مقامی لشکر کمانڈر کے آخری میں عوامی سیلاب

ریکارڈ10مرتبہ نما زِ جنازہ
جنگجو نمودار ،ہوائی فائرنگ کرکے شکور کو دی سلامی

دیو سر کولگام:۲۵،جون:کے این این/ جاں بحق لشکر طیبہ کمانڈر شکور احمد ڈار کے جلوسِ جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی جس کے نتیجے میں مہلوک جنگجو کمانڈر کی کم سے کم10مرتبہ نماز جنازہ ادا کی گئی ۔اس دوران جنگجوؤں نے نمودار ہو کر اپنے ساتھی کو ہوائی فائرنگ کرکے خراج پیش کیا ۔ادھر غیر مقامی جنگجو کو پولیس کی موجودگی میں سرحدی تحصیل اوڑی میں سپرد لحد کیا گیا ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق جنوبی ضلع کولگام کے چڈرکیموہ گاؤں میں فوج ،فورسزاورٹاسک فور س کے ساتھ ایک خونین معرکہ آرائی اپنے ساتھی سمیت جاں بحق ہوئے لشکر طیبہ کمانڈر شکور احمد ڈار کی تدفین پیر کے روز اپنے آبائی گاؤں واقع سوپت ۔ٹنگ پورہ دیو سر کولگام میں انجام دی گئی ۔معلوم ہوا ہے کہ جاں بحق لشکر طیبہ کمانڈر کی نماز جنازہ ایک میدان میں ادا کی گئی ،جس میں ایک اندازے کے مطابق ایک وقت میں 30ہزار لوگوں کے جمع ہونے کی گنجائش موجود ہے ۔عینی شاہدین کے مطابق جاں بحق جنگجو کمانڈر کی نما زجنازہ میں شرکت کرنے کیلئے کئی دیہات سے لوگوں نے سوپت ۔ٹنگ پورہ دیو سر کولگام کا رُخ کیا ،جس میں زیادہ تر نوجوانوں کی تھی ،تاہم جاں بحق جنگجو کمانڈر کے جلوس جنازہ میں خواتین کی ایک خاصی تعداد نے شرکت کی ۔عینی شاہدین کے مطابق جاں بحق جنگجو کمانڈر شکور احمد ڈار کے جلوس جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور اگر یوں کہا جائے کہ یہاں سروں کا سمندر اُمڑ آیا تھا ،تو کچھ غلط نہ ہوگا ۔عینی شاہدین کے مطابق لوگوں کی کثیر تعداد کو دیکھ کر جاں بحق جنگجو کمانڈر کی نماز جنازہ کم ازکم 10مرتبہ ادا کی ۔ایک اطلاع کے مطابق صبح8بجے سے لیکر ساڑھے11بجے تک جاں جنگجو کی 6مرتبہ نماز جنازہ ادا کی گئی ۔معلوم ہوا ہے کہ لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا جسکی وجہ سے جاں بحق جنگجو کمانڈر کی مزید کئی مرتبہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی ۔مقامی لوگوں کے مطابق لشکر طیبہ کمانڈر ابو قاسم اور حزب کمانڈر برہان وانی کے بعد یہ سب سے بڑا جلو سِ جنازہ تھا ،جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی ،ایک اندازے کے مطابق قریب پچاس ہزار سے زائد افراد نے جاں بحق جنگجوکمانڈر کے جلوسِ جنازہ شرکت کی ۔معلوم ہوا ہے کہ اس دوران 3ہتھیار بند جنگجو بھی اس جلوسِ جنازہ میں نمودار ہوئے ،جنہوں نے ہوا میں فائرنگ کر کے اپنے ساتھی کو خراج پیش کیا ۔یاد رہے کہ لشکر کمانڈر شکور احمد ڈار اپنے غیر مقامی جنگجو ساتھی کے ساتھ چڈرکیموہ کولگام میں ایک خونین معرکہ آرائی میں جاں بحق ہواتھا ۔ایک اطلاع کے مطابق غیر مقامی جنگجو کو پولیس کی موجودگی میں سرحدی تحصیل اوڑی میں سپرد لحد کیا گیا ۔اس جھڑپ میں ایک جنگجو کو زندہ پکڑنے کا دعویٰ کیا جبکہ پُرتشدد جھڑپوں میں فورسز کی فائرنگ سے 24سالہ یاؤراحمدڈارولدعبدالرحمان ساکنہ گاسی پورہ کولگام جاں بحق ہوا تھا ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جاں بحق جنگجوؤں کے جنازے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت سیکورٹی فورسز کیلئے ایک بڑا چیلنج اُبھر کر سامنے آرہا ہے جبکہ سیکورٹی ایجنسیوں نے معرکہ آرائیوں کے دوران مقامی یا غیر مقامی جنگجوؤں کی نعشیں اہلخانہ کو سونپنے کی روایت ختم کرنے کیلئے مرکزی حکومت کو ایک نئی پالیسی مرتب کرنے کی اپیل کی ہے ۔سیکورٹی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ کشمیری نوجوان جنازوں کے ماحول سے متاثر ہو کر بندوق اٹھا لیتے ہیں ۔یاد رہے کہ اس سے قبل رواں برس ہی ریاستی پولیس کی خفیہ شاخ نے حکومت سے کہا تھا کہ جنگجوؤں کے جنازوں میں بھاری تعداد میں لوگوں کی شرکت سے نوجوان مسلح تشدد کی طرف راغب ہو جاتے ہیں لہٰذا اگر کوئی شدت پسند مارا جائے تو اس کے جنازے میں عوام کی شرکت پر پابندی عائد کی جائے۔

Comments are closed.