سرینگر سمیت پوری کشمیر وادی میں معمول کی عوامی وکاروباری سرگرمیاں ٹھپ

شہری ہلاکتوں کے خلاف ہمہ گیر ہڑتال
نادی ہل رفیع آباد بارہمولہ میں فورسز کی فائرنگ سے11ویں جماعت کا طالب علم زخمی

سری نگر:۲۵،جون:کے این این/ شہری ہلاکتوں کے لا متناعی سلسلے کے خلاف ہمہ گیر ہڑتال کے بیچ نادی ہل رفیع آباد بارہمولہ میں فورسز کی فائرنگ سے11ویں جماعت کا طالب علم زخمی ہوا ۔ادھر شٹر ڈاؤن اور پہہ جام بند کے باعث کشمیر وادی کے طول وعرض میں معمو لات زندگی کی رفتار مکمل طور تھم گئی ۔ اس دوران ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر شہر خاص سمیت وادی بھر کے حساس علاقوں میں دفعہ144کے تحت حکم امتناعی نافذ رہا ۔ سید علی گیلانی ،محمد اشراف صحرائی ،میر واعظ عمر فاروق سمیت کئی مزاحمتی لیڈران کو خانہ نظر بندرکھا گیا اور محمد یاسین ملک گرفتار کیا گیا جبکہ جنوبی کشمیر میں موبائیل انٹر نیٹ خد مات معطل اور ریل سروس سیکورٹی وجوہات کی بناء پر معطل رکھی گئی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق بارہمولہ میں فورسز اہلکاروں نے بندوقوں کے دھانے کھولے ،جسکی وجہ سے ایک طالب علم زخمی ہوا ۔ معلوم ہوا نادی ہل رفیع آباد بارہمولہ میں اُس وقت صورتحال کشیدہ ہوئی جب فورسز اہلکاروں نے شہری ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کررہے مظاہرین پر فائرنگ کی ۔معلوم ہوا ہے کہ نادی ہل رفیع آباد باہمولہ میں پیر کو فورسز اہلکاروں نے احتجاجی مظاہرین پر فائرنگ کی جسکے نتیجے میں11ویں جماعت کا طالب علم عبید منظور ولد منظور احمد ساکنہ نادی ہل رفیع آباد گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا ۔زخمی نوجوان کو فوری طور پر ضلع اسپتال بارہمولہ منتقل کیا گیا ۔میڈیکل سپرانٹنڈنٹ بارہمولہ اسپتال ڈاکٹر سید مسعود نے بتایا کہ نوجوان کی ٹانگ میں گولی لگی ،اُسکی حالت مستحکم ہے ۔پولیس ذرائع کے مطابق سی آر پی ایف گاڑیوں پر یہاں شدید خشت باری کی ،اور مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے ہوا میں گولیوں کے کچھ راؤنڈ چلائے ۔ادھرمزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی جانب سے بلائی گئی احتجاجی ہڑتال کے نتیجے میں پیر کو وادی بھر میں معمول کی زندگی متاثر رہی ۔مزاحمتی قیادت نے یہ کال نوجوانوں کی متواتر بنیا دوں پر فورسز کے ہاتھوں ہلاکتوں کے سلسلے کے خلاف دی تھی ۔شہر سرینگر سمیت وادی کے طول وعرض میں جمعرات کو دکانات ،کاروباری ادارے ،تجارتی مراکز ،سرکاری وغیر سرکاری تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا ۔ہمہ گیر شٹر ڈاؤن وپہیہ جام ہڑتال سے سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری برائے نام رہی جبکہ عدالتوں میں بھی روزمرہ کے کام کاج پر اثر دیکھنے کو ملا ۔تجارتی مرکز لالچوک سمیت وادی کے تمام چھوٹے بڑے بازار بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہنے سے چار سو سڑکیں اور بازار ویران نظر آرہے تھے ۔ضلع سرینگر کے علاوہ وسطی ضلع بڈگام اور گاندر بل کے ساتھ ساتھ جنوبی اضلاع پلوامہ ،اننت ناگ ،شوپیان اور کولگام میں بھی ہڑتال سے معمول کی زندگی درہم برہم رہی ۔ادھر شمالی کشمیر کے تین اضلاع کپوارہ ،بانڈی پورہ اور بارہمولہ میں بھی ہڑتال کا خاصا اثر دیکھنے کو ملا ۔اس دوران ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر شہر خاص سمیت وادی بھر کے حساس علاقوں میں دفعہ144کے تحت حکم امتناعی نافذ رہا ۔حساس علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے پولیس وفورسز کے اضافی دستے تیاری کی حالت میں تعینات رہے جبکہ دن بھر فورسز گاڑیاں گشت کرتی ہوئی نظر آئیں ،اسکے علاوہ کئی چوراہوں پر فورسز گاڑیاں نصب کی گئی تھیں اور کئی علاقوں میں خاردار تاروں سے رکاوٹیں بھی پیدا کی گئی تھیں ،تاکہ لوگ کسی طرح کے جلوس برآمد نہ کرسکیں ۔ادھر سید علی گیلانی ،محمد اشراف صحرائی ،میر واعظ عمر فاروق ،انجینئر ہلال وار سمیت کئی مزاحمتی لیڈران کو خانہ نظر بندرکھا گیاجبکہ محمد یاسین ملک کو لالچوک میں احتجاجی مظاہرے کی قیادت سے روکنے کیلئے پولیس پیرکی صبح حراست میں لیا اور تھانہ نظر بند رکھا ۔ اسلامک پولیٹکل پارٹی کے چیر مین محمد یوسف نقاش کو بھی حراست میں لیکر تھانہ نظر بند رکھا گیا ۔اس دوران ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر وادی کشمیر میں چلنے والی ریل خدمات پیر کی علی الصبح ایک دن کے لئے معطل کردی گئیں۔ یہ خدمات ظاہری طور پر مزاحتمی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی طرف سے تازہ شہری ہلاکتوں کے خلاف دی گئی ہڑتال کی کال کے پیش نظر معطل کی گئی ہیں۔ریلوے حکام کے مطابق ’ہم نے ریاستی پولیس کے مشورے پر پیرکو چلنے والی تمام ٹرینوں کو منسوخ کردیا ہے‘۔ انہوں نے بتایا ’بارہمولہ اور سری نگر کے درمیان کوئی ٹرین نہیں چلے گی۔ اسی طرح سری نگر اور بانہال کے درمیان بھی کوئی ٹرین نہیں چلے گی‘۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کشمیر میں گزشتہ کچھ دنوں سے فورسز کے ہاتھوں مسلسل ہلاکتوں کیخلاف پورے جموں وکشمیر میں مکمل اور ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھاکہ عید الفطر کے روز سے بھی وادی میں فورسز نے ایک بار پھر ظلم و جبر کا بازار گرم کرکے براہ راست فائرنگ(ٹار گٹ کلنگ) کے ذریعہ نسل کشی کررہی ہیں ،جسے ہر گز برداشت نہیں کیا جائیگا ۔یاد رہے کہ فورسز کی فائرنگ سے 24سالہ یاؤراحمدڈارولدعبدالرحمان ساکنہ گاسی پورہ کولگام جاں بحق ہوا تھا جبکہ اسے قبل بھی ہلاکتیں ہوئیں ۔غور طلب یہ ہے کہ سیز فائر کی واپسی کے بعد محض 8دنوں میں 11جنگجو اور5عام شہریوں سمیت19افراد اپنی جانیں گنوابیٹھے

Comments are closed.