کانگر یس کا غیر معمولی اجلاس ، ریاست کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

پی ڈی پی ،بھاجپا نے ریاست کو پشتِ بہ دیوار کیا ،لوگوں کو اضطراب کے بھنور میں چھوڑا:میر

سری نگر:۲۵،جون:/ ریاستی کانگریس کا ایک غیر معمولی اجلاس سرینگر میں منعقد ہوا ،جسکی صدارت پارٹی صدر غلام احمد میر نے کی ۔اس ہنگامی اجلاس میں ریاست جموں وکشمیر خاص طور پر وادی کشمیر کی موجودہ صورتحال تبادلہ خیال کیا گیا ۔غلام احمد میر نے الزام عائد کیا کہ پی ڈی پی ،بھاجپا نے ریاست کو پشتِ بہ دیوار کیا ۔کے این این کے مطابق پردیش کانگریس کمیٹی کی ایک میٹنگ پیر کو پارٹی ہیڈ کواٹر سرینگر پر منعقد ہوئی ،جس میں سینئر پارٹی لیڈران نے شرکت کی ریاست جموں وکشمیر میں پی ڈی پی ،بھاجپا مخلوط حکومت کے ٹوٹ جانے کے پیداشدہ مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔اس اجلاس میں کشمیر کی موجودہ صورتحال پر برہمی کا اظہار کیا ۔میٹنگ کی صدارت پارٹی صدر غلام احمد میر نے کی ،جس میں پارٹی کے سینئر لیڈران جن میں ڈاکٹر کرن سنگھ بھی موجود تھے ۔میٹنگ میں گور نر راج کے نفاذ کے پر پیدا شدہ سیاسی بحران پر غور وخوض کیا گیا ۔اس اجلاس میں الزام عائد کیا کہ پی ڈی پی ،بھاجپا نے جموں وکشمیر کو پشتِ بہ دیوار کیا ۔اجلاس میں بتایا کہ بی جے پی نے ریاست کو موجودہ بحران میں دھکیل دیا جبکہ بھاجپا2019لوک سبھا الیکشن کیلئے اپنی شبیہ بچانے کیلئے پی ڈی پی سے سیاسی رشتہ توڑ دیا ۔اجلاس میں بتایا گیا کہ صورتحال تبدیل ہوچکی ہے اور لوگ زعفرانی پارٹی سے بخوبی واقف ہیں ،جو سیاسی مفادات کی خاطر کسی بھی حد تک جائیگی ۔اس اجلاس میں یہ بھی الزام عائد کیا کہ پی ڈی پی ،بھاجپا کے ساڑھے تین سالہ دوراقتدار ریاست اور ریاستی عوام کے لئے نقصان دہ ثابت ہوا جبکہ سابق مخلوط حکومت کشمیر کی موجودہ اور سرحدی کشیدہ صورتحال کیلئے ذمہ دار ہے ۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ بھاجپا نے اہلیان جموں کو مایوس کردیا جبکہ بھاجپا نے ریاست کو نقصان پہنچا اور وہ اپنی ذمہ داریوں سے فرار حاصل نہیں کرسکتی ہے ۔اجلاس میں بتایا گیا کہ دونوں جماعتوں نے مل کر ریاست میں ساڑھے تین سال تک حکومت کی ۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ پی ڈی پی ،بھاجپا کی عوام کش پالیسیوں کے نتیجے میں عوام اس وقت اضطراب میں مبتلاء ہیں جبکہ لوگ اب ان دونوں جماعتوں کو استحصالی سیاست کیلئے کبھی معاف نہیں کریں گے ۔اس اجلاس میں طارق حمید قرہ ،جی این مونگا ،اعجاز احمد خان ،عثمان مجید ،محمد امین بٹ ،گلزار احمد وانی ،اصغر کربلائی ،کرشن کے املا اور دیگر لیڈران نے بھی خطاب کیا ۔

Comments are closed.