سی ڈی اسپتال درگجن سرینگر میں ادویات کی کمی ، مریض موت کو گلے لگانے پر مجبور

مریض گلی کوز بوتل بھی بازار سے خریدنے پر مجبورا
سرینگر؍08؍جون؍سی ڈی اسپتال درگجن ڈلگیٹ سرینگر میں ادویات کی کمی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک مریض کو گل کوز بوتل بھی بازار سے خریدنے پر مجبور کیا گیا ۔ تیمارداروں کے مطابق اُن کے پیروں تلے اُس وقت زمین کھسک گئی جب ڈاکٹر نے گل کوز بوتل بھی بازار سے خریدنے پر زور دیا کیونکہ اسپتال میں ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق سی ڈی اسپتال درگجن میں علاج ومعالجہ کرنے گئے مجید بٹ ولد غلام محمد بٹ ساکنہ ڈلگیٹ نے بتایا کہ اسپتال میں ادویات کی کمی کے باعث مریض موت کو گلے لگانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ مجید بٹ کو ایم آر ڈی زیر نمبر 764/62243کے تحت وارڈ نمبر 4میں بھرتی کیا گیا کیونکہ مریض نے سینے میں درد کی شکایت محسوس کی اور ڈاکٹروں نے فوری طورپر مجید بٹ کو اسپتال میں بھرتی کرنے پر زور دیا۔ مجید بٹ نامی شہری کے مطابق وارڈ میں منتقل کرنے سے پہلے ڈاکٹروں نے نسخہ ہاتھ میں تھما دیا اور کہا کہ چونکہ اسپتال میں ادویات کا اسٹاک ختم ہو گیا ہے اس لئے وہ بازار سے ہی گل کوز بوتل خریدے ۔ انہوں نے کہاکہ میرے ساتھ آئے تیمارداروں نے نہ صرف گل کوز بوتل بلکہ دوسرے ادویات بھی بازار سے مہنگے داموں خریدے تب جا کر اُن کا علاج ومعالجہ ممکن ہو سکا۔ عوامی حلقوں نے محکمہ صحت کی لاپرواہی اور غیر سنجیدگی پر شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وادی کے اسپتالوں میں ادویات کی کمی کے باعث مریض موت کو گلے لگانے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ عوامی حلقوں نے وزیرصحت کی خاموشی پر بھی حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جموں کے اسپتالوں کو چھ ماہ پہلے ہی ادویات اسٹاک کیا جاتا ہے تاہم وادی کشمیر کے اسپتالوں کو ادویات سے محروم رکھا گیا ہے جو کہ سرا سر نا انصافی اور انسانیت کا قتل ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق میٹنگوں، دعوؤں سے مریضوں کی جانوں کو نہیں بچایا جاسکتا بلکہ اس کیلئے زمینی سطح پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

Comments are closed.