روزہ داری: روحانی لذتوں سے آشنائی حاصل کرنے کا نام :میرواعظ

رمضان المبارک مسلمان کو ایک ایسے ذمہ دار انسان کا کردار ادا کرنے کا پابند بناتا ہے

سرینگر:۲۴،مئی:/ میرواعظ نے کہا کہ رمضان المبارک مسلمان کو ایک ایسے ذمہ دار انسان کا کردار ادا کرنے کا پابند بناتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ مقدس مہینہ مسلمانوں کو نفسانی خواہشات کے خلاف جہاد سماجی خرافات سے اجتناب برے کاموں سے دوری ناداروں ، محتاجوں اور مسکینوں کی اعانت اور عبادت الٰہی کا خوگر بنادیتا ہے۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق متحدہ مجلس علماء جموں کشمیر کے امیر میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمدعمر فاروق نے رمضان المبارک کے مقدس ایام کو بے مثال برکتوں کا حامل اور اس مہینے میں فرض کئے گئے روزوں کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک بندے کی قربت اور تعلق کا اہم ترین ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ روزہ داری کا مطلب محض بھوکا اور پیاسا رہنا نہیں بلکہ تزکیہ نفس اور روحانی لذتوں سے آشنائی حاصل کرنے کا نام ہے۔ رمضان المبارک کے عشرہ رحمت میں وعظ و تبلیغ کی مجالس کے سلسلے میں جامع اہلحدیث وانگن پورہ عیدگاہ میں نماز عصر کے بعد ایک بھاری دینی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ یہ مقدس مہینہ ایک مسلمان کو ایک ایسے ذمہ دار انسان کا کردار ادا کرنے کا پابند بناتا ہے جو ذاتی عبادات کے ساتھ ساتھ سماجی اور معاشرتی سطح پر درپیش مسائل کے سد باب اور ایک دوسرے کے ساتھ احسان اور ایثار برتنے کا مظاہرہ کر سکے ۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک مسلمانوں کو نفسانی خواہشات کے خلاف جہاد سماجی خرافات سے اجتناب برے کاموں سے دوری ناداروں ، محتاجوں اور مسکینوں کی اعانت اور عبادت الٰہی کا خوگر بنادیتا ہے لیکن رمضان المبارک میں روزہ داروں سے اللہ تعالیٰ کا جو سب سے بڑا تقاضہ ہے وہ یہی ہے کہ عبادات الٰہی کی انجام آوری اور برائیوں سے اجتناب اپنے نفس اور سماج کے تزکیہ کا عمل پورے سال جاری رہے اور محض رمضان کے مہینے میں برائیوں سے اجتناب برتنے سے فلسفہ رمضان کے تقاضے پورے نہیں ہوتے ۔میر واعظ نے کہا جس طرح اس عظیم مہینے میں ہماری مسجدیں خانقاہیں اور آستانہ جات عبادت گزاروں سے بھر جاتے ہیں اور ہم سماج کے کمزور لوگوں کی مدد کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش کرتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ان نیک کاموں کا سلسلہ پورے سال چلتارہے تب جا کر حقیقی معنوں میں ہماری روزہ داری کے الٰہی اور معنوی تقاضے پورے ہو جاتے ہیں ۔میر واعظ نے کہا کہ ہماری ذات کے علاوہ ہمارا سماج اور ہمارا معاشرہ جو آج کل شدید ترین خرافات کی زد میں آچکا ہے ہماری خصوصی توجہ کا مستحق ہے اور اگر ہماری سماجی اور معاشرتی زندگی سنور جاتی ہے تو سماج سے برائیاں خود بخود ختم ہو جائیں گی ۔انہوں نے کہا کہ سماج اور قوم کو درپیش گوناگوں مسائل اور چیلنجز کے علاوہ من حیث القوم آج ہم جن حالات سے دوچار ہیں ان پر نماز جمعہ کے موقعہ پر اپنے وعظ و تبلیغ کے دوران مرکزی جامع مسجد سرینگر میں اظہار خیال کرتا رہتا ہوں لہٰذا ہماری ملی اور قومی اجتماعیت کا تقاضا ہے کہ لوگ اس دن جوق در جوق مرکزی جامع مسجدسرینگر کا رخ کریں تاکہ وہ موجودہ صورتحال کے حوالے سے آگاہی حاصل کرسکیں اور اس کو اپنی حد تک محدود رکھنے کے بجائے دوسروں کو بھی حالات وواقعات سے باخبر کرنے کا ملی فریضہ انجام دیں کیونکہ جن نامساعد حالات سے آج کشمیری عوام دوچار ہے ان کا تقاضا ہے کہ ہم لوگ ہر سطح پر بھر پور ملی وحدت اور اجتماعیت کا مظاہرہ کریں۔

Comments are closed.