میجر لیتل گوگوئی کے خلاف کورٹ آف انکوئری کے احکامات صادر ، دو رکنی کمیٹی تشکیل /جنرل بیپن روات

فوج میجر معاملے میں ملوث پایا گیا تومثالی قانونی کارروائی کی جائے گی

سرینگر/25مئی / فوجی میجر کو مقامی لڑکی کے ساتھ ڈلگیٹ کے ہوٹل سے گرفتار کرنے کے واقعہ کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے واضح کیا ہے کہ اگر میجر لیتل گوگوئی کو ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہو گی ۔ سی این آئی کے مطابق جمعرات کو ہنگامی طور پر وادی کشمیر وارد ہونے کے بعد جمعہ کو پہلگام میں قائم آرمی گڈ ول اسکول میں منعقدہ ایک تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں فوجی جنرل روات نے کہا کہ دیکھئے فوج کا کوئی بھی عہدیدار ہو، چاہے وہ کسی بھی عہدے پر فائز ہو اگر وہ کوئی غلط کام کرتا ہے اور ہماری نوٹس میں آتا ہے کہ اس نے غلط کام کیا ہے تو اْس کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جاتی ہے ۔میجر لیتل گوگوئی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں فوجی سربراہ نے واضح کیا ہے کہ فوجی میجر نے اگر کوئی غلط کام کیا ہے اور وہ اس کا مرتکب پایا گیا تو اس کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کی جائے گئی ۔ جنرل روات نے کہا کہ میجر کو ایسی سزا دی جائیگی جو مثال بن کر رہ جائیگی ۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کی جائے گی اور اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ فوج کا میجر اس معاملے میں کسی بھی غلطی کا مرتکب پایا گیا تو اس کو بخشا نہیں جائے گا ۔اسی ددوران معلوم ہوا ہے کہ فوجی سربراہ کے بیان کے بعد معاملے کی کورٹ آف انکوئری کا حکم دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں دو ممبران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اس معاملے کی تحقیقات کریگی ۔معلوم ہوا ہے کہ کمیٹی کی سفارشات کے بعد ہی فوجی میجر لیتل گوگوئی کو سزا سنائی جائے گی ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال پارلیمانی انتخابات کی ووٹنگ کے دوران ضلع بڈگام میں فاروق احمد ڈار نامی نوجوان کو فوجی میجر لیتل گوگوئی نے اپنی جیپ کے بونٹ سے باندھ کر کم از کم دس گاؤں گھمایا تھا جس کے بعد فوجی میجر کو انعام سے بھی نوازا گیا تھا جس کے بعد اسی فوجی میجر کو بدھ کے روز سرینگر کے ایک مقامی ہوٹل سے بڈگام کی لڑکی کے ہمراہ گرفتار کیاگیا ۔

Comments are closed.