیلانی

کشمیریوں کو ظلم، جبر اور بربریت کی بنیاد پر اپنی مبنی برحق جدوجہد سے دستبردار کرنا ناممکن

سری نگر:۲۵،جون:/ سید علی گیلانی نے چڈر کولگام میں جاں بحق ہوئے عسکریت پسندوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس خطے میں جو بھی خون خرابہ اور انسانی زندگیوں کا اتلاف ہورہا ہے، اس کے لیے صرف اور صرف بھارتی حکمرانوں کی ہٹ دھرمی والی پالیسی ذمہ دار ہے، جبکہ انہوں نے شہریوں کو قتل کرنے اور راست فائرنگ کرکے 3درجن کے لگ بھگ افراد کو زخمی کرنے اور آنکھوں پر پیلٹ فائیر کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بھارت کے حکمرانوں اور فوجی سربراہوں کی طرف سے آئے دن ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانے کا باضابطہ آغاز ہے، جس میں وہ کشمیریوں کے ساتھ سختی سے پیش آنے کی بات کررہے ہیں۔ انہوں نے مزاحمتی لیڈران میر واعظ عمر فاروق، محمد یٰسین ملک، محمد اشرف صحرائی، غلام احمد گلزار اور محمد اشرف لایا کوتھانہ اور گھروں میں نظربند کرنے کی بھی مذمت کی اور کہا کہ بھارتی فوج کشمیریوں کا قتلِ عام کررہی ہے اور ریاستی انتظامیہ نعشوں پر آنسو بہانے اور ماتم کرنے پر بھی پابندی عائد کرتی ہے۔ یہ ریاستی دہشت گردی کا بدترین مظاہرہ ہے اور اس کی نظیر دنیا کے کسی بھی خطے میں ملنا مشکل ہے۔کے این این کو موصولہ بیان میں حریت(گ)چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارت کے پالیسی ساز اور حکمران جموں کشمیر میں ایک بار پھر 1990 ؁ء جیسی صورتحال پیدا کرکے قتل عام کے ان واقعات کو دہرانا چاہتا ہے جن کا نام سُن کر آج بھی انسان کا رواں رواں لرز اُٹھتا ہے۔ وہ لوگوں کو’’پشت بہ دیوار‘‘کررہے ہیں اور طاقت کے بے تحاشا استعمال کرکے انہیں ہر طرح سے بے بس بنانا چاہتے ہیں۔ حریت چیرمین نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارتی حکمران اصل میں کشمیریوں کو ظلم، جبر اور بربریت کی بنیاد پر اپنی مبنی برحق جدوجہد سے دستبردار کرانا چاہتے ہیں اور اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وہ ریاست میں جاری غیر یقینی سیاسی صورتحال اور بے چینی کو بڑھاوا دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری فورسز نے عام شہریوں کو قتل کرکے اور پیلٹ گن کا بے تحاشا استعمال شروع کرکے ریاست میں امن کو درہم برہم کرنے کا پھر سے باضابطہ آغاز کیا ہے۔ انکاؤنٹر سائٹس سے بہت فاصلے پر لوگ جمع ہوکر نعرہ بازی کرتے ہیں تو ان پر راست فائرنگ کرنے کا جواز کہاں پیدا ہوتا ہے۔ یہ محض انتقامی کارروائی ہوتی ہے اور حکومتی فورسز مجاہدین کی موجوگی کی سزا عام لوگوں کو دینا چاہتی ہیں۔ گیلانی صاحب نے ایک بار پھر یہ بات دہرائی کہ کشمیر کی صورتحال کوئی لااینڈ آرڈر کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ ہے اس کو ملٹری پاور کے ذریعے سے ماضی میں حل کیا جاسکا ہے اور نہ مستقبل میں اس طرح کے روئیے سے کوئی مثبت نتیجہ نکالا جانا ممکن ہے۔ حریت چیرمین نے دہلی کے اربابِ اقتدار کو مشورہ دیا کہ وہ ضد اور ہٹ دھرمی ترک کرکے زمینی حقائق کو قبول کریں اور کشمیریوں کے دیرینہ مطالبۂ حقِ خودارادیت کو پورا کرنے کے اپنے وعدے کو نبھائیں اور اس سے نہ صرف کشمیریوں کے مصائب کا خاتمہ ہوگا، بلکہ خود بھارت کے کروڑوں عوام کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت فراہم کرے گا۔

Comments are closed.