امرناتھ یاترامکمل ہونے کے بعدنئے گورنرکی تعیناتی کاقومی امکان
دپندرسنگھ ہوڈاکی تاج پوشی یقینی
4سابق اعلیٰ فوجی افسران اورمذاکراتکاردنیشورشرماکے ناموں پرغورمکمل
سری نگر:۲۲،جون: / مرکزی سرکارنے ایک حکمت عملی کے تحت10برس سے جموں وکشمیرمیں تعینات گورنراین این ووہراکی معیادمیں 3ماہ کی توسیع کردی۔لیکن یہ بات طے ہے کہ ماہ اگست کے اوآخریاماہ ستمبرکے اوائل میں ریاست کیلئے نئے گورنرکی تعیناتی عمل میں لائی جائیگی۔کے این این کے مطابق مرکزی سرکارنے جموں وکشمیر بطورگورنراین این ووہراکی جگہ لینے کیلئے جونام فہرست میں شامل کئے گئے ،اُن میں فوج کے چارسینئرسابق اعلیٰ جرنیل بشمول شمالی کمان کے سابق سربراہ ریٹائرڈ لیفٹنٹ جنرل ڈی ایس ہوڈا،پندرہویں کورکے سابق سربراہ ریٹائرڈلیفٹنٹ جنرل عطاحسنین،ریٹائرڈجنرل بکرم سنگھ اورریٹائرڈجنرل جی ڈی بخشی کے علاوہ جموں وکشمیرکیلئے مرکزکے مقررکردہ مذاکرات کاردنیشورشرمابھی شامل بتائے جاتے ہیں ۔خبررساں ایجنسی یواین آئی کی حالیہ ایک رپورٹ کے مطابق مرکزی سرکارنے جموں وکشمیرکیلئے نئے گورنرکی تقرری کاارادہ کرلیا تھالیکن19جون کوبھاجپاکی جانب سے پی ڈی پی سے اپنی حمایت لینے اوراسکے نتیجے میں مخلوط سرکارگرجانے سے ریاست میں جوسیاسی بحران کی صورتحال وقوع پذیرہوئی ،اُس کے پیش نظربہتریہی سمجھاگیاکہ موجودہ گورنراین این ووہراکے معیادکارمیں مزید3ماہ کی توسیع کی جائے جبکہ رواں ماہ کے اوآخرمیں این این ووہراکی معیادمکمل ہونے والی تھی ۔بتایاجاتاہے کہ نئے گورنرکی تعیناتی عمل میں لانے کے بجائے این این ووہراکی معیادمیں اس بناء پرتین ماہ کی توسیع کی گئی کیونکہ 28جون سے سالانہ امرناتھ یاتراشروع ہونے والی ہے جوامسال 26اگست یعنی لگ بھگ 2ماہ تک جاری رہنے والی ہے ۔ غورطلب ہے کہ جون2008میں 1959بیچ کے سابق آئی اے ایس آفیسراین این ووہراکوجموں وکشمیرمیں بطورگرنربھیجاگیاتھا،اورموصوف رواں ماہ یہاں بطورگورنر10سال مکمل کرنے والے ہیں ۔میڈیارپورٹس کے مطابق جموں وکشمیرکیلئے موجودہ سیکورٹی صورتحال کودیکھتے ہوئے مرکزی سرکارنے پھرایک مرتبہ کسی سابق فوجی افسریاجنرل کوجموں وکشمیرمیں بطورگورنرتعینات کرنے کافیصلہ لیاہے تاہم مرکزایسے سابق فوجی افسرکوتعینات کرنے کے حق میں ہے جوکشمیرکے بارے میں اچھی جانکاری ،معلومات اورتجربہ رکھتاہو۔میڈیارپورٹ میں ذرائع کاحوالہ دیتے ہوئے بتایاگیاہے کہ مرکزی سرکارنے فوج کی شمالی کمان کے سابق سربراہ ریٹائرڈ لیفٹنٹ جنرل ڈی ایس ہوڈاکونیاگورنرتعینات کرنے کااصولی طورپرفیصلہ لیاہے کیونکہ اُن کے بارے میں کہاجاتاہے کہ جموں وکشمیرمیں بطوراعلیٰ فوجی افسرمختلف عہدوں پرفرائض انجام دینے کے دوران ڈی ایس ہوڈانے کشمیرکی اندرونی اورسرحدی صورتحال کے بارے میں کافی تجربہ حاصل کیاہے ،اوران کایہ تجربہ مرکزی سرکاربطورگورنربروئے کارلاناچاہتی ہے ۔بتایاجاتاہے کہ مرکزنے جوکشمیرپالیسی مرتب کی ہوئی ہے ،کسی سابق فوجی افسرکوگورنرکی حیثیت سے تعینات اسکی ایک کڑی ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ ریٹائرڈ لیفٹنٹ جنرل ڈی ایس ہوڈاکشمیرمیں قائم فوج کی 15ویں کورکے علاوہ فوج کی شمالی کمان کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں ۔غورطلب ہے کہ فوج سے سبکدوش ہونے کے بعد ریٹائرڈ لیفٹنٹ جنرل ڈی ایس ہوڈاکشمیرکی صورتحال کے حوالے سے مصالحانہ روی کاکئی مرتبہ اظہارکرچکے ہیں جبکہ موصوف حقوق انسانی صورتحال کوبہتربنانے کی وکالت کرتے رہے ہیں ۔
Comments are closed.